اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس کل باچا خان مرکز میں ہو گا

 Party News, Sept-2018  Comments Off on اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس کل باچا خان مرکز میں ہو گا
Sep 302018
 

اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس کل باچا خان مرکز میں ہو گا

اجلاس میں ملک بھر سے 7سو سے زائد قائدین اجلاس میں شرکت کریں گے۔

میاں افتخار حسین کا مرکزی کونسل کے اجلاس کیلئے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ ۔

تمام وحدتوں پنجاب ، بلوچستان، سندھ ،سرائیکی اور خیبر پختونخوا میں رابطے مکمل ہیں۔

اجلاس میں انٹرا پارٹی الیکشن، ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی زیر صدارت پارٹی کی مرکزی کونسل کا اجلاس کل بروز پیر دن گیارہ بجے باچا خان مرکز میں منعقد ہو گا ، اجلاس میں ملک بھر سے 7سو سے زائد قائدین اجلاس میں شرکت کریں گے ،پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے آج باچا خان مرکز میں مرکزی کونسل کے اجلاس کیلئے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا ، انہوں نے کہا کہ مرکزی کونسل کے اجلاس کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے تیاری مکمل ہے ، انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کیلئے تمام وحدتوں یعنی پنجاب ، بلوچستان، سندھ ،سرائیکی اور خیبر پختونخوا میں رابطے مکمل کئے گئے ہیں اور انہوں نے اجلاس میں شرکت کرنے والے مندوبین کی فہرستیں بھی ارسال کر دی ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ کل کے اجلاس میں شرکت کیلئے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا۔انہوں نے اتوار تک اور پیر کی صبح پہنچنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ اجلاس کل دن گیارہ بجے شروع ہو گا لہٰذا تمام حضرات وقت مقررہ پر تشریف لائیں، اجلاس میں انٹرا پارٹی الیکشن، ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مرکزی صدر کی اجازت سے کسی بھی اہم نکتے پر تفصیلی بحث کی جائے گی

کشکول کے مخالف آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں

 Sept-2018  Comments Off on کشکول کے مخالف آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں
Sep 282018
 

کشکول کے مخالف آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، امیر حیدر خان ہوتی
عوام کو سبز باغات دکھانے والے بھینسوں کی فروخت سے ملک چلانے لگے ہیں۔
غریب گورنرہاؤس کی سیر نہیں دووقت کی روٹی چاہتے ہیں ، 187ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے۔
موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے والے غلطیوں پربہت جلد اسے رخصت کردیں گے۔
جنات نے الیکشن میں ہاتھ کی صفائی دکھائی لیکن وہ تعداد کا صحیح اندازہ نہیں کر سکے ۔
پارلیمانی کمیشن کی تحقیقات میں پولنگ ایجنٹوں کے دستخطوں کے بغیر نتائج قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

