Apr 092018
 

حکومتی ’’بڑے‘‘ آئی ڈی پیز کے نام پر بیرونی امداد کے اربوں روپے ڈکار چکے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہمارے عدم تشدد کے فلسفے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،پختونوں کے مزید جنازے برداشت نہیں کریں گے راؤ انوار پختونوں کا قاتل ہے اسے اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65تاروجبہ میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اپنی تقریر کے دوران میاں افتخار انتہائی جذباتی اور پختونوں کے آئے روز قتل عام پر آبدیدہ ہو گئے، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ایک طویل عرصہ سے کیمپوں میں پڑے ہیں لیکن ان کا پرسان حال نہیں ، حکومتی بڑے ان قبائلیوں کے سروں پر بیرونی امداد ہتھیا کر اس پر قابض ہیں جبکہ ان بے گھر لوگوں کو کچھ نہیں دیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے غریب آئی ڈی پیز کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام آئی ڈی پیز کی جلد اور باعزت واپسی کا انتظام کیا جائے ، ان کے تباہ شدہ گھر سکول ہسپتال تعمیر کئے جائیں ، فاٹا سے مائنز کا صفایا جائے اور قبائل کو صوبے میں ضم کر کے اسے صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ کابینہ میں بھی نمائندگی دی جائے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ آپریشن کے دوران بے دخل ہونے والے قبائلیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ اور ان ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر انہیں مالی امداد دی جائے،اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ کچھ اور أوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گے جو بلا شبہ حکومت کے حق میں نہیں ہونگی، انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کو حصہ نہیں دیا جا رہا ، سی پیک پختونوں کیلئے معاشی انقلاب ہے لیکن حکومت نے پختونوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی ترک نہ کی اور مغربی اکنامک کوریڈور ہمیں نہیں دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ ہم چین کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں البتہ پختونوں کے حقوق پر سودے بازی نہیں برداشت کریں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کارخانے لگنے سے یہاں بے روزگاری کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ نقصان اٹھانا پرا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں حکومت نہیں بلکہ جہاد کیا ہے اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی ، اگر ہم جانوں کا نذرانہ نہ دیتے تو آج نہ صدر ہوتا نہ وزیر اعظم اور نہ ہی یہ ملک ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری قربانیوں کو فراموش کرنے کی پالیسی جاری ہے،انہوں نے کہا کہ ہم مزید پختونوں کے جنازے برداشت نہیں کریں گے،نقیب اللہ کے بعد اس کی دو مزید ساتھی مار دئے گئے جبکہ بارانی یونیورسٹی میں کامران یوسفزئی کو شہید کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں سے ہمیں جنازے بیجھے جا رہے ہیں جبکہ شناختی کارڈ بھی پختونوں کے بلاک کئے جا رہے ہیں ان سے شناخت چھینی جا رہی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ راؤ انوار پختونوں کا قاتل ہے اور ہم اپنے بچوں کے خون کے بدلے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، راؤ انوار اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور ہماری خاموشی اور شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اور پختونوں کے حوالے سے مرکزی حکومت اور تمام اداروں نے صورتحال کا ادراک نہ کیا تو بہر دیر ہو جائے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']