Jul 112016
 

مورخہ : 11.7.2016 بروز پیر

صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔ ایمل ولی خان
حکمرانوں کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،صوبے کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔
صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی کثیر تعداد میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اے این پی دور حکومت کا کارنامہ ہے۔

پشاور (پریس ریلیز) اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ کی فوری بحالی کے احکامات جاری کرے۔اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے 900 ٹیچنگ اسسٹنٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایٹا ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں اور اُن کی مستقلی کیلئے صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرارداد بھی پاس کی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی سٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت کو ان کی مستقلی کی سفارش کر دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کئی ماہ سے اپنی مستقلی کیلئے ہڑتالوں پر ہیں اور حکومتی ذمہ داروں کی طرف سے کئی بار یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں لیکن تاحال صوبے کے نوجوان اپنے جائز مطالبات کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ صوبے کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ لہٰذا کمی پوری کرنے اور 900 نوجوانوں کے روزگار کی مستقلی کے احکامات فوری طور پر انتہائی اہم اور ضروری ہیں تاکہ وہ ذہنی سکون کیساتھ اپنا تدریسی عمل جاری رکھ سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی کثیر تعداد میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا اے این پی دور حکومت کا کارنامہ ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت وقت ضائع کیے بغیر تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے زبانی جمع خرچ سے نکل کر عملی اقدامات کا آغاز کرے۔
اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برائے نام تعلیمی ایمر جنسی لگا کر صوبائی حکومت ایک طرف تعلیم کے بجٹ میں کمی اور دوسری طرف ذہن سازوں یعنی اساتذہ کی بے تکریمی کر کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں اساتذہ کو معاشرے میں منفرد مقام دلوا کر ثابت کر دیا تھا کہ اے این پی کی سیاست تعلیم دوست ہے اور تعلیم کے فروغ کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']