Nov 012017
 

سپر پاورز کے سحر سے نکلے بنا کامیابی کا حصول ممکن نہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں شروع ہو چکی ہیں اور افغانستان کے حالات سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کئے جا رہے ہیں، دونوں ملکوں میں افہام و تفہیم ضروری ہے،سپر پاورز کے سحر سے نکلے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں سابق سوویت یونین میں تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹرز ، انجینئر،وکلاءاور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی تنظیم ایلومینائی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام قومی یوم یکجہتی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اے این پی کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک اور ڈاکٹر سعید الرحمان نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد میں بنانی چاہئیںاور خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ جب سے پاک افغان مذاکراتی عمل کا عندیہ دیا گیا ہے تب سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حالات خراب کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے لہٰذا مذاکراتی عمل ضروری ہے اور قومی بیانیہ اس حوالے سے اہم اور بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے خطے میں چین ، روس اور امریکہ سپرپاورز جبکہ پاکستان ،ایران اور بھارت ایٹمی طاقت کے طور پر موجود ہیں ، سپرپاورز نے اپنے مفادات کیلئے ہمارے خطے کو مسکن بنا لیا ہے اور ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطہ میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی، اور اس جنگ کو روکنے کیلئے سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ پراکسی وار کا متحمل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین اور اچھے تعلقات اشد ضروری ہیں اور اسی صورت میں مزید جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']