Jul 292017
 

29.07.2014

عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ،اسفندیار ولی خان 
پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا ،عدالتی فیصلے کے بعد ان اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے۔
سیاستدان سیاسی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت مزید محاذآرائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں کیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔
 آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے ہم مخالف نہیں ہیں تاہم اسے اس کی 73والی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے ۔
 نواز شریف نے 62اور63میں ضیاء الحق کی ترامیم ختم کرنے کی مخالفت کی تھی اور آج وہ اسی کے ہاتھوں گھر چلے گئے ۔
 نواز شریف کے ساتھ کئی اہم معاملات پر اختلافات تھے جن میں فاٹا اور سی پیک سر فہرست ہیں لیکن ہم عدم استحکام کی جانب نہیں گئے۔
اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، بلور ہاؤس پشاور میں مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پانامہ پر عدالتی فیصلے کو تحفظات کے باوجود قبول کرتے ہوئے سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ سیاسی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت مزید محاذآرائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلور ہاؤس پشاور میں پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ جمہوریت ڈی ریل کی گئی تو نقصان ملک کا ہو گا، اس لئے جمہوری نظام چلتے رہنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے ،عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے ان تمام دیگر اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارے بھی نواز شریف کے ساتھ کئی اہم معاملات پر اختلافات تھے جن میں فاٹا اور سی پیک سر فہرست ہیں تاہم اے این پی نے کبھی ان سے استعفی کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم کبھی عدم استحکام کی جانب گئے ہم نواز شریف یا عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تھے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے تحفظات کے باوجود نتائج اس لئے تسلیم کئے تاکہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے اور اب بھی عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود تسلیم کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ہر ممکن کوششیں اور مستقبل میں بھی ضرورت پڑی تو ہر قربانی دینگے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے ہم مخالف نہیں ہیں تاہم اسے اس کی 73والی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے ،اور جو ترامیم اس میں ضیاء الحق نے کیں انہیں ختم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہی وہ سیاستدان تھے جنہوں نے ضیاء الحق کی طرف سے کی جانے والی 62اور63میں ترامیم ختم کرنے کی مخالفت کی تھی اور آج وہ اسی کے ہاتھوں گھر چلے گئے،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں کبھی کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اب جو بھی وزیر اعظم نیا آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے کبھی نہیں چاہا کہ وہ عوام کے فیصلوں پر اپنا فیصلہ مسلط کرے ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام معاملات طے کرنے کے حامی ہیں۔آئندہ الیکشن کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی الیکشن کیلئے تیار ہے اور کسی کیلئے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی،انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نیا انتخابی منشور تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کی تیاری کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ 
قبل ازیں اے این پی کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس بلور ہاؤس میں مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پانامہ پر عدالتی فیصلے کے بعد بننے والی صورتحال سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']