Jul 132017
 

امتیازی سلوک کا تاثر ختم کرنے کیلئے احتساب کا آغاز 1975 سے کیا جائے، زاہد خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے کہا ہے کہ اے این پی کا موقف ہے کہ احتساب سب کیلئے بلاتفریق و بلاتمیز کا فارمولا لاگوہونا چاہیے ۔ کسی مخصوص خاندان ، پارٹی ، گروپ سے امتیازی سلوک کا تاثر ختم کرنے کیلئے لازم ہے کہ احتساب کا آغاز 1975 سے کیا جائے ۔موجودہ سیاسی صورتحال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمرانہ ادوار میں بد عنوانی کی بنیاد رکھی گئی، بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے آلہ کاروں نے بیرونی سرپرستوں ، اداروں سے آنے والی امداد ، فنڈز کو اپنے کاروبار ، جائیدادوں اور اثاثوں میں اضافے کیلئے استعمال کیا ۔ آج تک ان میں سے کسی کا احتساب نہیں کیا گیا بلکہ سرکاری اداروں کے ماضی کے تمام بااختیار افراد کے خاندانوں کے خلاف ثابت شدہ بدعنوانی کو سرکاری چھتری کے سائے میں تحفظ دینے کیلئے نام نہاد سیاسی گروپ اور گرو ہ بنائے گئے ۔ زاہد خان نے مزید کہا کہ یہ تاثر دن بدن مضبوط ہورہا ہے کہ ایک بار پھر غیر سیاسی عناصر سیاسی نظام کے خلاف سازش کرنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں جو ملک و قوم کیلئے نقصان دہ اور شدید خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز پر بھی اے این پی کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور فیصلے کا انتظار کیا جائے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہیے ۔ دھرنوں کی وجہ سے ملک کو بے پناہ معاشی نقصان ہوا اگر دوبارہ اس طرح کا دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی تو ملک انتشار اور بد امنی کاشکار ہو سکتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس پر تبصرہ نگاری کارجحان بھی درست نہیں 

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']