Nov 032017
 

صوبے کا نام نہاد امن دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں عارضی خاموشی ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار واضح کیا ہے کہ صوبے میں جسے امن کا نام دیا جا رہا ہے وہ دراصل دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہونے والی عارضی خاموشی ہے اور جس دن یہ خاموشی ٹوٹی اس کے انتہائی بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ، موجودہ صوبائی حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے اور یہ واحد حکومت ہے جسے اپنے دور کے تمام بجٹ لیپس ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم آباد ترنگزئی چارسدہ میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، پی کے19سے اے این پی کے امیدوار شکیل بشیر خان عمرزئی نے بھی جلسہ سے خطاب کیا اس موقع پر 120سے زائد سیاسی شخصیات اور کارکنوں نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چارسدہ کو یہ اعزاز حاصل ہے جہاں باچا خان بابا جیسی دنیا کی عظیم ہستی نے جنم لیا ،اور اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی ، انہوں نے دنیا بھر میں پختونوں کو ایک شناخت دی اور ان کا نام روشن کیا جبکہ اپنی سوچ فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کا فلسفہ بلا شبہ محرومیوں کا علاج گردانا جاتا تھا ،لہٰذا پختونوں کو صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں جسے امن کا نام دیا جا رہا ہے وہ دراصل دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہونے والی عارضی خاموشی ہے اور جس دن یہ خاموشی ٹوٹی اس کے انتہائی بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی صرف اس لئے ٹارگٹ کی گئی کیونکہ وہ حقیقی طور پر دہشت گردی کے خلاف میدان میں ڈٹی رہی ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا در حقیقت انہیں صوبے سے کوئی سروکار نہیں ، ان کی تمام توانائیاں پنجاب کی سیاست اور وہاں کے ووٹ بنک کیلئے صرف ہوئیں لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس مذموم مقصد کیلئے انہوں نے پختونوں کا کندھا استعمال کیا ،انہوں نے کہا کہ صوبے اور پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی گئی جس کا واضح ثبوت سی پیک کا مغربی اکنامک کوریڈور اور فاٹا کا اہم ترین مسئلہ ہے ، انہوں نے کہا نواز شریف اور عمران خان پختونوں کے حقوق غصب کرنے کیلئے ایکا کئے ہوئے تھے ان کے درمیان لڑائی صرف کرسی کیلئے تھی ، لیکن پختونوں کی دہائیوں کی بدولت نواز شریف اس کرسی سے ہاتھ دھو بیٹھے ،جبکہ کپتان کے ہاتھ میں وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں ہے،صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالیاتی اداروں کے پاس گروی ہے اور صوبے کے معاملات چلانے کیلئے حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں ، میاں افتخار حسین نے ڈینگی سے مزید جاں بحق افراد کیلئے بھی فاتحہ خوانی کی اور کہا کہ کپتان کا اس حوالے سے رویہ غیر انسانی ہے اور وہ ڈینگی کی روک تھام کیلئے سردیوں کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں جس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حکومت اس سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ کسی معجزے کے انتظار میں ہے،انہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نااہل حکومت نے خزانہ خالی کر دیا ہے اور اب ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی تک کیلئے اُن کے پاس پیسے نہیں ہیں اور سرکاری ملازمین کی پنشنز اور جی پی فنڈ سے صوبے کے نظام کو چلایا جا رہا ہے۔ صوبہ بدترین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے، ترقیاتی سکیموں کا نام و نشان تک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خزانہ اللے تللوں پر خرچ کر دیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے بیرونی دنیا سے بھیک مانگی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اے این پی حقیقی ترقی کے عمل کا آغاز کرے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']