مردان( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ عوام کو سبز باغات دکھانے والے اب بھینسوں کی فروخت سے ملک چلانے لگے ہیں ، غریب گورنرہاؤس کی سیر نہیں چاہتے وہ دووقت کی روٹی کے طلب گارہیں ،موجودہ حکومت نے 187ارب روپے کے ٹیکس لگادیئے ہیں ،نوازشریف حکومت کے قرضوں کی بات کرتے وقت پی ٹی آئی کی سابق حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کی بھی چانچ پڑتال کی جائے وہ اپنی رہائش گاہ پر ورکرز کنونشن سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت مردان ررول کے صدر حاجی شاہ نواز خان نے کی جبکہ پی کے 53کے امیدوار حاجی احمد بہادر اورعمران ماندوری نے بھی کنونشن سے خطاب کیا، اے این پی کے صوبائی صدر نے الزام عائد کیا کہ عام انتخابات میں جنات نے 6بجے کے بعد ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے صوبائی اسمبلی میں دس سے پندرہ ہزار ووٹ اضافی ڈالے جبکہ قومی اسمبلی کی سیٹوں پر 20ہزار سے 28ہزار تک ووٹ اضافی ووٹ ڈالے گئے، انہوں نے کہاکہ مردان کے عوام کی محبت کی وجہ سے وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر بال بال بچے ہیں اور گیم بنانے والے صحیح اندازہ نہیں کرسکے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے والے بہت جلد ہی اسے رخصت کردیں گے کیونکہ ڈیڑھ ماہ میں انہوں نے غلطیاں شروع کی ہیں جس کی واضح مثال چین کے وزیر خارجہ کی ناراضی ہے ،جس پر ایک ادارے کے سربراہ کو چین جاکر دوست ملک کو راضی کرنا پڑا ،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر نے کہاکہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن کے سامنے یہ بات ضرور رکھیں گے کہ ہم صرف ان نتائج کو تسلیم کریں گے جن پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط ہوں اورتمام بکسوں کی کاؤنٹر فائلز کھول کر اس کی فرانزک تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف ہر چیز کی ذمہ داری سابق حکومت پر ڈالنے کی بجائے اپنی کارکردگی دکھائے ،انہوں نے کہاکہ بیرونی قرضوں پر تنقید کرنے والی حکومت اب خود آئی ایم ایف کے گود میں بیٹھنے کے لئے پر تول رہی ہے، انہوں نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ووٹروں کو گھروں سے نکالیں اور پولنگ سٹیشنوں پر نظر رکھیں تاکہ ہمارا مینڈیٹ کوئی اور چوری نہ کرسکے ، انہوں نے مزیدکہاکہ جعلی مینڈیٹ کے غبارے سے بہت جلد ہوا نکل جائے گی ،اے این پی ہی پختون قوم کو بحران سے نکال سکتی ہے ۔

بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ، اے این پی نے پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی

 Sept-2018  Comments Off on بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ، اے این پی نے پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی
Sep 272018
 

بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ، اے این پی نے پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی۔
ملک کے طول وعرض میں زیادہ ترپختونوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں۔
شہریوں کو معمولات زندگی اور حکومت سے متعلقہ امور میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔
مرکزی حکومت سنجیدگی سے بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے پر توجہ دے۔
ملک کے مختلف حصوں میں قیام پذیر پختون گھرانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارت داخلہ ٹھوس اقدامات اٹھاکر شہریوں کی مشکلات کا آزالہ کرے۔پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے پختونخوا اسمبلی میں بلاک شناختی کارڈز کی بابت ایک قرارداد جمع کرائی ہے جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عرضہ دراز سے پختونوں کے بلاک شناختی کارڈز ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے اور عوام روزانہ کی بنیاد پر اس پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں لہذا مرکزی حکومت اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پختونخوا اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بلاک شناختی کارڈز کی وجہ سے عوام کو روزمرہ معمولات میں دشواریاں پیش آرہی ہیں اور حکومت سے متعلقہ سرکاری امور کی انجام دہی میں بھی بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت کو سنجیدگی سے اس اہم اور ضروری نوعیت کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے تباہ حال پختون گھرانے ملک کے مختلف حصوں میں قیام پذیر ہیں لیکن شناختی کارڈ کے مسئلے نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ شہریوں کے مشکلات کا آزالہ کرنے میں دلچسپی لے۔ تاکہ ان کو ملک کے اندر اور باہر درپیش ضروریات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔

سیدو میں حاملہ خاتون کا معاملہ ۔ اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا

 Sept-2018  Comments Off on سیدو میں حاملہ خاتون کا معاملہ ۔ اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا
Sep 262018
 

سیدو میں حاملہ خاتون کا معاملہ ۔ اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا یا ہے جس میں میں سپیکر کی توجہ گزشتہ روز سیدو شریف ہسپتال سوات میں حاملہ خاتون کو ہسپتال میں داخل نہ کرنے کی جانب دلائی گئی ہے ، توجہ دلاؤ نوٹس اے این پی کی رکن اسمبلی شگفتہ ملک نے جمع کرایا جس میں مزید کہا گیا ہے کہ شدید تکلیف کے باوجود ہسپتال کے عملے نے خاتون کو داخل کرنے سے انکار کر دیا اور اسے ہسپتال سے نکال باہر کیا جس کے نتیجے میں مذکورہ خاتون نے گندے نال میں بچے کو جنم دیا ، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے واقعات سنگیں صورتحال اختیار کر رہے ہیں۔لہذا اس پر بحث کی اجازت دی جائے۔

