Feb 122018
 

راؤا نوار کے دوران روپوشی قتل ہونے کا خدشہ ہے تا کہ راز راز ہی رہے میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونخوا میں کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور حکومت عوام کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جائے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مرحوم اجمل خٹک کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، تقریب کی صدارت اے این پی کے سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ نے کی جبکہ اس موقع پر پشتو کے نامور ادبا اور شعراء نے اپنے مقالے اور کلام کے ذریعے اجمل خٹک کو خراج عقیدت پیش کیا، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں اجمل خٹک مرحوم کی ادبی ، فنی اور سیاسی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اجمل خٹک ملک بھر سمیت بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے،سیاسی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان ، کوہاٹ، خوشمقام ، اور مرادن میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات قابل مذمت ہیں تاہم اس حوالے سے حکومتی غیر سنجیدگی بھی قابل افسوس ہے ، انہوں نے کہا کہ جو حکومت تحفظ فراہم نہ کر سکے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی بیٹیاں بھی ہماری اپنی بیٹیاں ہیں اور زیادتی جہاں بھی ہو گی اے این پی اس کا راستہ روکے گی، یہ دہشت گردی کی ایک نئی شکل ہے اور عوام کو خوفزدہ کرنے کیلئے یہ سازش کی جا رہی ہے ، نقیب اللہ شہید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں پختونوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ راؤ انوار کو اس کے نیٹ ورک سمیت گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جا سکے،دہشت گردی پختونوں پر مسلط کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دوران روپوشی راؤ انوار مارا بھی جا سکتا ہے تاکہ راز پر سے کبھی پردہ نہ اٹھ سکے لہٰذا اس کی گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے ،انہوں نے کہا کہ پختونوں پر ملک میں زمین تنگ نہ کی جائے اور اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کر کے نقیب اللہ کو انصاف فراہم کیا جائے بصورت دیگر اے این پی ان کے شانہ بشانہ تحریک چلائے گی، ملک کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے کی صورتحال ٹھیک نہیں روس چین اور امریکہ نے ذاتی مفادات کی خاطر ہمارے خطے کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے جبکہ پاکستان ہندوستان اور ایران بھی ایٹمی طاقت کے طور پر یہاں موجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو اس کے نتیجے میں خوفناک تباہی سامنے آ سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو صورتحال کا ادراک کرنا چاہئے اور اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنانی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے افغان جہاد کو امریکہ اور روس کی جنگ کہا تھا اور واضح کیا تھا کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں ، انہوں نے تمام پختونو پر زور دیا کہ اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کیلئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہوجائیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']