عبدالستار ایدھی کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان

 Party News  Comments Off on عبدالستار ایدھی کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان
Jul 102016
 

مورخہ : 10جولائی 2016

پشاور( پ ۔ر ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختون خوا نے عبدالستار ایدھی کی وفات پر 3روزہ سوگ کا اعلان کردیا ،باچاخان مرکز سمیت تما م اضلاع میں قرآن خوانی کی جائے گی سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے جو ان دنوں بیرون ملک نجی دورے پرہیں نے ٹیلی فون پر صحافیوں کو بتایا کہ عبدالستار ایدھی عظیم انسان تھے اور انہوں نے ساری زندگی رنگ ونسل اورمذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کی ہے اوران کے وفات سے پیدا ہونے والا خلاصدیوں پر نہیں ہوگا،وہ تاریکیوں میں امید کی کرن تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ایدھی صاحب حقیقت میں درویش اورفرشتہ صفت انسان تھے انہوں نے رحلت کی سفر پر جاتے ہوئے آنکھوں کا عطیہ دے کر بھی خدمت میں ممتاز مثال قائم کردی ہے انہوں نے کہاکہ عبدالستار ایدھی کی وفات سے پوری انسانیت یتیم ہوگئی ہے امیرحیدرخان ہوتی نے عبدالستار ایدھی کی بلند درجات کی دعا کرتے ہوئے بیوہ بلقیس ایدھی ،بیٹے فیصل ایدھی اور دیگر سوگواروں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس عظیم سانحے اورغم میں اے این پی آپ کے ساتھ ہے انہوں نے کہاکہ اے این پی عظیم انسانی خدمت گار کی رحلت کے باعث تین روزہ سوگ منائے گی اور باچاخان مرکز سمیت ضلعی دفاتر میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی جائے گی ۔

الیکشن 2018میں کامیابی کیلئے مدرسہ حقانیہ کو 30کروڑ روپے کی قسط ادا کی گئی

 Party News  Comments Off on الیکشن 2018میں کامیابی کیلئے مدرسہ حقانیہ کو 30کروڑ روپے کی قسط ادا کی گئی
Jun 302016
 

