Nov 122017
 

عمران خان کے دعوے سمجھ سے بالاتر ہیں، وہ خود اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپر پاورز اپنی مٹی پر جنگ کے لیے تیار نہیں اور افغانستان اور پاکستان کی مٹی کو اس جنگ کے لیے موزوں سمجھتے ہیں،باچا خان بابا کا فلسفہ عدم تشدد بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا،لہٰذا پختونوں کو اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،اے این پی قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کینٹ میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان بابا جیسی دنیا کی عظیم ہستی کے قافلے میں شامل ہونے والے مبارکباد کے مستحق ہیں،کیونکہ باچا خان بابا جیسی ہستی نے اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی اور اپنی سوچ، فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کا فلسفہ عدم تشدد بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا،لہٰذا پختونوں کواپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، انہوں نے بین الاقوامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سپر پاورز اپنی مٹی پر جنگ کے لیے تیار نہیں اور اس کے لیے افغانستان اور پاکستان کی مٹی کو اس جنگ کے لیے موزوں سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگرتیسری جنگ عظیم لڑی گئی تو پوری دنیا میں آب و گیابھی نہ رہے گی انسانیت تو دور کی بات ہے، ان سے بچنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو جنگ سے اجتناب کرنا چاہئے، پاکستان سمیت تمام ملکوں کو اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئیں،انہوں نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد میں بنائے نہ کہ سپر پاورز کی مفاد میں، انہوں نے روس، امریکہ اور چین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سپر پاورز انسانیت کی تباہی ترک کرے اور انہیں چاہئے کہ ثالث کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تیسری جنگ عظیم لڑی گئی تویہی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گی، سپر پاورز کی غلط فہمی ہے کہ وہ اس جنگ میں محفوظ ہونگے، اگر بڑے ممالک فلاح چاہتے ہیں تو انہیں ہمیں اس جنگ سے بچانا ہوگا۔فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو مٹانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی یکجہتی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کی باتیں کرنے والے نام نہاد لیڈر اپنے صوبے کے عوام کو متحد ہونے نہیں دے رہے، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مخالفت کرنے والے پختونوں کی یکجہتی اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دعوے سمجھ سے بالاتر ہیں جبکہ وہ خود اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن کی آمد سے قبل ایک بار پھر عوام کو ورغلانے کیلئے غلط اور جھوٹے دعوے کئے جا رہے ہیں،تعلیمی ایمرجنسی کا پول میٹرک کے نتائج نے کھول دیا جبکہ میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے والوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالیاتی اداروں کے پاس گروی ہے اور صوبے کے معاملات چلانے کیلئے حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا مشکلات میں گھر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے اور پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی گئی جس کا واضح ثبوت سی پیک کا مغربی اکنامک کوریڈور اور فاٹا کا اہم ترین مسئلہ ہے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں کے حقوق غصب کرنے کیلئے ایکا کئے ہوئے تھے ان کے درمیان لڑائی صرف کرسی کیلئے تھی ، لیکن پختونوں کی دہائیوں کی بدولت نواز شریف اس کرسی سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ کپتان کے ہاتھ میں وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈینگی کی روک تھام کیلئے سردیوں کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں جس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حکومت اس سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ کسی معجزے کے انتظار میں ہے، انہوں نے کہا کہ صوبہ بدترین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے، ترقیاتی سکیموں کا نام و نشان تک نہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اے این پی حقیقی ترقی کے عمل کا آغاز کرے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']