درہ آدم خیل کان حادثہ، اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا

 Sept-2018  Comments Off on درہ آدم خیل کان حادثہ، اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا
Sep 262018
 

درہ آدم خیل کان حادثہ، اے این پی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر دیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس میں سپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ حال ہی میں درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان میں مزدوروں کی شہادت کا جو واقعہ رونما ہوا ہے، اس کے متاثرین اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو قانون کے مطابق معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ، توجہ دلاؤ نوٹس اے این پی کے رکن اسمبلی فیصل زیب خان نے پیش کیا اور اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئلے کی کان میں پیش آنے والے آئے روز کے واقعات معمول بن چکے ہیں لیکن بار بار یقین دہانیوں کے باوجود اس اہم انسانی مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ، اس سے قبل بھی کوئٹہ، درہ آدم خیل اور اورکزئی میں اس قسم کے بہت سارے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بہت سارے افراد شہید ہوچکے ہیں۔ اور تاحال ان شہداء کے لواحقین کو قانون کے مطابق معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ۔ مید برآں اس ضمن میں متعلقہ محکمہ کی عدم توجہ کی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔لہذا اس پر بحث کی اجازت دی جائے۔

بند کمروں میں بجٹ تیاری اور وسائل کی من پسند تقسیم انصاف کے منافی ہے

 Sept-2018  Comments Off on بند کمروں میں بجٹ تیاری اور وسائل کی من پسند تقسیم انصاف کے منافی ہے
Sep 262018
 

بند کمروں میں بجٹ تیاری اور وسائل کی من پسند تقسیم انصاف کے منافی ہے،سردار حسین بابک
پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت نے صوبے کے وسائل سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے تھے۔
صوبائی اسمبلی کو صوبے کی مالی بد حالی کی وجوہات اور بجٹ کی تیاری سے آگاہ کیا جائے۔
پسماندہ صوبے کے محدود وسائل مشاورت اور سوچ سمجھ کر تقسیم کرنا عوام کے مفاد میں ہے۔
سی سی آئی اجلاس میں قیمتیں بڑھانے اور اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کا مسئلہ نہ اٹھانا صوبائی حکومت کی کمزاوری ہے۔
گیس ،بجلی اور تیل ہمارے صوبے کی پیداوار ہیں اور ان پر سب سے پہلا حق اس صوبے کے عوام کا ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بند کمروں میں بجٹ کی تیاری سے گریز کرے اور صوبائی اسمبلی کو صوبے کی مالی بد حالی کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے اپنے محاصل غیر متوقع کمی ، بیرونی امداد میں کمی اور مرکز کی جانب سے صوبے کے حصے کی رقم کی عدم ادائیگی کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنا حکومتی ذمہ داری ہے ، انہوں نے کہا کہ جو بجٹ اسمبلی نے پاس کرنا ہے اسی بجٹ کی تیاری میں اسمبلی کو نظر انداز کرنا اور بند کمروں میں مخصوص حلقوں اور علاقوں میں صوبے کے وسائل کی تقسیم انصاف کے منافی ہے،سردار بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پہلی صوبائی حکومت نے بھی صوبے کے وسائل کو ضرورت اور پسماندگی کی بجائے سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس کے محدود وسائل مشاورت اور سوچ سمجھ کر تقسیم کرنا ہی عوام کے مفاد میں ہے،انہوں نے وفاقی بجٹ میں صوبے کو یکسر نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاق کی جانب سے پسماندہ صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی کی گئی ،سی پیک، چشمہ رائٹ بنک کنال ، پشاور کراچی موٹر وے، قبائلی اضلاع کے تباہ انفراسٹرکچر ، صوبے میں چھوٹے ڈیم بنانے کے منصوبے جیسے اہم منصوبوں کو نظر انداز کرنا اور اس کیلئے بجٹ میں کوئی رقم نہ رکھنا خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے ، انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں گیس ،پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے اور اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کا مسئلہ نہ اٹھانا صوبائی حکومت کی کمزاوری ہے انہوں نے پھر واضح کیا کہ گیس ،بجلی اور تیل ہمارے صوبے کی پیداوار ہیں اور ان پر سب سے پہلا حق اس صوبے کے عوام کا ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام متحد ہو جائیں تو اپنے آئینی حقوق لے کر رہیں گے ، سردار حسین بابک نے مہنگائی اور ٹیکسوں کے سونامی نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، حکومتوں کو زبانی جمع خرچ سے نکل کر عوام کی مشکلات میں کمی اور مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہونا ہو گا۔ 

اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے

 Sept-2018  Comments Off on اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے
Sep 242018
 

پریس کانفرنس

اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے، اسفندیار ولی خان 
ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
مسائل جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں۔
بھارت نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو اے این پی قوم کے شانہ بشانہ میدان میں ہوگی۔
ملک میں تین نسلوں سے آباد افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت ان کا بنیادی حق ہے۔
انسانی مسئلہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے۔
متنازعہ معاملات کو چھیڑنے اور صرف پنجاب کو پاکستان تصور کرنے سے گریز کیا جائے۔
آرٹیکل6کیلئے تیار ہیں لیکن کالاباغ ڈیم کی حمایت کسی صورت نہیں کر سکتے۔
اے این پی ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی ۔
دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اس کا ساتھ دے گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کیلئے بارڈر کھولا جانا چاہئے۔باچا خان مرکز میں پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہیں ، مسائل جنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں، بھارت نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو اے این پی قوم کے شانہ بشانہ میدان میں ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی مذمت کی تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم کو نازیبا الفاظ زیب نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خطے میں ماسوائے چین کے کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں اور یہ خطے کے امن کی راہ میں رکاوٹ ہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پرامن اور مترقی افغانستان کے بغیر پرامن اور مترقی پاکستان کا تصور پاگل پن ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کاروبار کیلئے بارڈر کھولا جانا چاہئے ،ویزے کی سہولت دی جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو ،اس سے افغانستان کو بھی فائدہ ہو گا اور پاکستان کے ہاتھ مضبوط تجارتی منڈی بھی آ جائے گی،دونوں ممالک میں رشتے مزید مضبوط ہو نگے اور امن کے قیام میں مدد ملے گی جو دونوں ملکوں کی ترقی کیلئے اشد ضروری ہے۔ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی شہریت سے متعلق انہوں نے کہا کہ تین نسلوں سے آباد افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت ان کا بنیادی حق ہے ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی مسئلہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مشرقی سرحد سے آنے والوں کو شہریت کے ساتھ اقتدار میں بھی حصہ دیا گیا لیکن مغربی سرحد والوں کے ساتھ نسل در نسل امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور جہاد افغانستان کیلئے انہیں استعمال کرنے کے بعد لاوارث سمجھ لیا گیا، کالاباغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متنازعہ معاملات کو چھیڑنے اور صرف پنجاب کو پاکستان تصور کرنے سے گریز کیا جائے،انہوں نے کہا کہ پختون لیڈرشپ کو پالیمنٹ سے باہر رکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل6کیلئے تیار ہیں لیکن کالاباغ ڈیم کی حمایت کسی صورت نہیں کر سکتے ،انہوں نے حکمران طبقہ کو متنبہ کیا کہ اعتدال پسند طبقات پر جبری فیصلے مسلط کرنے کے نتائج بھیانک ہونگے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی ضمنی الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی اور کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی ، انہوں نے کہا کہ 25جولائی کو فوج کو جتنا متنازعہ بنایا گیا وہ کافی ہے اور ضمنی الیکشن میں وہ تجربہ دہرانا ادارے کی ساکھ کیلئے بہتر نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ انتخابات میں 6بجے تک پولنگ ٹھیک ہوئی تاہم بعد میں ایک گھنٹہ کے اندر پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر من مانیاں کی گئیں،انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہیں اور دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اس کا ساتھ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم تاحال یوٹرن لے رہے ہیں ، انہیں چاہئے کہ جو انہیں لے کر آئے ہیں ان سے پوچھ کر پالیسی بیان جاری کیا کریں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن میں شامل کسی ایک سیاسی جماعت کی مجبور ی باقی اپوزیشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور اگر تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا تو اے این پی اس میں ساتھ دے گی۔