Nov 142017
 

چمن جلسہ

چمن (پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے عمران خان کے مطالبے اور ان کی طرز سیاست کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر نے ساری حدیں پار کرکے سیاست سے شائستگی ختم کردی ہے اور گالیوں کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے ، باقی لوگوں میں وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس جبکہ ہم سرخ پوش کارکنوں کو نظریہ ورثے میں ملتا ہے فاٹا کو خیبرپشتونخوا میں شامل کرنے کے بعد پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنائیں گے جس میں ہماری ا?بادی پنجاب سے زیادہ ہوگی اور ہم ترقی کریں گے ، فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے صرف دو پشتون رہنماء ہیں جن کے پاس کوئی دلیل اور کوئی منطق نہیں ایک رہنماء انضمام کو امریکی ایجنڈا کہتا ہے اور پھر انضمام کی حامی جماعت کے ساتھ ایم ایم اے کی بحالی چاہتا ہے اور دوسرا سیاسی رہنماء جو پشتونوں کی وحدت کے نعرے لگاتا تھا آج جب پشتونوں کے درمیان لکیریں مٹ رہی ہیں تو یہ ان کی مخالفت کررہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے سی پیک منصوبے میں ہمارے ساتھ جو وعدے کئے ان کی پاسداری نہیں کی ان کے پشتون اتحادی اس پر خاموش ہیں۔ہمیں اپنی منزل معلوم ہے اور اس کا راستہ فخر افغان باچاخان نے بتادیا ہے۔ وہ پیر کو چمن کے ہائی سکول گراؤنڈ میں شہید حاجی جیلانی خان اچکزئی کی ساتویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ عام سے اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی ، صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ ، ضلع قلعہ عبداللہ کے صدر اسد خان اچکزئی ،تحصیل صدر گل باران افغان ، ڈاکٹر صوفی اکبر کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیا رولی خان نے شہید جیلانی خان اچکزئی کو ان کی ساتویں برسی پر بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید جیلانی خان نے اس وطن کی خاطر قربانی دی اور ہمیں اپنے ان شہداء پر فخر ہے ہمیں اپنی منزل معلوم ہے اور اس کا راستہ فخر افغان باچاخان نے بتایا ہے ہمارا یہ جو سرخ جھنڈا ہے اس کا رنگ ویسے سرخ نہیں ہے بلکہ یہ قصہ خوانی ، بنوں ،ٹکراور بابڑہ سمیت ان تمام پشتون شہداء کے خون سے بنا ہے جو پشتون وطن کے لئے قربانیاں دیں اور شہید ہوئے۔ان میں سب سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں جمعہ نماز کے لئے جانے والوں پر گولیاں برسائی گئیں اور چھ سو لوگوں کو شہید کردیاگیا ہمیں فخر ہے کہ شہداء کی قربانیاں وسیاست اور باچاخان کی فکر و ان کا نظریہ ہمیں ورثے میں ملا ہے۔دوسرے لوگوں کو وراثت میں جائیدادیں اور بینک بیلنس ملتا ہے جبکہ ہمارے سرخ پوش پشتون قوم پرست کارکنوں کو نظریہ ، فکر اورباچاخان کا فلسفہ ورثے میں ملتا ہے،

