Jul 152017
 

عدلیہ آزاد ہے، وزیر اعلیٰ کا بیان اپنے لیے کرپشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کرپشن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹیوپرویز خٹک کو اپنے عہدے کا پاس رکھنا چاہیے اور ان کا بیان وزارت اعلیٰ کے عہدے کے شایان شان نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاگ بیسود پبی میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر نواز کاکا، عارف حسین، فیض علی، ماصل خان، صدیق اور رحمت اللہ خان سمیت درجنوں افراد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائی اور انھیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اہم سیاسی شخصیات کی اے این پی میں آئے روز شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ صوبائی حکومت کی غیر سنجیدہ پالیسیوں سے نالاں ہیں اور وہ اے این پی کو ہی اپنے حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ کو ان کی مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے کی دھمکی دی ہے جو کہ بذات خود توہین عدالت ہے اور ساتھ ہی اپنے لیے کرپشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی کرپشن عروج پر ہے جبکہ خود کو بچانے کے لیے حکمرانوں نے احتساب کمیشن کا ادارہ بھی مفلوج کر دیا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے اور سپریم کورٹ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر پانامہ کے حوالے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود عمران خان نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کوئی حکمتی عملی وضع نہیں کی بلکہ ان کے اپنے صوبائی وزراء اور اتحادیوں پر کرپشن کے الزامات موجود ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کو عدالت عظمیٰ کو بلیک میل کرنا زیب نہیں دیتا پرویز خٹک چیف ایگزیکٹیو کے اپنے عہدے کی حیثیت کا اندازہ کریں۔انہوں نے کہا کہ عوام وزیر اعلیٰ کے بیان کا نوٹس لیں اور آئندہ الیکشن میں کرپشن کے لیے راہیں تلاش کرنے والوں کا راستہ روکیں۔ ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے آخری سال میں جن ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ان کیلئے انتہائی کم فنڈز رکھے ہیں جبکہ خزانہ پہلے ہی خالی ہو چکا ہے اور آنے والی حکومتوں کو صوبے کے معاملات چلانے اور ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 150ارب روپے سے زائد کا قرضہ اتارنا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال میں تبدیلی والوں نے مسائل کے حل کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، عمران خان پنجاب کے ووٹ بنک کے لئے پختونوں کا کندھا استعمال کر رہے ہیں جبکہ خیبرپختون خوا کے مینڈیٹ کا کوئی خیال نہیں رکھاجارہا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اے این پی لے کر آئے گی اور عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی تمام کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ہسپتالوں سکولوں ،سڑکوں کے ساتھ ساتھ مساجد اور عیدگاہوں کی خدمت کا سلسلہ جاری تھاموجودہ حکمران عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکے کے لئے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگارہے ہیں تاہم پختون عوام نام نہاد تبدیلی والوں کی اصلیت جان چکے ہیں اور وہ آئندہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے احتساب کر کے اے این پی کو کامیاب بنائیں گے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']