Jan 112018
 

میاں مشتاق کی برسی

نواز عمران دونوں لاڈلے ہیں ،کپتان کی قسمت میں وزارت عظمی نہیں ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کا ساتھ اس لئے دیا تاکہ غیر جمہوری عمل کو روکا جا سکے ،اسمبلی کے اندر جمہوری عمل کے ذ ریعے اقتدار کی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں البتہ کسی غیر جمہوری عمل کا ساتھ نہیں دینگے، اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی اسمبلی توڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سندھ میں بھی اسمبلی ٹوٹنے کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ 126روزہ دھرنے کے دوران جب امپائر نے انگلی نہیں اٹھائی تو عمران خان پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان مرکز میں اے این پی ضلع پشاور کے زیراہتمام میاں مشتاق شہید، گل رحمان کاکا اور ندیم شہید کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ، ہارون بشیر بلور اور دیگر رہنماء تقریب میں موجود تھے۔ میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں میاں مشتاق احمد شہید اور ان کے ساتھیوں کی زندگیوں پر روشنی ڈالی اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں نے بھری پڑی ہے اور آج کے اس عظیم دن پر یہ عزم کرنا ہوگا کہ سب کو مل کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی ، انہوں نے دنیا بھر میں پختونوں کو ایک شناخت دی اور ان کا نام روشن کیا جبکہ اپنی سوچ فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کا فلسفہ بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا ،لہٰذا پختونوں کو صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ ولی خان جمہوریت کے علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا،میاں افتخار حسین نے کہاکہ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور جمہوریت کے خلاف سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سمجھ جانا چاہئے کہ ان کی قسمت میں وزارت عظمیٰ ہے ہی نہیں۔ تمام اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی لاڈلے ہیں اب ایک لاڈلا پرانا ہو چکا ہے اس لئے نیا لاڈلا بنا لیا گیا ہے ، تاہم وزرت عظمی مذاق نہیں جو انہیں طشتری میں رکھ کر پیش کر دی جائے۔ میاں افتخار حسین نے قصور میں ننھی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ان تمام واقعات کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انہیں عبرتناک سزا دی جائے۔
خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں پختون بیلٹ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ، لہٰذا اب بہت خون بہہ چکا ہے اور اس کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفاد کی بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ری وزٹ کریں ، اور دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات خود پاکستان کے مفاد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی افہام و تفہیم سے اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہئے ، گزشتہ دنوں مذاکرات کے حوالے سے باز گشت سنائی دی تاہم ابھی تک اس پر کوئی پیپش رفت نہیں ہوئی ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے میں تین سپرپاورز امریکہ ، چین اور روس اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں جبکہ تین ایٹمی طاقتیں پاکستان ایران اور بھارت کے بھی تعلقات ایک دوسرے سے کشیدہ ہیں ایسے موقع پر ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام ممالک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کریں ،اور سپرپاورز اس خطے پر اپنے مفادات کی جنگ مسلط نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کی ذمہ داری آج کے پالیسی سازوں پر عائد ہو گی۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو یاد رکھنا چاہئے کہ جن ڈالرز کا وہ ذکر کر رہے ہیں امریکہ نے وہ رقم ضیاء4 الحق کو دی تھی جس کی پالیسیاں ملک کے مفاد میں نہیں تھیں۔ بجائے اس کے کہ امریکی صدر اپنے ڈالروں کا حساب مانگے قوم کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے حساب لیں کہ جس طرح اس نے ڈکٹیٹروں کے ساتھ مل کر ہمارے خطے کو نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہو ئیں اور خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹرمپ کی جارحانہ اور اشتعال انگیز رویئے کی مذمت کرتے ہیں تا ہم وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں ازسرنو ترتیب دیں اور انہیں سپرپاورز کی بجائے قومی مفاد کو پیشنظررکھ کر بنائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب روس افغانستان میں داخل ہوا تو لوگوں نے کفر کے فتویٰ لگائے لیکن وہی روس آج گوادر میں بیٹھا ہے لہٰذا یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں بلکہ مفادات کی جنگ تھی اور تمام سپر پاورز نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس خطے کو استعمال کیا۔ انہوں نے بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط اور اسے امریکی اشیرباد کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو اسرائیلی دارالخلافہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب اسرائیل نے بیت المقدس پر حملہ اور قبضہ کرنا چاہا اس وقت لوگ ہمارے خطے میں جہاد پر نکل پڑے، یہی جہاد اگر اس وقت فلسطین میں کیا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ٹرمپ کے رویئے سے دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانوں کو ٹھیس پہنچی اور بحیثیت مسلمان اور انسان کوئی بھی ایسے رویوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']