Nov 182017
 

اتمانزئی جلسہ

پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے،کپتان نے گالی کی سیاست کو فروغ دیا،اسفندیار ولی خان 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پنجاب کو پاکستان اور پاکستان کو پنجاب تصور کرنے کا تاثر ختم ہو نا چاہئے ،خاقان عباسی فاٹا ، پختونخوا سندھ اور بلوچستان کے بھی وزیر اعظم ہیں، سی پیک اور فاٹا پر ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے اور مغربی اکنامک کوریڈور کے نام پر ہمیں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے18اتمانزئی چارسدہ میں ایک بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے بھی کنونشن سے خطاب کیا جبکہ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان سمیت تمام صوبائی و مرکزی قائدین اس موقع پر موجود تھے۔

اسفندیار ولی خان نے عمران خان کے مطالبے اور ان کی طرز سیاست کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر نے ساری حدیں پار کرکے سیاست سے شائستگی ختم کردی ہے اور گالیوں کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے ،انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کا سربراہ سیاست کی الف ب نہیں جانتا وہ اپنے کارکنوں کو کیا سبق دے گا ، تمام سیاسی رہنماؤں کو گالیاں دینے والا کپتان ملکی سیاست میں ایک افسوسناک اضافہ ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن عروج پر ہے اور جو وزیر کسی پر الزام لگائے اسے پارٹی سے فارغ کر دیا جاتا ہے ، عائشہ گلالئی کے بعد اب داور کنڈی کو بھی پارٹی سے فارغ کر دیا گیا اگر کپتان سچا ہے تو اپنا موبائیل تحقیقات کیلئے پیش کر دے،انہوں نے کہا کہ باقی لوگوں میں وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس جبکہ ہم سرخ پوش کارکنوں کوباچا خان کا نظریہ ورثے میں ملتا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے ماضی میں جب باچا خان اور ولی خان نے کہا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے جبکہ آج پوری دنیا ان کی باتوں کی تقلید کر رہی ہے اور آپریشن رد الفساد کے بعد تو اس بات کو سب سے زیادہ تقویت ملی،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ فاٹا کو فی الفور صوبے میں ضم کیا جائے اور آئندہ الیکشن میں انہیں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بھی دی جائے ، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک ایسی ترمیم بھی لائی جائے جس کے ذریعے صوبائی کابینہ میں فاٹا کے صوبائی وزراء کی تعداد کا تعین ہو ،انہوں نے کہا کہ قبائل کو صوبے کا حصہ بنا کر حقیقت میں انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو انضمام کے ساتھ ساتھدائرہ اختیار پشاور ہائیکورٹ تک بڑھایاجائے ،کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ تک دائرہ اختیار کسی کیلئے بھی قابل قبول نہیں انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کے بعد شمالی اور جنوبی پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنائیں گے جس کے بعد ہماری آبادی پنجاب سے زیادہ ہوگی اور ہم ترقی کریں گے ، فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے صرف دو پشتون رہنماء ہیں جن کے پاس کوئی دلیل اور کوئی منطق نہیں ایک رہنماء انضمام کو امریکی ایجنڈا کہتا ہے اور پھر انضمام کی حامی جماعت کے ساتھ ایم ایم اے کی بحالی چاہتا ہے اور دوسرا سیاسی رہنماء جو پشتونوں کی وحدت کے نعرے لگاتا تھا آج جب پشتونوں کے درمیان لکیریں مٹ رہی ہیں تو یہ ان کی مخالفت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مذہبی اور دوسری قوم پرست جماعت کے رہنما نجانے کیسے انگریز کی کھینچی گئی لکیر کے وارث بن بیٹھے ہیں ،انہوں نے شاہد خاقان عباسی سے درخواست کی سابق وزیراعظم نواز شریف نے سی پیک منصوبے میں ہمارے ساتھ جو وعدے کئے ان کی پاسداری کیلئے اقدامات کریں،ہمیں سی پیک میں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے حالانکہ یہ دہشت گردی سے متاثرہ پختونوں کی ترقی کا منصوبہ مکمل پیکج کی شکل میں ہے ، بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے دیرپا قیام امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل باہم مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے مل جل کر کام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تمام پختونوں کی کامیابی کا راز آپس کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے لہٰذا تمام پختون اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائین انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ الیکشن کیلئے تیاری کریں کیونکہ مستقبل اے این پی کا ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']