مورخہ 30جون 2016ء بروز جمعرات

الیکشن 2018میں کامیابی کیلئے مدرسہ حقانیہ کو 30کروڑ روپے کی قسط ادا کی گئی ، سردار حسین بابک
حکیم اللہ محسود کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنے والوں کا دور گزر چکا ہے ،
نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے باوجود کپتان کی سوچ میں تبدیلی نہیں آئی
خیبر بنک سکینڈل کی رپورٹ منظر عام پر نہ لا کر ایک بار پھر کرپشن کی گئی ،بلین ٹری میں بڑے بڑے نام سامنے آ رہے ہیں
جو لوگ ماضی میں کونسلر بننے کے اہل نہیں تھے وہ حکیم اللہ محسود کی معاونت سے ایوانوں تک جا پہنچے
لڑکیوں کی تعلیم اور پولیو مہم کی مخالفت کرنے والے مذہبی جنونیوں کو عمران خان سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختون قوم تبدیلی کے نام پر ووٹ دے کر پچھتا رہی ہے تاہم اب 2018 کے الیکشن میں کوئی حکیم اللہ محسود پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے نہیں آئے گا،صوبے میں نسبتاً جو امن قائم تھا اس کا تمام کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے اور اس امن میں ہمارے سینکڑوں شہداء کا خون شامل ہے ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مدرسہ حقانیہ کو 30کروڑ روپے کی رشوت آئندہ الیکشن میں کامیابی کیلئے دی گئی تاہم اب ایسا نہیں ہو گا اور ان کے ہمدرد پی ٹی آئی کو اقتدر نہیں دلوا سکیں گے عوام یہ بات جان چکے ہیں کہ صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی دوسری قوت نہیں کر سکتی ، انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی پختونوں کے حقوق کی محافظ جمہوریت پسند اور خدائی خدمت گار تحریک کی تسلسل جماعت ہے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر دیوار کو گرانے کی طاقت رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس جماعت کو کمزور کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں لیکن سہاروں اور دہشتگردوں کی معاونت سے ایوانوں میں پہنچنے والوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور وقت کی ہماری وکالت کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ہم پر کیچڑ اچھالنے والے خود اس جال میں پھنس گئے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ خان صاحب آج اس سوچ سے تعلق رکھنے والے عناصر کو سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں جن مذہبی جنونیوں نے پختون معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم اور پولیو مہم کے خلاف کس قدر بلیک میلنگ کی اور کتنی ہی مراعات لیں ،انہوں نے کہا کہ خیبر بنک کی نجکاری کی مذموم سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے جبکہ بلین ٹری سونامی میں بھی اب بڑے بڑے نام سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور دیگر شعبوں کو پی ٹی آئی کے مالی معاونین کے ہاتھوں فروخت کرنے پر اے این پی کبھی خاموش نہیں رہے گی ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اے این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے جو لوگ ماضی میں کونسلر بننے کے اہل نہیں تھے وہ حکیم اللہ محسود کی معاونت سے ایوانوں تک جا پہنچے تاہم 2018میں کوئی حکیم اللہ نہیں آئے گا اور پختون قوم اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو گھر بھیج دے گی ، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں اے این پی کلین سویپ کرے گی اور صوبے میں ترقی کا رک جانے والا پہیہ دوبارہ چلنے لگے گا،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ صوبے کی خوشحالی اور ترقی کیلئے ہم نے اپنی حکومت میں جو منصوبے مکمل کئے ملک کی 65سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ آج ایسے لوگوں کو اقتدار سونپا گیا ہے جن میں نہ تو حکومت چلانے کی صلاحیت ہے ا ور نہ ہی انہیں صوبے کے مفادات سے کوئی دلچسپی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور اے این پی اس خطے کی نمائندہ پارٹی کے طور پر پھر سے اپنی جگہ پا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت سی قوتیں انتہا پسندی کے معاملے پر مصلحت ، خوف اور دباؤ کا شکار ہیں تاہم اے این پی تمام تر قربانیوں ، زیادتیوں اور دباؤ کے باوجود میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اور ہماری تحریک ، جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس خطے اور صوبے کو امن اور ترقی کا گہوارا نہیں بنایا جاتا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی 2018ء کے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری کر رہی ہے۔

فوج ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی طالبان دوست پالیسیوں کے خلاف ایکشن لے، زاہد خان

 June-2016, Party News  Comments Off on فوج ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی طالبان دوست پالیسیوں کے خلاف ایکشن لے، زاہد خان
Jun 032016
 

مورخہ 3 جون 2016ء بروز جمعہ

فوج ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی طالبان دوست پالیسیوں کے خلاف ایکشن لے، زاہد خان
ٹی وی شوز میں ملا منصور اختر کو شہید قرار دینا قابل مذمت ہے ،شہداء کی قربانیوں پر سولیہ نشان کھڑا کیا گیا،
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اسمبلیوں میں موجود نمائندے دراصل طالبان کے پولیٹیکل ونگ ہیں
صورتحال سنگین ہے،تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ وصولی کی وجہ سے صوبے سے کاروبار سمیٹا جا رہا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق کی طرف سے مطلوب دہشت گرد ملا منصور کو ٹی وی ٹاک شو میں شہید قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے ادارے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی طالبان دوستی و سرپرستی پالیسی کے خلاف آئین پاکستان کے مطابق فوری اقدامات اٹھائیں ، اپنے ایک بیان میں زاہد خان نے کہا کہ افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کے خلاف جنگ کرنے والے حکیم اللہ محسود اور ساتھیوں کو بھی جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے شہید قرار دیا تھا اور افواج پاکستان کے شہداء کے بارے میں سوالیہ نشان چھوڑا تھا، انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں دراصل پاکستان میں نفرت ، انتہا پسندی ،دہشت گردی کے بیج بونے والی جماعتیں ہیں اور دونوں ہی افواج پاکستان اور سیاسی قیادت و حب الوطن شہریوں کی وطن کیلئے قربانیوں کو تسلیم نہ کر کے اپنے بیرونی آقاؤں کی نوکری پکی کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان عرف طالبان خان نے وزیرستان آپریشن کے خلاف بیانات دیئے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں مددگاروں اور سرپرستوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے گئے،، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اسمبلیوں میں موجود نمائندے دراصل طالبان کے پولیٹیکل ونگ ہیں،
زاہد خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی سرپرستی میں عملاً طالبان کے حوالے ہے ،تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ وصولی کی وجہ سے صوبے سے کاروبار سمیٹا جا رہا ہے، اے این پی حکومت نے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا جال بچھایا لیکن جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں صوبائی دارالحکومت کا نرسنگ ٹریننگ سکول بند ہونے سے مریضوں کی خدمت کرنے والی نرسیں بے روزگار ہو گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے کیلئے قائم مالاکنڈ کی خصوصی فورس کے ملازم بھی فارغ کر دیئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں دہشت گردوں کی مدد گار ہیں

