Aug 062017
 

Asrfandyar Wali Khan

انگریز کی کھینچی گئی لکیرقابل قبول نہیں ، ایف سی آر ختم کر کے فاٹا کا مسئلہ حل کیا جائے، اسفندیار ولی خان
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ایف سی آر کسی صورت تسلیم نہیں کرتے اور نئے آنے والے وزیر اعظم آئینی اصلاحات کے ذریعے انگریز کے کالے قانون ایف سی آرکے خاتمے اور فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مرحوم خان محمد افضل خان لالہ کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب کی رونمائی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور، سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین ،صوبائی صدر امیر حیدر خان ،سینئر رہنما لطیف آفریدی، بشری گوہر سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے،اسفندیار ولی خان نے مرحوم کی سیاسی و سماجی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مرحوم افضل خان لالہ ایک مدبر سیاستدان اور امن کے اصل داعی تھے ،انہوں نے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل خان لالہ وہ نڈر انسان ہیں جنہوں نے سوات میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور امن کیلئے ان کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ امن کے دشمنوں نے مرحوم پر کئی بار حملے کئے تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہے اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور سوات میں امن کے قیام کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر کوششیں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ بزرگ رہنماء اور عظیم پشتون قوم پرست رہنماء افضل خان لالہ کی وفات صرف عوامی نیشنل پارٹی کا نہیں بلکہ پشتون قوم پرستوں کا نقصان ہے افضل خان لالہ پوری زندگی جمہوریت کی بالا دستی کے لیے جدوجہد کرتے رہے ، اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کاشور ختم ہو چکا ہے اور اب نئی آنے والے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو اہم ملکی مسائل کا حل اپنی ترجیح بنانی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ قبائلی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے لیکن سابق وزیر اعظم نے صرف دو افراد کی خوشی کیلئے لاکھوں قبائلیوں کے ارمانوں کا خون کر دیا ،انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ خود کو پختون قوم پرست رہنما کہنے والے فرنگی کے کالے قانون کے خاتمے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ جاری ہے اور اس خونریزی کو روکنے کیلئے سب کو مل کو کوششیں کرنا ہونگی،انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے قوم کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ولی خان بابا کی وصیت کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ دھرتی پر امن کے قیام کیلئے کوششیں کی جائیں،صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق اور شناخت حاصل کی،تاہم موجودہ حکومت نے صوبے کے حقوق کے تحفظ کو پس پشت ڈال دیا ،انہوں نے کہا کہ پانامہ پر حمایت کرنے پر ایک بار پھر صوبائی حکومت نے اپنی ایک اتحادی جماعت کو نکال باہر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاست اب سمجھ سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے پانامہ کے بعد عائشہ گلالئی اور عائشہ احد سامنے آ گئیں تاہم انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی تحقیقات ہونی چاہئے اور فیصلہ آنے تک اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنی چاہئے ،آخر میں انہوں نے اے این پی کی مرکزی صوبائی و ضلعی تنظیموں کو ہدایت کی کہ الیکشن 2018کیلئے بھرپور تیاری کریں اور الیکشن میں کامیابی کے بعد صوبے میں باچا خانی کا دور شروع ہو گا اور عوام کے تعاون سے خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔انہوں نے افضل خان مرحوم پر لکھی گئی مذکورہ کتاب کا اردو میں ترجمہ کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ پشتون قومی تحریک ان کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے ۔انہوں نے پروگرام کے شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مرحوم محمد افضل خان لالہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']