Oct 072017
 

اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے جماعت اسلامی کے امیر تاریخ سے نابلد ہیں، سردار حسین بابک
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے اس کی تاریخ سے ناواقف ہیں، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کرے، بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل جماعت ہے اور اس کی پوری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ اے این پی نے ہمیشہ اپنے وسائل پر جبکہ جماعت اسلامی نے سہاروں کی بنیاد پر سیاست کی ہے، اے این پی کے کارکن اور عہدیدار رضا کار جبکہ جماعت اسلامی کے عہدیدار تنخواہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ جابر اور آمر حکمرانوں کے سامنے اپنے اصولوں اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنے والی جماعت ہے جبکہ اس کے برعکس جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے کہ ہر آمر نے ان کو استعمال کیا۔ پختونوں، مظلوموں اور محکوموں کے حقوق اور بقاء کی جنگ لڑنے والی اے این پی کے خلاف ہرزہ سرائی سے پہلے جماعت اسلامی کے امیر کو یہ جان لینا چاہئے کہ عوام میں ان کی کتنی قوت موجود ہے۔ پورے ملک کی دیواروں کو دوسروں کے خلاف نعروں سے گندہ کرنے والی جماعت کس منہ سے خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل جماعت کے خلاف من گھڑت زبان استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہاروں پر جینے والی جماعت اسلامی اور اپنے وسائل وعوام کی قوت کے بل بوتے پر سیاست کرنے والی تحریک میں زمین واسمان کا فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں سپر پاور کے لیے استعمال ہونے والی جماعت اسلامی ہزاروں پختونوں کی شہادت کی ذمہ دار ہے اور مذہب کے نام پر عوام کو ورغلانے والی جماعت ساری عمر اتحادوں کی بیساکھیوں پر حکومت میں شامل رہنے والی جماعت عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ایک مہذب کام ہے اور ان تنخواہ داروں کو یہ جان لینا چاہیے کہ آج ہمارے بزرگان کے موقف کو ملک و قوم کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں تقلید کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ من گھڑت الزامات اور غیر مہذب لہجے استعمال کرنے سے عوام کی تائید حاصل نہیں کی جاسکتی اور صوبائی امیر حقائق سے چشم پوشی کرکے اور عوامی نیشنل پارٹی کی تذلیل کرکے لیڈر نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ساڑھے چار سال جس منت سماجت کے ماحول میں مخلوط حکومت کا حصہ رہی ہے تو اس سے عوام بخوبی آگاہ ہیں۔ اے این پی عدم تشدد کی علمبردار، مہذب اور جمہوری جماعت ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں صاحب رائے مشران کی پارٹی میں شمولیت سے مخالفین کے اوسان خطا ہوگئے ہیں اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے سروں پر اے این پی سوار ہے اور پختون سمجھتے ہیں کہ ظالموں کا مقابلہ کس نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں اس خطے میں خون بہایا ہے لیکن جماعت اسلامی نے کبھی بے گناہ پختون مسلمانوں کی شہادت پر مذمت تک نہیں کی۔پختون بیدار ہو چکے ہیں اور وہ تمام استعماری قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سرخ جھنڈے تلے متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت اور اپنے جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھنے والی پارٹی کے امیر کو بہتان تراشی اور من گھڑت طرز تقریر سے اجتناب کرنا چاہئے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']