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم

 April-2016, Latest, Party News, PRs-2016  Comments Off on اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
Apr 212016
 

مورخہ 21اپریل2016ء بروز جمعرات

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
آرمی چیف نے اپنے ادارے سے احتساب کے عمل کا آغاز کر کے اچھی روایت کی بنیاد ڈال دی ہے۔
ملک کے دوسرے ریاستی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کر کے ادارہ جاتی احتساب کا آغاز کرنا چاہیے۔
دہشتگردی کی طرح کرپشن کے ناسور نے بھی پاکستان کی ساکھ ، ترقی اور استحکام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں احتسابی عمل کے عملی آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کی تائید اور ستائش کی ہے اور تمام ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کریں تاکہ ملک سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے آرمی چیف کے حالیہ اقدام کو غیر معمولی اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے کہ اپنے ادارے سے احتسابی عمل کا آغاز سے ایک اچھی روایت ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی طرح کرپشن نے بھی ملک کیلئے ایک ناسور کی شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اس کے باعث نہ صرف یہ کہ ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے برباد ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوتا آیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے حالیہ فیصلے سے جہاں ایک طرف کرپشن کی حوصلہ شکنی اور خاتمے کا راستہ ہموار ہو گا وہاں ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ، شہرت اور نیک نامی میں بھی بہتری آئے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس عمل کو مستقبل میں جاری رہنا چاہیے تاکہ عملی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ کوئی بھی مواخذے سے مبریٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دوسرے ریاستی اور حکومتی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کرتے ہوئے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کے احتساب کا آغاز کرنا چاہیے جو کہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی نیک نامی ، ترقی اور استحکام کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی مصلحت یا تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے تاکہ اس ناسور سے پاکستان کو چھٹکارا دلایا جائے۔

چھٹا جشن پختونخوا

 Latest, Party News  Comments Off on چھٹا جشن پختونخوا
Apr 182016
 

تابۀ دروغ دروغ ګنړله خو رښتيا بۀ دې کړم
ما درته نۀ وې پښتونخوا چې پښتونخوا بۀ دې کړم
ما څو پېړئ ستا د تصوير په خاکه تېرې کړلې
اوس بۀ دې داسې کړم تصوير چې په خندا بۀ دې کړم
رحمت شاه سائل