ا سفندیار ولی خان نے کہا کہ فاٹا کے خیبرپشتونخوا میں انضمام پر موجودہ حکومت نے جو اصلاحاتی کمیٹی بنائی تھی اور کمیٹی نے جو فیصلہ کیا اس پر حکومت سمیت تمام جماعتیں متفق اور سبھی اس کے حامی ہیں مگر دو پشتون سیاسی رہنماء اس کی مخالفت کررہے ہیں اور دونوں نے بغیر کسی دلیل اور منطق کے انضمام کے مخالف ہیں۔انضمام کی مخالفت کرنے والے ایک مذہبی جماعت کا لیڈر کہہ رہا ہے کہ فاٹا خیبرپشتونخوا کے ساتھ انضمام امریکی ایجنڈا اور اس کے حامی امریکہ کے ایجنٹ ہیں اب اس انضمام کی حامی جماعت اسلامی بھی ہے دوسری طرف وہ جماعت اسلامی کے ساتھ ایم ایم اے کو دوبارہ فعال کررہا ہے۔اسی طرح پشتونوں کی اتحاد کی بات کرنے والا ایک اور پشتون سیاسی رہنماء بھی فاٹا کے خیبرپشتونخوا کے ساتھ انضمام کی مخالفت میں کود پڑاہے حالانکہ وہ اور ان کے کارکن بولان تا چترال پشتونوں کو یکجا کرنے کے نعرے لگاتے تھے مگر آج جب پشتونوں کے درمیان لکیریں مٹ رہی ہیں تو یہ ان کی مخالفت کررہے ہیں۔اور پتہ نہیں کہ ان لوگوں کو کب سے انگریز کی میراث کی جنگ ملی ہے۔پشتون قوم کو اب اس پر گہرائی کے ساتھ سوچنا ہوگاگہرائی کے ساتھ پشتون قوم کو غور و فکر کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دراصل فاٹا کے انضمام کی مخالفت کرنے والے اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ فاٹا کے پشتونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد شمالی اور جنوبی پشتونخوا کو متحد کرکے پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنائیں گے۔ پشتونوں کی اسی ملی وحدت سے یہ لوگ خوفزدہ ہیں مگر ہم سب پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہر حال میں فاٹا کا انضمام خیبرپشتونخوا کے ساتھ اور اس کے بعد پشتونوں کی ایک ملی وحدت بنا کر دم لیں گے۔اس ملی وحدت میں ہماری ا?بادی پھر پنجاب سے زیادہ ہوگی ہرچیز میں ہمارا حصہ بڑھے گا اور ہم ترقی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب میں آصف زرداری کے ساتھ حکومت میں اتحادی تھاتو میں نے اپنے باپ داد ا اور پشتونوں کے ارمانوں کی تکمیل کرتے ہوئے پشتونوں کو ان کی قومی شناخت پشتونخوا صوبے کا نام دیا این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو اختیارات دلائے اور پشتونوں کی خدمت کی اب پشتونوں کے حقوق کی دعوے کرنے والا نواز شریف کا اتحادی بتائے کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ اتحاد میں پشتونوں کو کیا دیا۔سی پیک منصوبے میں ہمارے ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف نے وعدے کئے جس میں ڑوب ،قلعہ سیف اللہ ،کچلاک اور کوئٹہ میں چار انڈسٹریل زونز کا قیام بھی شامل تھا اس سے لوگوں کو روزگار ملتا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نواز شریف نے ان وعدوں کی پاسداری نہیں کی اور پشتونوں کو سی پیک منصوبے میں نظر انداز کردیا۔ اور ان سارے معاملات پر نواز شریف کے اتحادی پشتونوں و اسلام کے خیر خواہ دو پشتون رہنماء خاموش ہی رہے اب ان کی اس خاموشی کا پشتون قوم خود ہی اندازہ لگائیں کہ یہ قوم کے کس قدر خیر خواہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں عمران خان نے سیاست سے شائستگی ختم کردی ہے اور گالیوں کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے یہاں پر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سیاسی تنقید کرتی تھیں مگرحدیں کسی نے پار نہیں کیں مگر اب اس کرکٹر نے ساری حدیں پار کردی ہیں مختلف دھرنوں اور نعروں کے بعد اب اس کرکٹر نے وقت سے پہلے انتخابات کی بات کردی ہے یہ سیاستدان ہی نہیں ہیں ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوری طریقے سے جمہوریت کی بات کرتے ہیں انہوں نے ڈاکٹر اکبرکاکڑ کو اے این پی میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے قافلے کے ساتھی تھے ہیں اور رہیں گے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']