Jan 052018
 

جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں،بلوچستان اسمبلی توڑنے کے پیچھے سازش کارفرما ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جمہوریت کو سنگین خطرات درپیش ہیں اور ذاتی مفادات کے لیے اپنے نظریات کو قربان کرنے والے جمہوریت اور سیاست کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی برسی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کی دعوت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تقریب میں شرکت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میرے بیٹے راشد شہید کی برسی کے موقع پر مرحوم قاضی حسین احمد کے فرزند خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے قاضی حسین احمد کی زندگی پر روشنی ڈالی اور انہوں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے سپاہی اور اپنے نظریات پر ہمیشہ سے قائم ہیں کیونکہ اپنے نظرئیے اور اپنی جماعت کے ساتھ مخلص ہونا ہی بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اپنے نظریات اور پارٹی کے ساتھ مخلص ہو قابل احترام ہیں لہٰذا ہمیں فکری، شعوری اور نظریاتی لوگوں کی قدر کرنی چاہئے۔ باچا خان اور ولی خان کے نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ہمیں ان کا سپاہی ہونے اور اپنی پارٹی پر فخر ہے۔ ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی جمہوریت کا پیغام دینے والوں کے ساتھ ہے۔ بزور طاقت حکومتوں پر قبضہ کرنے اور تشدد کے ذریعے اقتدار ہتھیانے والوں کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ عوام کی اکثریت جسے منتخب کرے وہی اقتدار کا اصل حقدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی اسمبلی توڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سندھ میں بھی اسمبلی ٹوٹنے کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ جمہوریت ڈی ریل کرنے اور آمریت کا ساتھ دینے والے کسی صورت ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی صدر کا لب و لہجہ ملک کی مفاد میں نہیں۔ ٹرمپ جب سے اقتدار میں آیا ہے جارحیت اور اشتعال انگیزی کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملک کے حالات گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو یاد رکھنا چاہئے کہ جن ڈالرز کا وہ ذکر کر رہے ہیں امریکہ نے وہ رقم ضیاء الحق کو دی تھی جس کی پالیسیاں ملک کے مفاد میں نہیں تھیں۔ بجائے اس کے کہ امریکی صدر اپنے ڈالروں کا حساب مانگے قوم کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے حساب لیں کہ جس طرح اس نے ڈکٹیٹروں کے ساتھ مل کر ہمارے خطے کو نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہو ئیں اور خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹرمپ کے جارحانہ اور اشتعال انگیز رویئے کی مذمت کرتے ہیں تا ہم وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں ازسرنو ترتیب دیں اور انہیں سپرپاورز کی بجائے قومی مفاد کو پیشنظررکھ کر بنائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب روس افغانستان میں داخل ہوا تو لوگوں نے کفر کے فتویٰ لگائے لیکن وہی روس آج گوادر میں بیٹھا ہے لہٰذا یہ اسلام اور کفر کی جنگ نہیں بلکہ مفادات کی جنگ تھی اور تمام سپر پاورز نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس خطے کو استعمال کیا۔ انہوں نے بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط اور اسے امریکی اشیرباد کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو اسرائیلی دارالخلافہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب اسرائیل نے بیت المقدس پر حملہ اور قبضہ کرنا چاہا اس وقت لوگ ہمارے خطے میں جہاد پر نکل پڑے، یہی جہاد اگر اس وقت فلسطین میں کیا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ٹرمپ کے رویئے سے دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانوں کو ٹھیس پہنچی اور بحیثیت مسلمان اور انسان کوئی بھی ایسے رویوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ اخر میں انہوں نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ سب کو مل کر جمہوریت کے مخالفین کا راستہ روکنا ہوگا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']