چھٹاجشن خیبر پختون خوا. . . . 19اپریل
روخان یوسف زئے
شناخت اپنی ہو یا اپنے خاندان،قبیلے،قوم یا کسی قوم کی اپنی زمین اور وطن کا ہو یہ ایک فطری امرہے کہ وہ قوم اس پرنہ صرف فخرکرتی ہے بلکہ اپنی اس شناخت،پہچان اور نام پر مرمٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی، دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ کسی قوم نے اپنی قومی شناخت اور جغرافیائی حدبندی اور پہچان کے لیے کسی بھی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔جہاں تک موجودہ خیبرپختون خوا کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے، تو یہ اس خطے کا بہت ہی قدیم نام ہے جس کے بے شمار معتبرتاریخی حوالے اب بھی ہماری تاریخ کے مختلف کتب میں موجود ہیں ،پختون خوا جو خالص پشتو زبان کا نام ہے اور دو کلمو یعنی پختون اور خوا سے مرکب ہے جس کے معنی پختونوں کا علاقہ،طرف، دل،جانب،سینہ ہے،جیسا کہ خوا مے پرے یخہ شوہ(کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا) خوا تہ مے راشہ(میرے قریب آو) خوا پہ خوا ناستہ(سنگ بہ سنگ بیٹھنا) وغیرہ وغیرہ،لہذا پختون خوا نام کا ذکر قدیم تاریخ کی بیشتر کتابوں میں ہمیں ملتاہے،قدیم ’’رگ وید‘‘ میں اس خطے اور یہاں آباد قوم کو کبھی پکھتی،کبھی پکتیا، پکتیکا،پکھت،پخت اور بعدازاں پختون کے نام سے یاد کیاگیاہے۔
اس سلسلے میں پختونوں کی مشہور قبیلہ یوسف زئی کے پہلے قائد ملک احمدخان بابا کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جس وقت 1520ء میں اپنے قبیلے کے لیے الگ ریاست کی بنیاد رکھی تو اس ریاست کا نام یوسفزئی ریاست کے بجائے ’’پختون خوا ‘‘ رکھا اس وقت ان کی قائم کردہ ریاست میں مالاکنڈ،سوات،بونیر ،باجوڑ،صوابی ،مردان اور ہشتنگر کے علاقے شامل تھے،ان کے بعد پشتو ادب کی قدیم کتابوں میں سب سے پہلے معروف مذہبی بزرگ اخون درویزہ بابا(1533ء تا1638ء) نے اپنی مشہور کتاب’’مخزن‘‘ میں کئی جگہوں پر اس خطے کو پختون خوا کے نام سے لکھا اور پکارا ہے یعنی آج سے تقریباً چھ سو چار سال قبل اخون درویزہ بابا نے پختونوں کی سرزمین کو پختون خوا کے نام سے یاد کیاہے،ان کے بعد صاحب سیف قلم خوشحال خان خٹک(1613ء تا1690ء) نے اپنی شاعری میں دوبار پختون خوا کا نام استعمال کیاہے

