Mar 102016
 

GhaniKhan2رنگ اور نور کے شاعر غنی خان کی بیسویں برسی

تحریر : رو خان یوسف زئے

کہا جاتا ہے کہ زندگی سے خظ اٹھانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ترین شخص وہ ہے جس میں جذبے کی گرمی ہو، بے باک ہو اور جسے کسی چیز کا خوف نہ ہو اس کے علاوہ انسان کی پختہ خوبیاں تین بتائی جاتی ہے جس میں دانش، رحم دلی اور جرات شامل ہے اگر مذکورہ’’موزوں ترین شخص‘‘ میں ان تین خوبیوں کے علاوہ اور بھی کئی خوبیاں شامل ہو جائیں تو پھر اس شخص کو ہم صرف عام ’’موزوں ترین‘‘ شخص نہیں بلکہ اسے پھر نابغہ، مفکر، دانشور اور فلسفی کا نام اور مقام دے سکتے ہیں۔
پشتو زبان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، دانشور، مصور، مجسمہ ساز، فلسفی اور سیاست دان غنی خان ایک ایسی شخصیت اور ہستی کا نام ہے جو بے شمار خوبیوں کے مالک تھے اور زندگی سے جس طرح انہوں نے حظ اٹھایا ہے اس سے ان کے جاننے اور پڑھنے والے اچھی طرح واقف ہیں۔غنی خان کو پختونوں کی اکثریت’’ لیونے فلسفی‘‘ (دیوانہ فلسفی) رنگ و نور، روشنی اور سائے کے شاعر کے نام سے جانتی ہے۔ غنی خان بیک وقت کئی خوبیوں کے مالک تھے اور ہر خوبی کو جہاں انہوں اپنی شاعری میں سمویا ہے وہاں برش اورچینٹی کے ذریعے مصوری اور مجسمہ سازی میں بھی کمال کر کے دکھایا ہے۔ خان عبدالغنی خان خدائی خدمت گار تحریک کے بانی فخرافغان باچاخان کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے جو1914ء کو اتمان زئی چارسدہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے گاؤں کے آزاد سکول سے حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد باچاخان نے 1928ء میں رکھی تھی اور اپنے دونوں بیٹوں غنی خان اور خان عبدالولی خان کو بھی اسی سکول میں داخل کیا تھا۔ سکول ہاسٹل میں انہیں صبح صرف ایک پیالی چائے ملتی تھی اس لیے غنی خان رات کو کھانا کھانے کے دوران روٹی کے چند ٹکڑے چھپا کر صبح چائے کے ساتھ کھالیتے تھے۔ اس وقت ان کے سکول میں کرسیاں یا بینچ نہیں ہوا کرتا تھا اور طلباء چٹائی پر بیٹھ کر سبق پڑھتے تھے۔ شام کو جب وہ چٹائیاں اٹھاتے تھے تو اس کے نیچے بے شمار بچھو پڑے ہوئے ملتے تھے ان کے سکول میں کوئی بیت الخلا بھی نہیں تھا اور طلباء رفع حاجت کے لیے کھیتوں میں جایا کرتھے تھے۔ اس طرح کے ماحول اور سکول میں چارسدہ کے مشہور خان خان عبدالغفار خان کے صاحبزادوں غنی خان اور ولی خان نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں غنی خان مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ہاں’’برلاہاوس‘‘میں بھی کئی سال تک رہ چکے تھے۔ اور وہ گاندھی جی کے بڑے متعقد اور ان کے کردار اور اخلاق سے بے حد متاثر رہے۔ اس وقت وہاں غنی خان ایک شوگرمل میں بطور انجئنیر کام کرتے تھے اور شادی بھی وہاں حیدرآباد دکن کے ایک بہت بڑے نواب کی صاحبزادی روشن نامی لڑکی سے کی جس سے غنی خان کا صرف ایک بیٹا فریدون پیدا ہوا تھا جو شادی کے چند سال بعد نوجوانی میں اپنے ایک کسان کے ہاتھوں حادثاتی موت چل بسے۔ غنی خان گھڑ سواری کے علاوہ شکار کھیلنے کے بھی بہت شوقین تھے۔ شادی کے بعد جب ایک دن وہ ہرن کا شکار کرکے گھر لے آئے تو ان کی اہلیہ روشن بیگم نے انہیں کہا کہ آپ جیسا حساس آدمی بھی ان معصوم جانوروں کو گولی سے مارتا ہے؟ جس کے بعد غنی خان نے شکار کرنا چھوڑ دیا اور مرتے دم تک پھر کبھی شکار کا نام نہیں لیا۔
GhaniKhan1غنی خان کی عمر اس وقت 22 سال تھی جبکہ اندرہ گاندھی اس وقت چودہ سال کی تھی اور دونوں ٹیگور یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور دونوں کی ٹیوٹر بھی ایک نین لعل نامی خاتون تھی۔غنی خان ہندوستان کے آرٹس سکول میں بھی پڑھ چکے تھے۔ ابتدا میں وہ مینڈکوں، مکھیوں اورکتوں کی تصویریں بناتے تھے اس کے علاوہ وہاں شعبہ انگریزی میں صحافت کی کلاسیں بھی لیتے رہے، ان کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک مجسمہ شانتی ٹیکشن میں بھی رکھا گیاہے۔ شاعری انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں شروع کی تھی۔غنی خان 1930 /1932ء امریکا میں بھی رہے ہیں اس کے علاوہ لندن، فرانس، چین، جرمنی، جاپان اور اٹلی کا بھی دورہ کرچکے تھے، مگر اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں’’کہ دنیا جہاں کی خوبصورتی اور حسن میری اپنی دھرتی اور اپنے خاکی چہرہ پختون کے سامنے ہیچ ہے۔
انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں بے شمار دفعہ گرفتارہوکر ہری پور، ملتان، لاہور، ڈیرہ اسماعیل خان حیدرآباد اور پشاور کے جیلوں میں قیدبامشقت اور قید تنہائی بھی گزارچکے تھے۔ خدائی خدمت گار تحریک کا مشہور ہفت روزہ’’پختون‘‘ میں ’’ګډې وډې‘‘کے عنوان سے’’لیونے فلسفی‘‘ کے نام سے انگریزوں اور ان کے کاسہ لیس خوانین اور ملاوں کے خلاف زوردار فکاہیہ کالم بھی لکھتے رہے۔  پشتو زبان میں خوشحال خان خٹک کے بعد غنی خان واحد شاعر ہیں جنہوں نے بڑی بے باکی، دانش اور جرات سے کام لیتے ہوئے انسان، دنیا، مذہب، خدا، شیخ، ملا، جنت، دوزخ اور موت و حیات کے بارے میں نہ صرف نئے نئے سوالات پیش کئے بل کہ اپنے علم و ہنر سے کام لیتے ہوئے اپنے بہت سے اعتراضات کو بھی شاعرانہ زبان میں سوالات کے رنگ میں پیش کیاہے۔ انہوں نے پشتو شاعری میں اپنے لئے ایک الگ راستہ، ایک منفرد رنگ اور ایک جدگانہ روایت کی طرح ڈالی ہے۔ بحیثیت ایک کامیاب تجربہ کار انجینئر کے انہوں نے حیات و کائنات کے ذرے ذرے کی ساخت، رنگ و نور، شکل اور تعمیر کو انجینئرنگ کی آنکھ سے پرکھا اور ایک مفکر، شاعر، اور فلسفی کے دماغ سے سوچ کر اسے لفظوں اور رنگوں کی زبان میں پیش کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کو فلسفہ نہیں بل کہ فلسفے کو شاعرانہ زبان اور انداز بخشا ہے۔

