Jan 082018
 

حکمرانوں کے بہتان تراشی کا سلسلہ بہت پرانا ہے،کارکن ان کے نازیبا انداز بیان پر کوئی توجہ نہ دیں، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کہا ہے کہ 2018ء اے این پی کے الیکشن کا سال ہے، 2013ء میں ایک منظم سازش اور کوشش کے تحت پارٹی کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سہاروں کے بنیاد پر اقتدار میں آنے والے کس منہ سے پارٹی پر الزامات لگا رہے ہیں۔ ہم نے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی خدمت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اے این پی کی عوام میں مقبولیت اور قوت سے حائف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ان کے دماغ پر اے این پی سوار ہوچکی ہے اور انہیں معلوم ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں سہاروں کی حمایت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک عوامی قوت ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے جسے ماننے کے لیے مخالفین ذہنی طور پر تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معلوم ہے کہ ان کی حقوق اور بقاء کی جنگ میں پارٹیوں کا کیسا کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے عہدیدار اور کارکن پارٹی کا نظریاتی اثاثہ ہیں اور پارٹی عوامی خدمت اور نظریاتی ہتھیار کے بل بوتے پر آئندہ انتخابات میں بھرپور قوت کے ساتھ اُبھرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزراء آئندہ انتخابات کے لیے مسلسل ووٹوں کے تلاش میں ہے اور انہیں شکست کوئی نہیں بچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو مزید نعروں اور جھوٹے وعدوں سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ حکمران صبح و شام اے این پی پر الزامات لگانے کا ورد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے اور بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے، صرف گالیوں اور الزامات کے بل بوتے پر سیاسی طور پر اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکن منظم اور متحرک انداز میں پارٹی کا پیغام آگے پہنچانے میں مصروف عمل رہیں اور غیرسنجیدہ حکمرانوں کے فرسودہ اور نازیبا انداز بیان پر کوئی توجہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام باخبر ہیں کہ پارٹی اور پارٹی مشران پر الزامات اور بہتان تراشی کا یہ سلسلہ بہت پرانا اور بے عمل ہو چکا ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']