Oct 112017
 

خیبر پختونخوا میں کرپشن آخری حدوں کو چھو رہی ہے ،انرجی اینڈ پاور چہیتوں میں بانٹ دیا گیا،سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) خیبر پختونخوا میں کرپشن اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، صوبائی حکومت نے محکمہ انرجی اینڈ پاؤر کو اپنے چہیتوں کے حوالے کرکے صوبے کو مستقل اور سب سے زیادہ منافع بخش ذریعہ آمدن سے محروم کر دیا ہے، ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے باچا خان مرکز میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وفود کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعینات کیے جانے والے سی او کوپشاور ہائی کورٹ نے اپنے عہدے سے برطرف کر دیا تھا لیکن حکمران اس کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ پہنچے اوراس عمل پر قومی خزانے سے پچاسی لاکھ روپے خرچ کر دیئے گئے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم دونوں عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود ایک شخص کی تعیناتی کے لیے صوبائی حکومت نے ایکٹ میں ترمیم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت بجلی کے پیداواری منصوبوں کی نجکاری کرکے صوبے کو بجلی کی آمدن سے تیس سال تک محروم رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پختونوں سے روزگار دینے کے وعدے پر وؤٹ لیے لیکن پیڈو میں 18افراد لاکھوں روپے تنخواہ پر پنجاب سے لاکر بھرتی کئے گئے جس کے برعکس صوبائی انسپکشن ٹیم نے ان تمام آفراد کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لیکن وہ تا حال اپنے عہدوں پر تعینات ہیں۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ کرپشن فری پاکستان اور میرٹ کے نعرے لگانے والے گزشتہ ساڑھے چار سال سے میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں کو صوبے کے زرائع آمدن کوڑیوں کے مول دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہ اکہ 350ڈیموں کے نام پر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی این جی اوز کو بغیر کسی فزیبلٹی اور پی سی ون کے ترقیاتی کام دینا اور اس پر بجلی کی آمدن کے چھ ارب روپے خرچ کرنا صوبے کے خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی ہی آمدن کے آٹھ ارب روپے بلین ٹری سونامی پر خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اقربا پروری اور کرپشن کی واضح مثال موجود ہے کہ صوبے کے اعلیٰ ترین افسر شکیل درانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ صوبائی حکومت اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر آمدن کے تمام ذرائع اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے سرمایہ کاروں کو دے رہی ہے جبکہ صوبے کے افسران پر عدم اعتماد کرکے پنجاب سے افسران بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کو پنجاب کی قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹیں جیتنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی اے این پی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']