Aug 102017
 

دہشت گردی کے ایشو پرمصلحت ملک و قوم کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، میاں افتخار حسین

عمران خان کی مصالحتی کوششوں کے باوجود کرپشن کہانیاں کھلیں گی، چوکی ممریز میں بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ منظم طریقے سے گڈ اور بیڈ کا امتیاز کیے بغیر کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں اور مزید تاخیر یا مصلحت ملک و قوم کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی یو سی چوکی ممریز میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں محمد اسلام ، واجد اسلام،حاجی فیض الرحمان ، جوہر اسلام اور اکبر علی نے کچکول ماما کی قیادت میں اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہیں قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ پاکستان سمیت دُنیا بھر سے دہشتگردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو۔انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب میں موجود 70کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیوں کیا جا رہا ہےْ جو نام بدل بدل کر چندے اکٹھے کر رہی ہیں اور اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صرف وزیر ستان میں آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی جب تک ان کی نرسریوں پر ہاٹھ نہ ڈالا جائے ، ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملکی پالیسیا ں غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کی بجائے قومی مفاد میں بنائی جائیں اور نیشنل ایکشن پلان پر دوبارہ نظر ثانی کر کے قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور گڈ و بیڈ کا فرق ختم کر کے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا تفریق آپریشن کیا جائے۔ملک کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانامہ کا ہنگامہ رکنے کے بعد اب وفاقی حکومت اور نئے وزیر اعظم کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہئے جبکہ سی پیک اور فاٹا پر ہمارے تحفظات دور کرنے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات بارے اب نئے وزیر اعظم کا امتحان ہے اور دیکھنا ہو گا کہ وہ اس اہم قومی ایشو کو کس طرح سلجھائیں گے ؟ میاں افتخار حسین نے صوبے کی حالت زار کے حوالے سے کہا کہ صوبہ انتہائی گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی اپنی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے حکومت پے در پے غلطیاں کر رہی ہے،اور بجٹ میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ان کیلئے نہ صرف فنڈز نہیں رکھے گئے بلکہ کئی منصوبوں سے وزیر خزانہ خود بے خبر ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں صرف نمود و نمائش کیلئے سکیمیں دی جارہی ہیں اور ان سکیموں کو الیکشن کیلئے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔صوبے کے فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر خرچ کیا جا رہا ہے جو قابل گرفت اقدام ہے اور اس اقدام پر ان کا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ خیبر بنک سکینڈل پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات ہیں اسی طرح کئی وزیر کرپشن سے متعلق برملا الزامات لگا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور اب عمران خان کی مصالحتی کوششوں کے باوجود سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے حالیہ میٹرک کے نتائج تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بھی حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام رہی جبکہ غریب عوام سے سستے علاج کی سہولیات تک چھین لی گئیں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن2018کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں،کیونکہ آنے والاایک بار پھر اے این پی کا ہے

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']