Jul 162017
 

تاروجبہ شمولیتی پروگرام

نواز شریف اور عمران خان دونوں وزارت عظمیٰ کی کرسی کی خاطر پختونوں کے حقوق غصب کررہے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام کی اے این پی میں آئے روز جوق درجوق شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی توجہ اب اے این پی پر مرکوز ہے اور آنے والے دور میں پارٹی عوام کی خدمت کا سلسلہ بلا تفریق جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونین کونسل تارو جبہ میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پرحاجی غندل خان، سمیع اللہ، صدام حسین، ممریز خان اور عباس خان نے مسلم لیگ (ن)جبکہ غلام محبوب، فضل محبوب، محمد آصف، سمیع اللہ، نثار خان اور سردار حسین، خیال محمد، عماد خان، نوروز خان، ریاض انور، آیاز اختر، تسلیم عارف، نسیم عارف، عباس خان مہمند، باسط خان مہمند، نورباچا، عدنان خان اور خالد خان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائی اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ میاں افتخار حسین نے کرپشن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بطور چیف ایگزیکٹیوپرویز خٹک کو اپنے عہدے کا پاس رکھنا چاہیے اور ان کا بیان وزارت اعلیٰ کے عہدے کے شایان شان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ کو ان کی مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے کی دھمکی دی ہے جو کہ بذات خود توہین عدالت ہے اور ساتھ ہی اپنے لیے کرپشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی کرپشن عروج پر ہے جبکہ خود کو بچانے کے لیے حکمرانوں نے احتساب کمیشن کا ادارہ بھی مفلوج کر دیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف پختونوں کے ساتھ مخلص نہیں اور پنجاب کی خاطر پختونوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں جبکہ عمران خان نے بھی پنجاب وؤٹ بینک کی خاطر پختونوں کے مفادات کا سودا کردیااور وزیر اعظم بننے کی خواہش میں صوبے کو مسائل کے دلدل میں دھکیل دیا لہٰذا پختون قوم کو اب بیدار ہونا چاہئے کہ عمران اور نواز شریف کے لیے اصل مسئلہ کرپشن اور دھاندلی نہیں بلکہ ورازت عظمیٰ کی کرسی کے حصول کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے پانامہ کیس کے حوالے سے کہا کہ سیاستدان سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں، جمہوریت کا تسلسل ملک کے مفاد میں ہے ،اور جمہوریت کو بریک لگی تو یہ ملک کیلئے نقصان دہ ہو گا،انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے تاہم ان کی رپورٹ صرف سفارشات کی حد تک ہے ،فائنل فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو یہ بتائیں کہ انہوں نے چار سال میں کون سا تیر مارا ہے ، تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اے این پی لے کر آئے گی اور عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی تمام کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے یونین کونسل تارو جبہ کے کارکنوں کی کاوشوں کو سراہا اوربہترین شمولیتی پروگرام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے قبل از وقت الیکشن دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ان ہاؤس تبدیلی اور ملک میں قومی حکومت کے قیام کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔اس لیے کارکن بڑھ چڑھ کر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں اور اپنے علاقے کے عوام اور خاص کرنوجوانوں میں شعوربیدار کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائی بروئے کار لائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']