Nov 272017
 

پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں، میاں افتخار حسین

* اے این پی کا گراف بلندیوں کو چھو رہا ہے، خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، لورا لائی میں تاریخی جلسہ عام سے خطاب 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر اس عزم کا عادہ کیا ہے کہ جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے اور پاکستان میں بشری حقوق کے تحفظ کیلئے جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے دور افتادہ علاقے لورا لائی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، عوام کے جم غفیر نے جلسہ میں شرکت کی اور لورا لائی کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا جلسہ تھا ، میاں افتخار حسین نے اپنے تاریخی خطاب میں جلسہ میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صورتحال سے واضح ہے کہ اے این پی کا گراف انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اے این پی بلوچستان سے بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی،میاں افتخار حسین کے جذباتی خطاب سے ہر آنکھ پر نم تھی ، انہوں نے کہا کہ امن محبت اور بھائی چارہ ہمارا مشن ہے اور اسی مقصد کیلئے اے این پی ہمیشہ میدان میں رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے۔ جو لوگ قبل از وقت انتخابات کی بات کر رہے ہیں وہ جمہوریت دشمن عناصر ہیں اور جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں،تاہم اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو یہ عناصر بھی متاثر ہونگے،جمہوریت کی قیمت پر وزارت عظمی کا خواب دیکھنے والوں کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی، میاں افتخار حسین نے ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ کی طرح جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، ڈکٹیٹر شپ کو نہیں مانتے،اے این پی نے کبھی بھی ڈکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیا ، سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سی پیک پر پختونوں کو دھوکہ دیا اور اسی کی بدولت انہیں پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں ، مغربی اکنامک کوریڈور پختونوں کی معاشی ترقی کا منصوبہ تھا جسے سابق وزیر اعظم نے غصب کر کے پختونخوا کو صرف ایک سڑک تک محدود کر دیا اور تمام وسائل پنجاب کیلئے خرچ کر ڈالے،انہوں نے کہا کہ سی پیک پر تحفظات تاحال موجود ہیں اور اس معاملے پر اے این پی اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پوری قوم فاٹا انضمام کے حق میں ہے لیکن نواز شریف نے صرف دو افراد کی خاطر تمام قبائلی عوام کی امنگوں کا خون کر دیا اور معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کا تو پتہ نہیں البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ پختونوں کی یک جہتی اور وحدت کے نعرے لگانے والے محمود خان اچکزئی کیوں مخالفت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے اور اس کا دائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھا کر صوبائی اسمبلی میں واضح نمائندگی دی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ انگریز کو یہاں سے گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا کالا قانون آج بھی قبائلی عوام پر مسلط ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا ، انہوں نے کہا کہ کہ پشتونوں کی وحدت کی مخالفت کرنے والے ناکام ہوں گے، دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تشدد سے کبھی معاملات حل نہیں ہوتے ،بلکہ ان میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے، بلوچستان حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، آئے روز بے گناہ انسانوں کی لاشیں گرائی جا رہی ہیں اور پورے صوبے میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب سمیت مرکزی حکومت دہشتگردوں کی حامی اور دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہے ہیں جس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سپر پاورز نے خطے کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے مسکن بنایا ہوا ہے ، انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطے میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ان حالات میں پاکستان اور افغانستان کو نازک صورتحال کا ادراک کرنا ہو گا اور اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنانی ہو نگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کے کاتمے کیلئے مذاکرات اور بات چیت اہم ترین آپشن ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں۔
جلسہ سے بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی ،انجینئر زمرک اچکزئی، صوبائی جنرل سیکرٹری نظام الدین کاکڑ، سینئر نائب صدر ارباب عمر فاروق کاسی، ضلع لورالائی کے صدربسم اللہ لونی، ڈاکٹر عیسیٰ خان، گنو خان غلزئی، مابت کاکا نے بھی خطاب کیا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']