Oct 102017
 

اے این پی اور قبائلی عوام کی قربانی رنگ لے آئی، عدالتی دائرہ اختیار کا مطالبہ تسلیم

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اے این پی کے تمام اضلاع کی تنظیموں ، پختون قوم، قبائلی عوام اور تمام مکتبہ فکر کو اسلام آباد مظاہرے میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ عدالتی دائرہ اختیار کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا جس سے ایف سی آر کے کالے قانون کا ازخود خاتمہ ہو جائے گا ، قبائلی مشران کے تسلیم کردہ فیصلے کی حمایت کرتے ہیں،ڈی چوک میں مظاہرین سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم قبائلی مشران کے ساتھ تھے اور جو فیصلہ انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات میں کیا ہم اس پر ان کے ساتھ ہیں، انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ تو نہیں ہو سکا البتہ عدالتی دائرہ اختیار کا مطالبہ حکومت نے تسلیم کر لیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے اور اس سے ایف سی آر کا خاتمہ ہو جائے گا،گزشتہ روز مظاہرے کیلئے روانگی سے قبل بھی پشاور انٹر چینج پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے مطالبے پر قبائلی عوام کے ساتھ ہیں، جبکہ قبائلی عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ فاٹا کوصوبے میں ضم کیا جائے ، ایف سی آر کا خاتمہ کر کے قبائلی عوام کو عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی عوام کا حصہ دیا جائے ،اور2018کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی دی جائے اور ہم نے ان مطالبات پر قبائلی مشران کا ساتھ دیا ، پارٹی قائد اسفندیار ولی خان بذات خود مظاہرے میں شرکت کی دلی خواہش رکھتے تھے تاہم ان کی بیماری کی شدت کے باعث وہ شریک نہ ہو سکے تاہم پارٹی قیادت ان کی غیر موجودگی میں ان کی خواہش کا حترام کرتے ہوئے بھرپور ساتھ دیگی،راستی میں ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ بظاہر تو اس میں تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ شرکت اے این پی کی ہے اور ہر طرف سرخ جھنڈوں کی بہار تھی ،نوشہرہ سے ملک جمعہ خان کی قیادت میں پوری ٹیم جلوس میں شامل ہوئی ، اسی طرح چارسدہ سے ایمل ولی خان ، مردان سے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوابی سے امیر الرحمٰن ،محمد اسلام خان کی قیادت میں بڑے جلوس ریلی کا حصہ بنتے گئے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں راستے میں روکے جانے کا اندیشہ تھا تاہم ہم رکاوٹیں عبور کر کے ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے اے این پی کی خواتین کے ساتھ بد تمیزی کی اور لاٹھی چارج کے ذریعے ان پر تشدد کیا البتہ میں نے حالات کو کنٹرول کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو متنبہ کیا کہ وہ غیر قانونی ۃتھکنڈے استعمال نہ کریں جس کے بعد صورتحال نارمل ہو گئی لیکن کارکنوں میں اشتعال بدستور موجود تھا، انہوں نے خواتین رہنماؤں کو بھرپور شرکت پر بھی خراج تحسین پیش کیا کہ وہ پختونوں کے اتحاد کی کاوش میں مردوں کے برابر شریک ہوئیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ریلی کے دوران ہی شاہ جی گل اور شہاب الدین کو حکومت کی جانب سے پیغام مل گیا تھا کہ مذاکرات کر لیں جس کے بعد امیر مقام کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں بعد ازاں میں اور بشریٰ گوہر بھی شامل ہو گئے ،فیڈرل لاجز میں ہونے والے ان مذاکرات میں ہم نے اپنا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور اس مقصد کیلئے اس سے بہتر ٹائمنگ نہیں ہو سکتی ،جس کے بعد وزیراعظم کے ساتھ ملاقات طے ہوئی تاہم قبائلی مشران کی موجودگی میں ہم نے ان مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کیا اور اعلان کیا کہ قبائلی رہنما جس بات پر راضی ہوں ہم ان کا ساتھ دینگے،البتہ ان مذاکرات کے بعد فاٹا کی عدالتی دائرہ اختیار تک رسائی کا مطالبہ تسلیم کر لیا جبکہ بعد ازاں مجھے شاہ جی گل نے بتایا کہ 2018کے الیکشن میں صوبائی نمائندگی پر بھی معاملات طے ہو چکے ہیں جس کی وہ مجھے کاپی بھجوا دینگے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بے شک انضمام کا فی الفور فیصلہ تو نہ ہو سکا لیکن یہ انضمام کی جانب پہلا قدم ہے اور عنقریب باقی تمام مطالبات بھی تسلیم ہونے کی راہ ہموار ہو چکی ہے ، انہوں نے اے این پی کی تمام قیادت عہدیداروں اور کارکنوں، تمام اضلاع بشمول قبائل اور ایف آرز کی تنظیموں کو قبائلی عوام کی اس کاوش میں ساتھ دینے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اے این پی نے پختونوں کی یکجہتی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا ، انہوں نے قبائلی مشران اور عوام کو بھی عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کی،نہوں نے کہا کہ مجھے گزشتہ دنوں بیماری کے باعث داکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا تاہم پختونوں کے اتحاد کیلئےء میں کسی قربانی سے دریغ نہیں ہونگا اور جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی خود کو پیش پیش رکھوں گا،اھتجاجی ریلی سے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی، ایمل ولی خان ، بشری گوہر، یاسمین ضیا ،نثار خان مہمند، گل افضل خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']