Jan 032018
 

پوائنٹ سکورنگ کرنے والے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے قبائلی عوام کا کندھا استعمال نہ کریں، زاہد خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے کہا ہے کہ، فاٹا کے نام پر پوائنٹ سکورنگ کرنے والے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے قبائلی عوام کا کندھا استعمال نہ کریں ، محمود خان اچکززئی کے فاٹا بارے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک جانب محمود خان اچکزئی بلوچستان میں سی پیک پر پشتونوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب قبائل کو پختونوں کے ساتھ شامل کرنے پر مخالفت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کا ڈبل سٹینڈرڈ ہے اور یا پھر وہ کنفیوز ہیں۔انہوں نے استفسار کیاکہ قبائل اگر آزاد تھے تو پھرانہیں گورنر اور پولیٹکل ایجنٹ کے زیر اثر کیونکر رکھا گیا؟ زاہد خان نے کہا کہ ہم قبائلی عوام کو پشتونوں کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی پشتونوں کو تقسیم کرناچاہتے ہیں اور اسی مقصد کیلئے وہ پشتونوں کے اتحاد میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ چترال تا بولان پشتونوں کی یکجہتی کی باتیں کرنے والے قبائلی عوام سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اور صرف اپنے بھائی کی گورنری اور دیگر رشتہ داروں کی اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کا حق ادا کرنے کیلئے وفاقی حکومت کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا فاٹا سے دور کا بھی واسطہ نہیں وہ اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے قبائلی عوام کے حقوق پر سودے بازی کے مرتکب ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ دکھائی ایسا دے رہا کہ محمود خان نے پنجاب میں مک مکا کیا ہوا ہے شاید اسی لئے اب وہ بلوچستان حکومت کو بچانے کیلئے بھی میدان میں آنا چاہتے ہیں۔ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں بشمول عسکری قیادت فاٹا کے صوبے میں انضمام پر متفق ہیں ، البتہ مولانا اور محمود خان اچکزئی کے اپنے مفادات ہیں جن کیلئے وہ قبائلی عوام کے مین سٹریم میں شامل ہونے کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں،،انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنے اس مؤقف پر قائم رہے گی کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']