ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر بنائی جا رہی ہے، زاہد خان

 Nov-2018  Comments Off on ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر بنائی جا رہی ہے، زاہد خان
Nov 142018
 

ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر بنائی جا رہی ہے، زاہد خان
آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے بعدمہنگائی کی شرح میں مزید 40فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
بجلی سبسڈی ختم کرنے سے صارفین پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا ۔
تین روپے سے زائد فی یونٹ اضافے سے مہنگائی کا نیا سونامی آئے گا۔
عمران خان کی ٹیم میں نااہلی ہے۔ حکومت کا 100روزہ ایجنڈا سیاسی گفتگو ثابت ہوا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے بجلی کی قیمتوں میں مزید ممکنہ اضافے کو حکومتی ٹیم کی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور چین کے بعد حکومت آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں جا بیٹھی ہے اور مہنگائی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا دباؤ قبول کرنا شروع کر دیا ہے ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ٹیم میں نااہلی ، بدانتظامی اور بدنیتی ہے۔ حکومت کا 100روزہ ایجنڈا سیاسی گفتگو ثابت ہواجبکہ 70روزہ کارکردگی میں صرف بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سارا زور لگایا گیا ، انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھی جا رہی ہے ،ملک میں مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ حکومت ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90ڈالر سے کم ہوکر70ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، زاہد خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی سبسڈی ختم کرنے سے صارفین پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا جس کا حکومت کو ادراک نہیں ، انہوں نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور تین روپے سے زائد فی یونٹ اضافے سے مہنگائی کا نیا سونامی آئے گا ، پی ٹی آئی کے سونامی نے عوام کو مہنگائی کی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے زندگی گزارنا محال ہو گیا ہے۔ بجلی کے نرخوں کے نئے سلیب جاری ہونے کے بعد عوام سمیت تمام شعبوں کیلئے بجلی مہنگی کر دی گئی ہے جس سے ہر طبقہ پریشان ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے دباؤ میں آنے کی بجائے معاشی اپالیسی سازوں کی خدمات حاصل کرے، آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے بعدمہنگائی کی شرح میں مزید 40فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس سے غریب آدمی زندہ درگورہو جائے گا۔

قومی مالیاتی کمیشن میں امپورٹڈ ممبر کی تقرری پختونوں کی تضحیک کے مترادف ہے

 Nov-2018  Comments Off on قومی مالیاتی کمیشن میں امپورٹڈ ممبر کی تقرری پختونوں کی تضحیک کے مترادف ہے
Nov 142018
 

قومی مالیاتی کمیشن میں امپورٹڈ ممبر کی تقرری پختونوں کی تضحیک کے مترادف ہے، ا میر حیدر خان ہوتی
پنجاب کا باشندہ مالیاتی کمیشن میں ہمارے صوبے کی وکالت کیسے کر سکتا ہےْ
پختونوں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے جس سے احساس محرومی نے جنم لیا۔
حکمران اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے خیبر پختونخوا کے وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
تبدیلی سرکار کے مسلط کردہ غیر آئینی فیصلوں کو عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر واپس کر رہی ہیں۔
عمران کے گڈ گورننس کے دعوؤں کی قلعی کھلتی جا رہی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے قومی مالیاتی کمیشن میں امورٹڈ ممبر کی تقرری پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب سے ممبر لاکر پختونوں کی تضحیک کی گئی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قابل ماہر معاشیات کی کوئی کمی نہیں،پنجاب کا باشندہ مالیاتی کمیشن میں ہمارے صوبے کی وکالت کیسے کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار ہم پر پنجاب سے فیصلے مسلط کر رہی ہے اور ایک عرصہ سے پختونوں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے جس سے احساس محرومی نے جنم لیا ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی جامعات کیلئے وائس چانسلرز کا انتخاب بھی پنجاب سے کیا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران پنجاب کے اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے خیبر پختونخوا کے وسائل استعمال کر رہے ہیں، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبے کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے جسے گزشتہ پانچ سال سے چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ تبدیلی سرکار کے مسلط کردہ غیر آئینی فیصلوں کو عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر واپس کر رہی ہیں جس کی واضح مثال خیبر پختونخوا سمبلی میں سابق دور میں ہونے والی تقرریوں اور ترقیوں کو پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے کالعدم کیاجانا ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام کو دھوکہ دیا گیا اورسو روزہ پلان کی تکرار کے بعد عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے تحفے دیئے گئے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عمران کے گڈ گورننس کے دعوؤں کی قلعی عدالتیں کھولتی جا رہی ہیں اور 70دن کے مختصر عرصہ میں تمام حقیقت عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔

حکومت طاہر داوڑ کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے

 Nov-2018  Comments Off on حکومت طاہر داوڑ کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے
Nov 142018
 

حکومت طاہر داوڑ کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے، ایمل ولی خان
اے این پی خاموش نہیں رہے گی ، بربریت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
حکومتی مشینری اور ادارے واضح کریں کہ طاہر داوڑ کیس کو کیوں دبایا جا رہا ہے؟
اسلام آباد سے اغواء ہونے والے پولیس افسر کی افغانستان منتقلی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔
میڈیا پر واقعے کا بلیک آؤٹ کیا گیا، حکومت واقعے کے محرکات سے آگاہ دکھائی دیتی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت پر حکومتی خاموشی معنی خیز ہے البتہ اے این پی اس سنگین نوعیت کے معاملے پر کسی طور خاموش نہیں رہے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت شہید ایس پی طاہر داوڑ کے کیس پر مجرمانہ خاموشی کی وضاحت کرے ،حکومتی مشینری اور ادارے واضح کریں کہ طاہر داوڑ کیس کو کیوں دبایا جا رہا ہے ، ایمل ولی خان نے وزیر داخلہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر موصوف کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ نڈر پختون پولیس آفیسر کی شہادت پر خاموش ہیں،انہوں نے کہا کہ قوم کو واضح کیا جائے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا کیس کیوں اس قدر حساس ہے ؟دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ حکومت قاتلوں اور قتل کے محرکات سے بخوبی آگاہ ہے، ایمل خان نے تعجب کا اظہار کیا کہ اسلام آباد سے اغواء ہونے والے پولیس افسر کو افغانستان کیسے منتقل کیا گیا،انہوں نے کہا کہ میڈیا پر واقعے کو بلیک آؤٹ کر کے حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟انہوں نے کہا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے پولیس جوانوں پر فخر ہے اور ہم اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تاہم طاہر داوڑ کی شہادت سے پولیس کا مورال زمین بوس ہو گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی طاہر داوڑ شہید کے واقعے پر خاموش نہیں رہے گی اور ہر پلیٹ فارم پر اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

ایس پی طاہر داوڑ کا اغواء اور قتل حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے

 Nov-2018  Comments Off on ایس پی طاہر داوڑ کا اغواء اور قتل حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے
Nov 132018
 

ایس پی طاہر داوڑ کا اغواء اور قتل حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،سردار حسین بابک
اسلام آبادواقعے نے مرکزی و صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی ظاہر کر دی ہے۔
ملک میں ایک سیکورٹی افسر محفوظ نہیں تو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی توقع کس سے کی جائے ؟
حکومتیں واقعے کی تفصیلات سامنے لائیں اور قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں ۔
طاہر داوڑ کے قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے ، قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اسلام آباد سے اغوا ہونے والے ایس پی طاہر داوڑ کے بیدردی سے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے غمزدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مقتول ایس پی کی مغفرت کیلئے دعا کی اور کہا کہ طاہر داوڑ کا اغواء اور بیدردی سے قتل کر کے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ایک آفیسر کے اغوا اور بے دردی سے قتل نے ان کی غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی ظاہر کر دی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک سیکورٹی افسر محفوظ نہیں تو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی توقع کس سے کی جائے ؟سردار بابک نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس واقعے کی تفصیلات سامنے لائیں اور قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں ،ملک کے دارالخلافہ سے پولیس افسر کے اغواء اور قتل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ حکومتوں کو عوام کی جان ومال کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ صرف حکمرانی کے نشے میں مست ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور انتہائی بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ، انہوں نے کہا کہ طاہر داوڑ کے قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ 

بد امنی بارے حکومت کی عدم دلچسپی سے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں،ایمل ولی خان

 Nov-2018  Comments Off on بد امنی بارے حکومت کی عدم دلچسپی سے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں،ایمل ولی خان
Nov 122018
 

بد امنی بارے حکومت کی عدم دلچسپی سے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں،ایمل ولی خان

صورتحال انتہائی حساس ہے، حکومت ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے خلاف منظم کاروائی کرے۔

سلیکٹڈ حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں، حکومتی غفلت کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔

بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول نے صوبے کو ہر لحاظ سے کمزور کر دیا ہے۔

صوبے میں جنگل کا قانون ہے،حکومت کی امن و امان کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبے میں بد امنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، حکومت ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے خلاف منظم کاروائی کرے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے تو یہ صورتحال یکسر ختم ہو سکتی ہے،اپنے ایک بیان میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔عدم تحفظ کے شکارعوام میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے۔صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے ، بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پر سلیکٹڈ حکمران تماشائی بنے بیٹھے ہیں جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ حکومت اس حوالے سے روز اول سے ہی اپنی ذمہ داری سے غافل ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزموں اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دے تا کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی پالیسی تاحال واضح نہیں ہے اور صوبے میں جنگل کا قانون ہے جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔

بونیر چملہ میں فصلوں کو نقصانات ، اے این پی نے تحریک التوا جمع کرا دی

 Nov-2018  Comments Off on بونیر چملہ میں فصلوں کو نقصانات ، اے این پی نے تحریک التوا جمع کرا دی
Nov 122018
 

بونیر چملہ میں فصلوں کو نقصانات ، اے این پی نے تحریک التوا جمع کرا دی

علاقہ میں کئی سو کنال اراضی پر کاشتکار ہر سال ٹماٹر کی بہترین فصل کاشت کرتے آ رہے ہیں۔

امسال ناگہانی امراض کے باعث فصل کو شدید نقصان پہنچا اور تمام فصل خشک ہو کر تباہ ہو چکی ہے۔

محکمہ زراعت کے ماہرین کی ٹیم بھیج کر مرض کی وجوہات معلوم کی جائیں ۔
کاشتکاروں کو ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر ان کی بھرپور مالی امداد کی جائے۔سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے بونیر چملہ میں ٹماٹر کی فصل کی تباہی اور کاشتکاروں کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ زراعت کے ماہرین کی ٹیم متاثرہ علاقے میں بھیج کو وجوہات اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے ، تحریک التوا پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جمع کرائی ، تحریک میں ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بونیر کے علاقہ چملہ میں کئی سو کنال اراضی پر کاشتکار ہر سال ٹماٹر کی بہترین فصل کاشت کرتے آ رہے ہیں تاہم بدقسمتی سے امسال ناگہانی امراض کے باعث فصل کو شدید نقصان پہنچا اور تمام فصل خشک ہو کر تباہ ہو چکی ہے،جس کی وجہ سے علاقے کے غریب کاشتکاروں اور زمینداروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پرا ،تحریک میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متذکرہ بالا علاقے میں محکمہ زراعت کے ماہرین کی ٹیم بھیج کر فصل کی تباہی اور مرض کی وجوہات معلوم کی جائیں اور اس کی تشخیص کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاشتکاروں کو ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر ان کی بھرپور مالی امداد کی جائے تاکہ علاقے کے غریب کاشتکاروں کے نقصانات کا ازالہ ہو سکے۔

نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ لاہور کی طرف ہے، زاہد خان

 Nov-2018  Comments Off on نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ لاہور کی طرف ہے، زاہد خان
Nov 122018
 

نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ لاہور کی طرف ہے، زاہد خان

پشاور بی آر ٹی میں ہونے والی کروڑوں کی خرد برد اور بد انتظامی سے چشم پوشی اختیار کی گئی ہے۔

گردو غبار کے طوفان سے بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں لیکن دونوں ادارے اس حوالے سے خاموش ہیں۔

شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ،صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

صوبے کو مزید مقروض کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں، احتسابی ادارے نوٹس لیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ چیئرمین نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ صرف لاہور کی طرف ہے اور پشاور میں بی آر ٹی میں ہونے والی کروڑوں کی خرد برد اور بد انتظامی سے انہوں نے کیوں چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے ستائے عوام ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ سردی میں بی آر ٹی کے باعث گردو غبار کے طوفان سے بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں لیکن دونوں ادارے اس حوالے سے خاموش ہیں جس کی وجہ سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ،زاہد خان نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ،اور حکمران عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر سب اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت نے صوبے کو 366ارب روپے کا مقروض کر دیا جبکہ اس بار مزید قرضوں کیلئے ہاتھ پھیلانے کی تیاری کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ احتسابی ادارے اور عدالت عظمی کے چیف جسٹس بد عنوانیوں کا نوٹس لیں۔