Nov 062017
 

چین سی پیک بچانے کے لیے پاک افغان کشیدگی ختم کرائے، اسفندیا ولی خان

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے چین پر زور دیا ہے کہ سی پیک کو بچانے اور خطے میں امن لانے کے لیے پاک افغان کشیدگی ختم کرکے دونوں ملکوں کے مابین ضامن بن جائے بصورت دیگر سی پیک پر دہشت گردی کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی ، مولانا سمیع الحق اور فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل گرینڈ الائنس بنا کر فاٹا انضمام کے لیے تحریک چلائینگے۔ نواز شریف نے پنجاب کو سی پیک سے مالا مال کرکے خیبرپختونخوا اور فاٹا کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے فاٹا کے 80فیصد معدنیات ضائع ہونگی۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی یوتھ جرگے سے خطاب اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اسفندیار ولی خان نے فاٹا انضمام کے حوالے سے یوتھ جرگہ سے تفصیلی مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی نے سب سے پہلے فاٹا انضمام کے حوالے سے آواز اٹھائی اور اس حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جس میں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دی گئی۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وطن عزیز کی 80فیصد معدنیات قبائلی علاقوں میں ہیں مگر سی پیک میں پختونوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی۔ میاں نوازشریف نے فاٹا انضمام کے حوالے سے کمیٹی کے سفارشات کابینہ سے منظور کئے مگر مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے تحفظات پر مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کیا۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تنازعات میں چین کو ثالث اور ضامن کا کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر چین کے اربوں روپے سی پیک منصوبہ کو دہشت گردی کے خطرات لاحق ہونگے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کو فاٹا کی مردم شماری پر شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو اسلام آباد ہائی کورٹ تک رسائی دے کر قبائلیوں کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو فوری طور پر صوبے میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی میں نشستوں کے ساتھ ساتھ کابینہ میں بھی نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے سی پیک پر اعتراضات مسترد کردئیے اور کہا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے موقف میں کوئی وزن نہیں۔ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ اور عوام انضمام کے حامی ہیں تو مولانا فضل الرحمان کو کیا اعتراض ہے؟ انہوں نے کہا کہ 70سال پہلے فاٹا پر انگریز حکمران تھے انگریزوں کے جانے کے بعد فاٹا پاکستان میں شامل ہوا مگر آج بھی فاٹا میں انگریز کا قانون چل رہا ہے اور گریڈ18کا پولیٹیکل ایجنٹ فاٹا کے سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا آزد کشمیر قبائلی عوام کے قربانیوں کی بدولت قائم ہوا۔ 1965ء اور 1971ء کے جنگوں میں فاٹا کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑے مگر آج وطن عزیز میں ان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی ، مولانا سمیع الحق اور فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل گرینڈ الائنس بنا کر فاٹا انضمام کے لیے تحریک چلائینگے جس کے لیے عنقریب دیگر پارٹیوں کے قائدین سے رابطہ کرینگے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']