غنی خان نے اپنے مفکرانہ ذہن، شاعرانہ مزاج اور جرات رندانہ سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کو حیات و کائنات کے بارے میں نئے نئے عقلی اور سائینسی سوالات کی راہ پر چلنے کی ہمت اور زبان بخشی ہے اور اپنے پڑھنے والوں میں ایک تجسس اور بے قراری پیدا کر دی ۔ زندگی کیا ہے؟ کائنات کی تخلیق کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس دنیا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ موت کیا ہے؟ اور پس مرگ انسان کی روح کہاں پرواز کر کے چلی جاتی ہے؟ اس طرح کے سوالات غنی خان کی شاعری میں پڑھنے والے کے ذہن میں بیٹھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے شاعری کے مجموعوں کے نام’’پلوشے‘‘فانوس‘‘دپنجرے چغار‘‘جیسے بعد میں افغانستان کی حکومت نے تینوں مجموعوں کو’’دغنی کلیات‘‘ کے نام سے شائع کیا بعد میں اس کلیات میں ان کی غیر مطبوعہ کلام کو شامل کرکے یونیورسٹی بک ایجنسی نے’’دغنی لٹون‘‘( غنی کی تلاش) کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ غنی خان نے پختونوں کی تاریخ پر انگریزی زبان میں بھی ’’دی پٹھان‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے انہیں حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز اور اکادمی ادبیات کے علاوہ مقامی سطح پر بھی کئی ادبی اور سماجی تنظیموں نے ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا ہے
GhaniKhanwithfatherغنی خان نے تمام مذاہب عالم کا فلسفہ اور مختلف اقوام کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا اسے پرکھا مگر ان ڈھیر سارے مطالعے اور مشاہدے کے بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ’’میں نے بہت سوں پیروں، فقیروں کو ٹٹولا بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا لیکن کہیں بھی مجھے روشنی کا ایک قطرہ نہیں ملا میں بس ایک قصہ در قصہ ہے جس کا نہ تو کسی آغاز کا پتہ چلتا ہے اور نہ اختتام کا۔ ان کے خیال میں یہ ایک ایسی خاموشی ہے جو ازل سے ابد تک جاری ہے۔
غنی خان نے مرتے دم یعنی 15مارچ 1996ء تک جتنی شاعری، پینٹنگز، مصوری اور مجسمہ سازی کے نمونے تخلیق کیے ہیں اس میں ایک چیز کو بنیادی اہمیت دی ہے اور وہ ہے انسانیت سے پیار و محبت۔اس کے علاوہ ان کی شاعری میں اپنے اردگرد ماحول کے تمام سیاسی، سماجی اور تہذیبی رنگ موجود ہے خصوصاً آزادی، قوم پرستی،انسان دوستی اور وطن پرستی ان کی شاعری کی روح ہے غنی خان پشتو زبان کے حال سے زیادہ مستقبل کے شاعر ہیں اور کوئی بھی باشعور قوم اپنے مستقبل سے غافل نہیں رہ سکتی پھر غنی خان تو صرف ایک مٹی کا ڈھیر نہیں، جس طرح وہ خود اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ ’’اے ملا! تم سنتے ہو یانہ موت بھی یہ نعرے لگا رہی ہے کہ غنی صرف خاک نہیں پھر وہ کیسے خاک ہو جائیں گے ؟

