Jul 132017
 

 جمہوری نظام چلنا چاہئے،سپریم کورٹ کے فیصلے تک صبر و تحمل سے کام لیا جائے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی کا پانامہ کیس پر مؤقف روز اول سے واضح ہے ہم پانامہ کے معاملے پر بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو بھی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی ون طائزئی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر کاشف، عارف، فاروق خان ، اکبر خان ، تاج محمد ،دلفراز خان، ارشد باچہ، وقار احمداور عمیر سمیت درجنوں افراد نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تسلسل ملک کے مفاد میں ہے ،اور جمہوریت کو بریک لگی تو یہ ملک کیلئے نقصان دہ ہو گا،جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے تاہم ان کی رپورٹ صرف سفارشت کی حد تک ہے ،فائنل فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے ،سیاستدان سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں ، انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پانامہ کے شور میں ملک کے کئی اہم مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور عوام کے مسائل حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہے ، سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور کے حوالے سے پختونوں اور بلوچوں کے جو تحفظات پہلے سے موجود ہیں انہیں دور نہیں کیا جا رہا ،اور پختونوں کو ان کے جائز حق سے محروم کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم چینی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں بلکہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ وژن خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا ،صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی سیاسی نا تجربہ کاری کی وجہ سے آنے والی حکومتوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ نئی اعلان کردہ سکیموں کی تکمیل اور ان کیلئے فنڈز کا حصول سر فہرست ہونگے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے آخری سال میں جن منصوبوں کا اعلان کیا ان کیلئے 20فیصد سے بھی کم فنڈز رکھے ہیں جبکہ خزانہ پہلے ہی خالی ہو چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال میں تبدیلی والوں نے مسائل کے حل کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، عمران خان پنجاب کے ووٹ بنک کے لئے پنجاب کے حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ خیبرپختون خوا کے مینڈیٹ کا کوئی خیال نہیں رکھاجارہا، انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اے این پی لے کر آئے گی اور عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی تمام کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ہسپتالوں سکولوں ،سڑکوں کے ساتھ ساتھ مساجد اور عیدگاہوں کی خدمت کا سلسلہ جاری تھاموجودہ حکمران عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکے کے لئے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگارہے ہیں تاہم پختون عوام نام نہاد تبدیلی والوں کی اصلیت جان چکے ہیں اور وہ آئندہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے احتساب کر کے اے این پی کو کامیاب بنائیں گے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']