Sep 192017
 

پریس بریفنگ

عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی گئی مردم شماری مسترد کر دی۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے فاٹا میں کی جانے والی مردم شماری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تمام قبائلی علاقوں میں از سر نو مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے ، باچا خان مرکز میں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مرکزی حکومت وضاحت کرے گزشتہ مردم شماری کے بعد آج تک وزیرستان کی آبادی بڑھنے کی بجائے کم کیسے ہو گئی مردم شماری نئے سرے سے کرا کے قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان کا حصہ ہیں لیکن ان پر آج تک انگریز کا کالا قانون ایف سی آر لاگو ہے،ملکی تجارت میں قبائلی عوام کی70فیصد شرکت ہے اور وہ ٹیکس بھی حکومت پاکستان کو دیتے ہیں لیکن بنیادی حقوق سے ان کی محرومی کسی کو دکھائی نہیں دیتی،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اس حوالے سے کامیاب اے پی سی منعقد کی تاہم یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ چترال سے بولان تک پختونوں کی وحدت کے نعرے لگانے والے فاٹا کے معاملے پر کیوں مخالفت کر رہے ہیں،اے این پی انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا کے پختونوں کو ایک یونٹ پر متحد کرے گی، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے بیان سے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اوراب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خیبر پختونخوا کو سی پیک سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سی پیک اور فاٹا پر نفرت اور بد گمانیاں پیدا ہونے سے نقصان ملک کا ہو گا ، انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے پختونوں کے ساتھ سی پیک اور فاٹا کے حوالے سے جو وعدے کئے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور مترقی افغانستان کے بغیر مترقی پاکستان کا تصور ممکن نہیں،دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی دور کر کے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کے عندیہ کے باوجود حکومت پاکستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور انتہائی اہم ایشو پر حکمرانوں کی خاموشی از خود ایک سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں ناکم ہو چکی ہیں اور داخلہ و خارجہ پالیسیاں ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں اور اب تو چین کا بھی موڈ بدلا دکھائی دے رہا ہے جس کے بعد نئی سمت کا تعین کرنا لازمی ہو چکا ہے کیونکہ ٹرمپ کی پالیسی پاکستان اور افغانستان کیلئے تباہ کن ہو گی ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل اور انتخابات کے التوا کی افواہوں سے نقصان ہو گا ،اور قوم اب مزید کسی مارشل لاء کی متحمل نہیں ہو سکتی،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ با اختیار ہو تو ملک میں مارشل لاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شدت پسندی میں ملوث تنظیمیں اپنے گناہ قبول کر کے توبہ کریں اور سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو تو کوئی مضائقہ نہیں البتہ خفیہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ اور نواز شریف کو ہی ہوگا ،اے این پی نے نواز لیگ تک پیغام پہنچا دیا تھا کہ اداروں سے ٹکراؤ ملکی مفاد میں نہیں اور ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک اور جمہوریت کے مفاد میں قومی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا از حد ضروری ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کپتان کی ناجربہ کاری نے صوبے کا حالت بگاڑ دی اور تمام محکمے زبوں ھالی کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ صحت کے بعد تعلیم کے محکمہ بھی آخری سانسیں لے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے صوبے کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے محکموں کو اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے استعمال کیا ، انہوں نے کہا کہملک میں عدم برداشت کی مادہ سرایت کر چکا ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے کسی بھی معاشرے میں جب برداشت ختم ہو جائے تو یہ اس ملک کے زوال کی جانب پہلی کڑی ہوتی ہے ، قبل ازیں اے این پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این اے 4کے ضمنی الیکشن پر گہری نظر ہے اور یہ الیکشن آئندہ عام انٹخابات کیلئے راہ متعین کرے گا۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']