Jul 122017
 

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے ملازم کش پالیسی ترک نہ کی تو اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی،گزشتہ 7سال سے بھرتی ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کر کے اب انہیں فارغ کرنے کی پالیسی حکمرانوں کو مہنگی پڑے گی ،ورکزر ویلفئر بورڈ کے برطرف ملازمین کے احتجاجی کیمپ میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں عوام کو ملازمتیں ، روزگار اور مراعات دیتی ہیں تاہم صوبائی حکومت پہلے سے موجود ملازمتیں چھیننے کی مستقل پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے انتخابی مہم کے دوران صوبے کے عوام اور نوجوانوں کو ملازمتیں اور روزگار دینے کے بے شمار وعدے کیے تھے تاہم اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے روزگار دینا تو درکنار پہلے سے موجود ملازمین کو فارغ کرنا شروع کیا اور ورکرز ویلفئیر بورڈ ملازمین اس کی ایک مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ تین ہزار ملازمین کو سات سال قبل کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا اور ان کی تنخواہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی تاہم صوبائی حکومت متعصبانہ رویہ اختیار کر کے پہلے ان ملازمین کی تنخواہیں روکیں اور بعد ازاں انہیں ملازمت سے بر طرف کر کے ان کی جگہ نئے ملازمین بھرتی کرنے کا پلان بنایا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ورکرز ویلفئر بورڈ کے ملازمین کچھ عرصہ قبل بنی گالہ میں احتجاج بھی کرتے رہے تاہم ان کی شنوائی نہیں ہوئی ، انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرتے اور عوامی مسائل اور ان کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کئی اہم مسائل پانامہ کی باز گشت میں دب گئے ہیں اور حکمرانوں نے پانامہ کے چکر میں عوامی مسائل پس پشت ڈال دیئے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان تخت کی جنگ جاری ہے ،
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ورکرز ویلفئیر بورڈ کے ملازمین حکومت کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کے باعث تنخواہوں سے محروم ہیں اور مسلسل احتجاج پر ہیں تاہم ان کے دُکھوں کامداوا کرنے کی بجائے ان میں سے اب بہت سوں کو ملازمتوں ہی فارغ کیا جا رہا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصہ سے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین اپنے مطالبات اور اپنی تنخواہوں کیلئے حکومت کا دورازہ کھٹکھٹا رہے ہیں اور اے این پی بار بار حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کراتی رہی ہے تاہم ھکومتی ایوانوں کے کانون پر جوں تک نہیں رینگتی ،جو ظلم اور زیادتی کی ایک مثال ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن صوبے میں اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف اپنا وعدہ بھول گئے ہیں بلکہ نوجوانوں کو روز گار دینے کے بجائے غریب ملازمین کو روزانہ کی بنیاد پر بیروزگار کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو غریب اور مجبور سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی بجائے انہیں مستقل کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے اور بیروزگاری ختم کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھائے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']