Sep 172017
 

مرکزی کابینہ کا اجلاس

عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہیں، تمام فیصلے جمہوری انداز سے ہوتے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ مرکزی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلوں پر مشاورت کی گئی،مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں جو بھی متفقہ فیصلے ہونگے اس پرمیڈیا کو بریفنگ دی جائے گی، ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور بحث کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ممبران کی تجاویز اور نکتہ نظر جاننا انتہائی ضروری ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کی مرکزی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کابینہ اجلاس مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے لیے تیاریوں کا ایک سلسلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کی ایک بہترین روایت ہے جو کہ اسفندیار ولی خان کی سربارہی میں منعقد ہوا، اسی طرح باچا خان اور ولی خان کے دور میں بھی ہوتا تھا جس میں مرکزی کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں کے لیے تیاری ہوتی تھی اور ملک بھر کے مسائل اور ان کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بہت اہم فیصلوں پر مشاورت کی گئی، جس میں خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے اہم ایشو بھی سامنے لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک ڈیموکریٹ پارٹی ہے اور ہم جمہوریت پریقین رکھتے ہیں، اس لیے پارٹی کے جتنے بھی اہم فیصلے ہوتے ہیں وہ جمہوری انداز سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان مرکز میں 18ستمبر پر ہونے والی مرکزی کونسل اور19ستمبر پر ہونے والی ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں جو بھی متفقہ فیصلے ہونگے اس پراسی دن اجلاس کے بعد مرکزی صدر اسفندیار ولی خان میڈیا کو بریفنگ دیں گے اور عمل درآمد کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے انتہائی مناسب وقت پر اجلاس طلب کئے ہیں اور ان حالات میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور بحث کے ساتھ ساتھ پارٹی کے أئینی اداروں کے ممبران کی تجاویز اور نکتہ نظر جاننا انتہائی ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اپنی بروقت شرکت یقینی بنائیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے اے این پی کا اے پی سی کامیاب رہا اور اس کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں ان وہ لوگ بھی موجود تھے جو فاٹا کا صوبے میں انضمام کے مخالف ہیں اور اے پی سی نے ایک ڈیبیٹ کی شکل اختیار کی، جس سے یہ اندازہ ہوا کہ زیادہ لوگ فاٹا کے انضمام کے حامی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوجائے۔ این اے 4ضمنی الیکشن کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا ہمیشہ سے گڑھ رہا ہے اور اس بار الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے حلقے کے عوام کی محرومیوں کو دور کریں گے ،انہوں نے کہا کہ خوشدل خان ایک بہترین کنڈیڈیٹ ہے، وہ پی کے 10سے جیتا ہے اور ایسے وقت میں قوم کا ساتھ دیا جب خوشدل خان ٹارگٹ تھا اور کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ وہ بچ جائے گا لیکن اس نے عوام کی خاطر اپنی جان کی پروہ کیے بغیر ان کے لیے نکلا اور ان کی محرومیوں کو دور کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں صرف اے این پی ہی مقابلہ کر سکتا ہے،ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ایسے ہیں جس میں عوام صرف اے این پی کو ہی بہترین آپشن سمجھتے ہیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']