Nov 242017
 

مردان میں بھوک ہڑتالی کیمپ

آئین کی بالادستی اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ وکلاء ریاست کا اہم ستون ہیں اور آئین کی بالادستی ، جمہوریت کی بقا اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار مسلمہ ہے ، حکومت وکلا کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسیشن کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار تمام مکتبہ فکر کے لوگ سڑکوں پر ہیں اور صوبائی حکومت کی نا تجربہ کاری اور غیر سنجیدگی کے باعث وکلا بھی اپنے مسائل کے حل کیلئے بھوک ہڑتال پر ہیں،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر ، شہداء پیکج اور گرانٹ کا اعلان کیا گیا تاہم عرصہ گزرنے کے باوجود ان نعروں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ،انہوں نے کہا کہ عوام کو ساڑھے چار سال صرف بے وقوف بنایا گیا اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے اقتدار میں آنے والے کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکے، انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں پارٹی کی حیثیت سے کم لیکن مردان کے ایک فرد کی حیثیت سے آیا ہوں، یہ صرف وکلاء کا مسئلہ نہیں بلکہ مردان کے عوام کا مسئلہ ہے۔اور میں آپ کے ان جائز مسائل میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ 
انہوں نے کہا کہ وکلا نے مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف سڑکوں پر آ کر اس کی ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ کیا اور جمہوریت کو بحال کرنے میں نمایا ں کردارادا کیا ہے حکومت نے جو وعدے کیے ہیں وہ وہ پورے کرے،اور مردان کے عوام کیلئے پارک کی متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے ۔صوبائی صدر نے اپنے دور میں مردان پارک کیلئے خریدی گئی300کنال اراضی دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ پختونخوا حکومت کی ملکیت ہے، جس کی چاردیواری مکمل ہے، سٹرکچر تیار ہے، جس کی فیزیبلٹی ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ مسئلہ پارک کی تعمیر کا نہیں بلکہ بد نیتی پر مبنی ہے ، حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے ، انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں میٹرو کا افتتاح کر دیا گیا ، مردان پارک کیلئے جلد بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے لیکن وزیر اعلیٰ اسمبلیاں توڑنے کے حق میں ہیں ، اگر اسمبلیاں توڑنی ہیں تو منصوبے کیوں شروع کئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جوڈیشنل کمپلیکس کی ضرورت ہے، اب یہ فیصلہ کرنا کہ کس طرح بننا ہے اور کہاں بننا ہے، یہ فیصلہ میں وکلاء پر چھوڑ دیتا ہوں، یہ فیصلہ بینچ کو کرنا چاہئے، وکلاء کر نا چاہئے، یہ فیصلہ جوڈیشنری کو کرنا چاہئے، بجائے اس کے کہ کوئی سیاسی اہلکار اس کا فیصلہ کرے ، یہ فیصلہ ان لوگوں کو کرنا چاہئے جو اس کے ساتھ منسلک ہیں۔ انہوں نے وکلا برادری کو اپنے بھرپور تعاون کایقین دلایا اور کہا کہ اے این پی تمام مسائل میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی،

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']