Nov 302017
 

فاٹا انضمام میں بلاجواز تاخیر سے معاملات تباہی کی جانب جائیںگے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر عملدرآمد میں کونسی رکاوٹیں حائل ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں فاٹا اصلاحات اور اس کے صوبے میں انضمام کے موضوع پر نعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اے این پی کی مرکزی نائب صدر بشری گوہر اور دیگر اہم رہنما بھی تقریب میں موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ءکی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے یہ گیم صرف اس لئے کھیلی گئی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی یک جہتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں کرنے والے نام نہاد لیڈر اپنے صوبے کے عوام کو متحد ہونے نہیں دے رہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والے پختونوں کی یک جہتی اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سی پیک پر پختونوں کو دھوکہ دیا اور اسی کی بدولت انہیں پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں، انہوں نے کہا کہ پوری قوم فاٹا انضمام کے حق میں ہے لیکن نواز شریف نے صرف دو افراد کی خاطر تمام قبائلی عوام کی امنگوں کا خون کر دیا اور معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کا تو پتہ نہیں البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ پختونوں کی یک جہتی اور وحدت کے نعرے لگانے والے محمود خان اچکزئی کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے اور اس کا دائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھا کر صوبائی اسمبلی میں واضح نمائندگی دی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ انگریز کو یہاں سے گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا کالا قانون آج بھی قبائلی عوام پر مسلط ہے ، انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی وحدت کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوں گے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']