Jul 112016
 

مورخہ 11جولائی 2016ء بروز پیر

کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی
احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا،اور حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے گا
ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔
مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں
ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک اے این پی احتجاج جاری رکھے گی ، اور مرکزی و صوبائی حکومتوں میں شامل ملاکنڈ ڈویژن کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ارکان اپنے علاقے کے عوام کو مزید بے وقوف بنانے کی بجائے ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں ، باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی نے فشنگ ہٹ چکدرہ میں اے پی سی طلب کی ہے جس میں ضلع ناظمین ، تحصیل ناظمین ،تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ضلعی صدور و جنرل سیکرتریز ، تاجر برادری ، کنٹریکٹرز ، سول سوسائٹی صحافتی تنظیموں ، وکلاء اور ڈاکٹر برادری کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو مورو الزام ٹہرا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی نہ مرکزی اور نہ ہی صوبائی حکومت کرا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی سمجھتی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے شکار ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام مرکزی و صوبائی حکومتوں کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف مکمل متفق اور متحد ہیں ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی پارٹی تنظیموں کو ہدایت کی کہ آج کی اے پی سی کے بعد کسٹم ایکٹ کے خلاف ہر علاقے میں اپنا احتجاج جاری رکھیں ،انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اب ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتیں اور اے این پی کا احتجاج کسٹم ایکٹ کے فیصلے کی واپسی تک جاری رہیگا ،انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ اے این پی رابطے میں ہے، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اخباری بیانات کے ذریعے عوام سے جان چھڑانے کی بجائے ان کے جائز حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کا ساتھ دیں۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']