نوره واړه پښتون خوا په ځائې مېشته ده
خو يو زۀ دې زمانې پکښې منصور کړم

نور چې څه د پښتون خوا دي حال ئې دادے
دغو بدو ته بۀ ئې څوک وائي چې سړي دي

پشتو کے کلاسیک شاعر معزاللہ خان مومند (1095ھ تا1167ھ)اپنے زمانے کے مشہور شاعررحمان بابا کی تعریف میں پختون خوا نام کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ
د تمامې پښتونخوا په شاعرانو
معزالله عبدالرحمن دے منتخب
اسی طرح ایک دوسرے کلاسک شاعر پیرمحمدکاکڑ (1125ھ تا1253ھ) بھی رحمان بابا کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
لکه شعر دے دده په پښتونخوا کښې
بل به کم وي په دا وخت د افغان شعر
افغانستان کے بانی اور پختونوں کے بہادر بادشاہ اور شاعر احمد شاہ ابدالی کا یہ مشہور شعر تو ہر پختون کو زبانی ازبر ہے کہ
د ډيلي تحت هيروومه چې راياد کړم
دا د خپلې پښتونخوا د غرۀ سرونه
فرانسیسی مشتشرق جیمز ڈاد میسیٹٹر نے پشتو کے مختلف شعراء اور فوک شاعری پر مشتمل جو کتاب 1888ء میں شائع کی ہے اس کتاب کا نام بھی اس نے’’د پختون خوا د شعر ہار وبہار‘‘ رکھا ہے،جس کے بعد بیسویں صدی اور موجودہ اکیسویں صدی میں تو پشتو کے ہر شاعر،ادیب نے اس خطے کو اپنے قدیم اور تاریخی نام سے لکھا اور پکارا ہے،تاہم اس قدیم شناخت اور تاریخی نام کے حصول کا سارا کریڈٹ فخرافغان خان عبدالغفار خان المعرف باچاخان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کو جاتاہے،جس نے سب سے پہلے 1988ء میں صوبائی اسمبلی میں پختونخوا کی قرارداد پاس کی بعد میں 1993ء میں بھی قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوئی اور پھر1997ء میں تیسری بار صوبے کے نام بدلنے اور اسے اپنا قدیم نام پختون خوا کی قرارداد صوبائی اسمبلی سے پاس کی،قومی اسمبلی کے فلور پر اس بات کا کریڈٹ مرحوم محمد افضل خان المعروف خان لالا کو جاتا ہے جنہوں نے پہلی بار 1990ء میں اپنے صوبے کو پختون خوا کے نام سے یاد کیا جس پر قومی اسمبلی میں بڑا ہنگامہ بھی ہوا تاہم خان لالا اپنے موقف پرڈٹے رہے،بہرحال اے این پی کے قائدین نے بڑی سیاسی حکمت عملی،بالغ نظری اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے سابق دور حکومت میں 19اپریل2010ء کو 1973ء کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے نام کی منظوری لے کر اپنی پختون قوم اور خطے کواپنی قدیم قومی شناخت اور تاریخی نام دینے میں کامیاب ٹھہری اور پوری قوم پر ایک ناقابل فراموش احسان کردیا،اے این پی کے اس عظیم تاریخی کارنامے کے اس کے مخالفین بھی معترف ہیں،اور تاریخ میں اس پارٹی کا ذکرسنہرے حروف سے لکھاجائے گا،یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پختون خوا یعنی الف کے بعد بعض لوگ اب بھی ہ لکھتے ہیں جو کہ سرار غلط ہے کیوں کہ پختون خوا اور پختون خواہ کے معنی الگ الگ ہیں جو لوگ اب بھی پختون خواہ لکھتے ہیں تو یہ فارسی زبان کی ترکیب بن جاتی ہے جس کا مطلب پختون خوا مانگنا بنتاہے جب کہ بغیر ہ کے یعنی پختون خوا کا مطلب اور معنیٰ پختونوں کی سرزمین اور علاقہ ہے،لہذا گزارش ہے کہ اپنے خطے کو اپنے ہی تاریخی اور درست نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ اس سلسلے میں اے این پی پورے صوبے،پاٹا اور قبائلی ایجنسیوں میں بھرپورجشن منارہی ہے

‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan

 Latest, Party News  Comments Off on ‪‎PanamaLeaks‬; PM did not take Parliament in to confidence. Asfandyar Wali Khan
Apr 132016
 

10-21-2015 8-07-25 PMPeshawar: The country is heading into a political crisis due to the inappropriate response of the PML(N) government to Panama Leaks. Instead of coming clean on the Offshore accounts by going for a credible inquiry, unfortunately the government went for white washing. The so called Inquiry Commission comprising of a retired judge declared by the Prime Minister has been justifiably rejected by all shades of public opinion of the country. The situation was further aggravated when the Prime Minister did not take Parliament of the country into confidence on the issue. ANP is of the considered opinion that allegations arising out of Panama Leaks have put the moral standing of the government under question. The only way out of this situation is the appointment of a fully empowered Judicial Commission led by the Hon’ble Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan with a definite timeline. ANP fully supports a transparent, credible and comprehensive investigation of the Panama Leaks and would support the efforts of democratic political parties in this regard. However we will request political forces to show patience, tolerance and restraint until the final results of the investigation process. Democratic political parties also need to vigilantly guard the democratic constitutional system. As per its historical traditions, ANP will oppose any effort aimed at derailment of democratic system.

 

Asfandyar Wali Khan
Central President

فیصل زیب خان اے این پی کی صوبائی کونسل کے ممبر نامزد

 Party News  Comments Off on فیصل زیب خان اے این پی کی صوبائی کونسل کے ممبر نامزد
Mar 022016
 

IMG_0674مورخہ 2مارچ 2016ء بروز بدھ

فیصل زیب خان اے این پی کی صوبائی کونسل کے ممبر نامزد

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے شانگلہ کے فیصل زیب خان کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا ہے ، اور اس حوالے سے ان کی نامزدگی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے فیصل زیب خان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں پارٹی کی مزید فعالیت کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