Jul 122016
 

مورخہ : 12.7.2016 بروز منگل

 اے این پی کے زیر اہتمام کسٹم ایکٹ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس ، ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹرخانے اور دروغ گوئی کے روریے پر گامزن ہیں۔
کسٹم ایکٹ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ واپس نہیں لیا گیا تو احتجاجی تحریک چلائی جائیگی۔ مقررین کا خطاب

پشاور ( پر یس ریلیز) ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی ، مذہبی ، سماجی حلقوں اور منتخب ممبران اسمبلی ، ناظمین نے ملاکنڈ ڈویژن میں اعلان کردہ کسٹم ایکٹ کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو ٹرخانے کی بجائے یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف سیاسی ، عوامی اور سماجی سطح پر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور نتائج کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہوگی۔
یہ فیصلہ چکدرہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں منتخب نمائندوں ، ناظمین ، سابق وزراء ، ممبران اسمبلی ، مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی عہدیداران اور عوامی حلقوں نے بھر پور شرکت کی اور کسٹم ایکٹ کو کلی طور پر مسترد کرتے ہوئے مشترکہ موقف اپنایا گیا کہ اگر حکومتوں نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
جن قابل ذکر رہنماؤں نے کانفرنس سے خطاب کیا اُن میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، حسین شاہ یوسفزئی ، واجد علی خان ، جے یو آئی کے مولانا گل نصیب ، رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان (پی ٹی آئی)، پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہمایون خان ، قومی وطن پارٹی کے فضل الرحمان خان نونو اور متعدد دیگر شامل تھے۔
مقررین نے الزام لگایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسٹم ایکٹ کی واپسی کے معاملے میں دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام لیتی آ رہی ہیں اور دونوں عوام کو ٹرخانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور عمران خان دونوں اعلان کر چکے ہیں کہ کسٹم ایکٹ کا ظالمانہ اور ناقابل قبول فیصلہ واپس لیا جائے گا اور علاقے کے عوام کی رائے اور مطالبے کا احترام کیا جائیگا مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا جس کے باعث عوام کا نہ صرف یہ کہ دونوں حکومتوں پر اعتماد اُٹھ چکا ہے بلکہ ان کو مزاحمت پر مجبور بھی کیا جا رہا ہے۔ سیاسی قائدین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرے ورنہ عوام ان کے محاسبے پر مجبور ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے کی تمام سیاسی ،مذہبی اور سماجی تنظیمیں اس معاملے پر متحد ہیں اور اگر حکمران ٹرخانے اور دروغ گوئی پر گامزن رہے تو بہت جلد عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا اور اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اس کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہوگی۔
کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں پر مشتمل ایک ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ارکان وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کر کے ان کو عوامی مطالبے اور تحفظات سے آگاہ کریں گے اور اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو احتجاجی تحریک کی کال دی جائے گی۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']