Dec 072017
 

بیت المقدس پر اسرائیلی تسلط کا اعلان مشرق وسطی سمیت عالم اسلام کیلئے خطرہ ہے، میاں افتخار حسین

اسلام آباد ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے فاٹا کو صوبے میں فوری انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے۔اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لےے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہےں حکومت ان پر فوری عمل درآمد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ 2018ئ کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لےے راہ ہموار ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پردہ باغ پشاور میں جے یو آئی (س) کی جانب سے بلائے گئے قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے اس اہم ایشو پر دعوت دینے پر مولانا سمیع الحق کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی فاٹا انضمام کے حوالے سے اے پی سی منعقد کر چکی ہے جس میں مولانا سمیع الحق نے بھرپور مؤقف پیش کیا اور اے این پی کے مؤقف کی تائید بھی کی ، انہوں نے کہا کہ انگریز نے ملک فتح کیا اور اپنا قانون ایف سی آر لاگو کیا البتہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد اور انگریز کے یہاں سے جانے کے بعد اس کے کالے قانون کا کیا جواز باقی رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انفرادی دہشت گردی کے واقعات بلا شبہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ البتہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر فاٹا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد بلوچستان کے پختونوں کو یکجا کرنے کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں شمالی و جنوبی پختونخوا کے درمیان پختونوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کا خاتمہ کرکے تمام پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ کوئی بھی ایسا سیاسی مسئلہ نہیں جس کا مذاکرات کے ذریعے حل ممکن نہ ہو۔ لہٰذا فاٹا اصلاحات پر اختلاف رکھنے والی جماعتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اسے صوبے میں ضم کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ واحد راستہ یہی ہے کہ 2018ئ کے الیکشن سے قبل قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کی اکثریت انضمام کے حق میں ہیں۔ لہٰذا اس میں اگر مگر کی پالیسی اختیار کرنے سے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم فاٹا انضمام کے حق میں ہے لیکن نواز شریف نے صرف دو افراد کی خاطر تمام قبائلی عوام کی امنگوں کا خون کر دیا اور معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کا تو پتہ نہیں البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ پختونوں کی یک جہتی اور وحدت کے نعرے لگانے والے محمود خان اچکزئی کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے اور اس کا دائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھا کر صوبائی اسمبلی میں واضح نمائندگی دینے کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ میں بھی انہیں نمائندگی دی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ انگریز کو یہاں سے گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا کالا قانون آج بھی قبائلی عوام پر مسلط ہے ، انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی وحدت کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوں گے۔ملک کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئےءانہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی صورتحال غےر سنجیدہ ہے۔ پاکستان کے چار میں سے تےن ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں لہٰذا پالیسیوں کا ازسرنو تعین کیا جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائی جائےں۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ اعلان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کا اعلان جارحیت کی انتہا ہے اے این پی نے ہمیشہ دنیا بھر میں آزادی کی چلنے والی تحریکوں کی حمایت کی اور آج بھی کرتی ہے ، امریکی صدر کے اعلان سے مشرق وسظی پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے اسرائیلی تسلط میں دینے کے خطرناک نتائج نکلیں گے ، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا حالیہ اعلان مشرق وسطی سمیت عالم اسلام کیلئے خطرہ ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر بیت المقدس اور فلسطینیوں کی آزادی برقرار رہتی تو آج امریکہ اس قسم کے اعلان کی جرا¿ت نہ کرتا ،انہوں نے کہا کہ جب اے این پی نے زور دیا کہ فلسظینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرنی چاہئے اس وقت کسی نے ایک نہ سنی ،آج جس ظلم اور جارحیت کی انتہا کی گئی ہے اور اپنے ہی لوگوں کی غفلت کا نتیجہ ہے ، اگر اس وقت فلسظینیوں کا ساتھ دیا جاتا تو خطے میں اسرائیل کا اثرورسوخ قائم نہ ہو سکتا لیکن امریکہ اس کی بیک پر تھا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سب کو موجودہ نازک صورتحال کا ادراک کر کے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']