Jan 132018
 

سپریم کورٹ اورپشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانا خوش آئند اقدام ہے، میاں افتخار حسین

* فاٹا انضمام کی طرف یہ پہلامثبت قدم ہے مگرفاٹا کو جلد از جلدمکمل طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ناکام ترین حکومت ہے، اگر ہم منظم طریقے سے کام کریں گے تو آنے والا وقت اے این پی کا ہے۔ 28جنوری کو تاریخی جلسہ منعقد کریں گے۔اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی، سپریم کورٹ اورپشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانا خوش آئند اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 28 جنوری کو باچا خان اور ولی خان کی برسی کے حوالے سے پبی خانشیر گڑھحاجی ذوالفقار علی بھٹو کے حجرے میں پی کے12کی یونین کونسلوں کے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت زرعلی خان کر رہے تھے۔ اجلاس میں عہدیداوں نے بھرپور شرکت کی جس میں برسی کے لیے ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ میاں افتخار حسین نے تمام عہدیداران اور کارکنوں کو منظم اجلاس منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ 28جنوری کو تاریخی جلسہ منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب ہیں، عوام صوبائی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت ناکام ترین حکومت ہے، اگر ہم منظم طریقے سے کام کریں گے تو آنے والا وقت اے این پی کا ہے۔ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت کے خلاف سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیا،کیونکہ اسمبلی کے اندر تبدیلی ایک جمہوری عمل ہے، البتہ اگر کسی غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اے این پی اس عمل کی بھرپورمزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی اسمبلی توڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سندھ میں بھی اسمبلی ٹوٹنے کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ اورپشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانا خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ فاٹا انضمام کی طرف یہ پہلامثبت قدم ہے مگریہ ابتدء ہے، یہ عمل تب مکمل ہوگا جب فاٹا کو مکمل طور پر پختونخوا میں ضم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو صوبے میں جلد ازجلد ضم کرنا چاہئے۔انہوں نے ایک بار پھر عہدیداران اور کارکنوں کو منظم اجلاس منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہنا چاہئے اور انہیں راستہ دینا چاہئے کیونکہ اسی میں ہی پارٹی کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے اور نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کا فلسفہ بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا، لہٰذا پختونوں کو صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']