Aug 292017
 

صوبائی حکومت میں دراڑ گہری ہو چکی ہے ،ترقیاتی سکیمیں سیاسی رشوت بنا دی گئیں،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبہ انتہائی گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی اپنی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے حکومت پے در پے غلطیاں کر رہی ہے،اور بجٹ میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ان کیلئے نہ صرف فنڈز نہیں رکھے گئے بلکہ کئی منصوبوں سے وزیر خزانہ خود بے خبر ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاگ بیسود میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی سے سمیع اللہ، اکبر علی ،شیراز گل ، عبدالودود اور آصف اللہ سمیت متعدد افراد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ صوبے کے فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر خرچ کیا جا رہا ہے جو قابل گرفت اقدام ہے اور اس اقدام پر ان کا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہے،دہشت گردی نے پختونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہیں اور انہیں اب تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت اپنی پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشورہ کر کے فوری طور پر داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دی جائیں ، انہوں نے کہا کہ بد امنی کا خاتمہ حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے اور عسکری و سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی و عسکری قیادت جس 20 نکاتی دستاویز پر متفق ہوئی اس پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں صرف نمود و نمائش کیلئے سکیمیں دی جارہی ہیں اور ان سکیموں کو الیکشن کیلئے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر بنک سکینڈل پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات ہیں اسی طرح کئی وزیر کرپشن سے متعلق برملا الزامات لگا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور اب عمران خان کی مصالحتی کوششوں کے باوجود سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے حالیہ میٹرک کے نتائج تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈینگی نے پشاورمیں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے ، حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور ڈینگی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع صحت کا انصاف پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہئے اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے ،انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے صحت کی سہولیات عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں اور صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اب ان حالات میں انا پرستی کی بجائے حکومت حقیقت کا سامنا کرے اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور ڈینگی کی روک تھام کیلئے فوری طور پرٹھوس اقدامات اٹھائے۔ میاں افتخار حسین نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن2018کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں،کیونکہ آنے والاایک بار پھر اے این پی کا ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']