Aug 102017
 

بلاک شناختی کارڈز کی بحالی میں سست روی،حاجی غلام احمد بلور کی چیئرمین نادرا سے ملاقات

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پختونوں کے بلاک شناختی کارڈ ز کی بحالی میں درپیش پیچیدہ مسائل کا نوٹس لیا جائے اور اس حوالے سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے،چیئرمین نادرا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ یہ پختونوں کی بدقسمتی ہے یا پھر حکمرانوں کی لا پرواہی جس کی وجہ سے پشتو بولنے والے اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر رہ گئے ہیں، اور نہ وہ سفر کر سکتے ہیں نہ کاروبار اور نہ بنکوں سے رقوم کا لین دین کر سکتے ہیں ، انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈز بلاک کرنے ہی تھے تو جن لوگوں نے افغان جہاد کے نام پر پختونوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا ان کے شناختی کارڈز کبھی بلاک نہیں کئے گئے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ صرف پشتو بولنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا،انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بلاک شناختی کارڈز کی وجہ سے پختونوں کو بہت زیادہ نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے اور شناختی کارڈز بلاک ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ بنانے میں بھی طرح طرح کی مشکلات پیش آ رہی ہیں جس سے لوگوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔چیئرمین نادرا کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ شناختی کارڈ کی بحالی کا کام شروع ہے تاہم اس میں سست روی ضرور ہے جس کی بنیادی وجہ وقت کی کمی ہے ، حاجی بلور نے تجویز پیش کی کہ اس حوالے سے چیف سیکرٹری اور اسسٹنٹ کمشنر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں تاکہ اس اہم نوعیت کے ایشو کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے ، اگر ڈپٹی کمشنر ہفتہ میں صرف ایک دن 40 شناختی کارڈز پر کام کریں گے تو یہ مسئلہ سالہا سال لٹکا رہے گا۔چیئر مین نادرا کی جانب سے حاجی غلام احمد بلور کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی اور کہا گیا کہ اس حوالے سے جتنے بھی ممکنہ وسائل دستیاب ہونگے اس سے استفادہ حاصل کیا جائے گا۔
قبل ازیں حاجی غلام بلور نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی اور کہا کہ آپ کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس پہلے بعض وجوہات کی بناء پر ملتوی ہوتے رہے تاہم اب کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے اور بلاک شناختی کارڈز کے حوالے سے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']