سن 1945ء میں متحدہ ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں غنی خان کی تقریر کے اس اقتباس کے 34 سال بعد 1979ء کو افغانستان میں سوویت یونین کی فوج کے داخل ہونے کو اگر ہم دیکھیں تو غنی خان کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا اندازہ بڑی آسانی سے لگاسکتے ہیں۔ غنی خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ’’ جب ایک آدمی ایک ایسی جگہ میں رہائش پذیر ہو جہاں اردگرد چور اور ڈاکو ہوں تو پھر گھر کا اہم حصہ ڈرائنگ روم نہیں بل کہ گھر کی چار دیواری کے لیے مضبوط اور بلند دیواروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو ناانصافی، حرص اور ہوس سے بھری ہوئی پڑی ہے اور بنی آدم کے خون کی پیاسی ہے یہ دنیا لوٹ مار، مکار اور حاسدوں کی دنیا ہے اس دنیا میں ایک ملک کا دارالخلافہ نہیں بل کہ اس کی سرحدات زیادہ اہمیت کی حامل ہیں آگر ہم اپنے گھر اور ملک کی سرحدوں پر نظر دوڑائیں جس کے شمال کی طرف ایک پرانا زخمی اور تباہ شدہ ملک ہے چین کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے اور میرا خیال بھی یہی ہے کہ ان حالات میں وہ اس قابل نہیں کہ ہماری دیواروں کو پھلانگ کر یا گرا کر ہمارے گھر داخل ہو جائے اور نہ ہی وہ ہم پر حملہ کرسکتا ہے ہمیں قبلہ کی طرف سے کچھ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ ہماری نظریں اپنی جانب کھینچے وہاں ایک بے قابو بہادر اور جنونی قوم رہتی ہے جو کہ ایک بہت بڑی تکلیف کا باعث بھی بن سکتی ہے افغانستان کی سرحدات روس کے ساتھ پیوست ہیں روس آج کل ایک طاقتور اور خوش حال ملک ہے اور وہ توسیع پسند ہے پھیلنا چاہتا ہے مگر اس عمل سے وہ آخر خود ہی پھٹ کر ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا اگر وہ اپنی توسیع پسندی کو اپنے تحفظ کا نام دیتا ہے تو میں سٹالن کے اس طریقہ تحفظ پر اعتراض اس لیے کرتا ہوں کہ اگر آج ان کا خیال ہے کہ آذربائیجان اور درہ دانیال ان کے ملک کے دفاع کے لیے اہم ہیں تو پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل پھر وہ یہ کہے کہ لاہور اور بنگال بھی ان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے؟

[suffusion-the-author]

[suffusion-the-author display='description']