Jul 132016
 

لوڈشیڈنگ سے عوام کرب میں مبتلا ہیں ،حکمرانو ں نے چپ سادھ رکھی ہے ،سردار حسین بابک
اے این پی دور میں شروع کئے گئے منصوبوں کی تکمیل کے بغیر لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا کسی صورت ممکن نہیں
مرکزی حکومت روزانہ 10ہزار میگا واٹ بجلی سٹم میں لانے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی ،
سی پیک میں بجلی کیلئے مختص 35ارب ڈالر سے پختونخوا میں پانی سے بجلی پیدا کر کے لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے شدید گرمی میں بجلی کی ظالمانہ اور نا روا لوڈ شیڈنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی میں بد ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے جبکہ مرکزی حکومت روزانہ 10ہزار میگا واٹ بجلی سٹم میں لانے کا دعوی کرتے نہیں تھکتی،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت زبانی طور پر نئے ڈیمز تعمیر کرنے میں لگی ہے تاہم اگر اے این پی دور کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جائے تو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں عوام کے ساتھ مذاق کرنے میں مصروف ہیں اور انہیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر حکمران سنجیدہ ہوتے اور بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کئے جاتے تو سی پیک منصوبے میں 35ارب ڈالر کی خطیر رقم پانی سے سستی اور فوری بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام شروع ہو جانا چاہئے تھا،انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں بجلی منصوبوں کیلئے 385ارب روپے رکھے گئے ہیں تاہم خیبر پختونخوا اور فاٹا کو اس میں یکسر نظر انداز کیا گیا ہے،اور یہاں کوئی منصوبہ شامل نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی بحران اور مہنگی بجلی نے ہمارے کاروبار زندگی اور معیشت کو کمزور کر دیا ہے،لیکن حکمران اپنے سیاسی و ذاتی مقاصد کیلئے سرگرم ہیں اور مفاد عامہ و ملکی مفاد کو ظاطر میں نہیں لاتے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں بجلی منصوبوں کیلئے مختص 35ارب ڈالرز کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے پر لگائی جائے تو اس سے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے میں مدد ملے گی،اور اس کے ساتھ ساتھ نئے کارخانے لگائے جا سکتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے اور معیشت بھی مضبوط ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں اضافہ اور پیداور میں کمی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومت مل کر اے این پی دور حکومت کے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائیں اور دونوں کو اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ 35ارب ڈالر کی خطیر رقم سے کوئلہ خرید کر پنجاب میں بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاہم خیبر پختونخوا کے قدرتی ذرائع سے سستی اور فوری بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']