Aug 112017
 

ملک کے تحفظ کی خاطر تمام مسالک او مذاہب کے ماننے والوں میں اتحاد ضروری ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہم اقلیتوں کے آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق کے مکمل تحفظ پر یقین رکھتے ہیں ،تمام مسالک اور تمام مذاہب کے ماننے والوں میں وحدت و اتحاد ضروری ہے تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو اتحاد کی طاقت سے شکست دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 6میں اقلیتی برادری کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مسیحی برادری کی ایک بڑی تعداد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل،صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ، صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ ، جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کے عوام مہنگائی ، بے روزگاری ، جہالت اور زندگی کی سہولتوں کی کمی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن کرپٹ ، نااہل اور بے حس حکمران طبقہ اقلیتوں و اکثریت کو فراموش کر کے اپنے ذاتی مفادات کی سیاست میں مگن ہے ، انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو شخصی معاملات ، تعلیم ، روزگار ، شہری حقوق کا تحفظ دینا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں موجودہ مرکزی و صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے گزشتہ دور میں مسیحیوں سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی کامیابی کے بعد ان کے حق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مسیحی برادری کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ نواز عمران گٹھ جوڑ صرف پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کیلئے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف اور کپتان کے درمیان صرف کرسی کے معاملے پر اختلاف ہے ، ایک کرسی بچانے اور دوسرا اُس پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ صوبے کی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس سے تمام بجٹ لیپس ہوئے ،آخر میں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔

 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']