Jan 092018
 

پرویز خٹک کا لب و لہجہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے شایان شان نہیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں گند پھیلانے والے در حقیقت وزیر اعلیٰ خود ہیں ، اے این پی پر گند پھیلانے کا الزام لگانے والے خود ساڑھے چار سال تک اسی حکومت کا حصہ رہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے تارو میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ سے درجنوں افراد مستعفی ہو کر اے این پی میں شامل ہو گئے ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عوام کی پارٹی میں آئے روز شمولیت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لوگ صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہیلتھ اور ایجوکیشن کی طرح باقی تمام محکمے بھی زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے جو رویہ اپنا یا ہوا ہے وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے شایان شان نہیں ، لوگوں کو اشتعال دلا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے ، صوبے میں رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے جبکہ یوتھ کا نعرہ لگا کر نوجوان نسل کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود کو صرف سوشل میڈیا کے ذریعے زندہ رکھا ہوا ہے تاہم حقیقت میں موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن انتہائی منظم تنظیم ہے اور اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور یوتھ لیگ قائم کی اور این وائی او پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور سیاسی ونظریاتی تجربہ حاصل کر کے بہترین کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جن میں سے کل کے رہنما اور سیاسی قائدین نکلیں گے،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہے لہٰذا دوسروں کو قائل کرنے کیلئے دلیل اور علم کے ذریعے بات کریں، انہوں نے کہا کہ رہبر تحریک خان عبدالولی خان جمہوریت کے علمبردار تھے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جمہوریت کی بقاء کیلئے کوششیں کرنا ہمارا مشن ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے کبھی کسی غیر جمہوری قوت کا ساتھ نہیں دیا ، اور آج بھی ملک میں جمہوریت کی بقاء کیلئے اپنی تئیں کوششیں کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک میں عوامی رائے کا احترام سب پر لازم ہے اور وہی فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے جو عوام کی اکثریت کا فیصلہ ہو۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']