قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی آباد کاری وفاق کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے

 August-2018  Comments Off on قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی آباد کاری وفاق کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے
Aug 312018
 

قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی آباد کاری وفاق کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے، سردار حسین بابک
مرکزی حکومت 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کے ساتھ دہشت گردی کے نتیجے میں تباہ ہونے والی املاک کی آباد کاری کا اعلان کرے۔
قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہے تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور معمولات زندگی رک چکے ہیں۔
ہزاروں گھرانے ملک کے دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں، مزید تاخیر ناانصافی ہو گی۔
وزیر اعظم تباہ حال املاک کا تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کر کے وہاں کے عوام کی مالی معاونت یقینی بنائیں۔
دہشت گردی کے خلاف ملاکنڈ کے عوام کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی بجائے ٹیکسز نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ قبائلی اضلاع میں دہشت گردی اور مختلف آپریشنز کے نتیجے میں تباہ ہونے والے ہزاروں گھروں ،مارکیٹوں اور دکانوں کی دوبارہ آباد کاری کا اعلان کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں عوام کے گھر اور کاروبار دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں جس سے وہاں کے پختونوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے اقتدار میں آ کر قبائلی عوام کی دوبارہ آباد کاری اور نقصانات کے ازالے کیلئے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا،سردار حسین بابک نے کہا قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہے تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور معمولات زندگی رک چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نئی وفاقی حکومت کو اس حوالے سے فوری اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں،انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی اور بد امنی کی صورتحال نے قبائلی اضلاع کے ہزاروں گھرانے ملک کے دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں،لہٰذا وہاں کی تباہ حال معیشت کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ آبادکاری میں تاخیر ناانصافی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی ہر فورم پر قبائلی عوام کے حقوق کی آواز اٹھاتی رہے گی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم قبائلی اضلاع میں لوگوں کے تباہ حال گھروں ، دکانوں ،مارکیٹوں اور ذاتی املاک کی تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کریں اور وہاں کے عوام کی مالی معاونت یقینی بنائیں۔سردار بابک نے وفاق کی جانب سے ملاکنڈ میں ٹیکس کے نفاذ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انہیں یاد رکھا جائے اور انہی قربانیوں کے صلے میں گزشتہ حکومت نے ملاکنڈ کو پانچ سال کیلئے ٹیکس سے مستثنی قرار دیا تھا جس میں مزید توسیع رکھی گئی تھی ، انہوں نے کہا کہ ٹیکسز اطلاق کا فیصلہ واپس لے کر ملاکنڈ کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ 

خیبر پختونخوا کو گیس کی عدم فراہمی ، اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

 August-2018  Comments Off on خیبر پختونخوا کو گیس کی عدم فراہمی ، اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی
Aug 292018
 

خیبر پختونخوا کو گیس کی عدم فراہمی ، اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی

قرارداد اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور خوشدل خان ایڈوکیٹ نے جمع کرائی ۔

مرکزی حکومت سے خیبر پختونخوا کی پیداواری گیس صوبے کے تمام اضلاع کو فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ ۔

خیبر پختونخوا کے تقریباً تمام اضلاع گیس کی سہولت سے محروم ہیں ، عوام لکڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل158میں واضح طور پر گیس کی پیداوار اور اس کی تقسیم کے حوالے سے تحریر موجود ہے۔

حکومت شجرکاری مہم پر اربوں روپیہ لگانے کی بجائے تمام اضلاع کوگیس فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کو اس کی پیداواری گیس میں جائز حق نہ ملنے کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی ہے جس میں صوبائی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سے آئین کے آرٹیکل158کے تحت خیبر پختونخوا کی پیداوار گیس صوبے کے تمام اضلاع کو فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کرے ،قرارداد اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک اور رکن اسمبلی خوشدل خان ایڈوکیٹ نے جمع کرائی ، قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں واضح الفاظ میں تحریر ہے کہ گیس جس صوبے کی پیداوار ہو گی سب سے پہلے اسی صوبے کی ضرورت پوری کی جائے گی تاہم آج تک خیبر پختونخوا کے تقریباً تمام اضلاع گیس کی سہولت سے محروم ہیں اور وہاں غریب عوام جلانے کیلئے لکڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں جس کیلئے جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شجرکاری مہم پر اربوں روپیہ لگانے کی بجائے صوبے کے کونے کونے میں گیس فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے ، انہوں نے کہا کہ جنگلات کٹائی سے بچ جائیں تو صوبہ خود بخود گرین بیلٹ بن جائیگا۔

اپوزیشن جماعتوں کا پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان 

 August-2018  Comments Off on اپوزیشن جماعتوں کا پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان 
Aug 282018
 

Press Conference

اپوزیشن جماعتوں کا پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان 
ضمنی انتخابات میں خالی نشستوں پرخالی کرنے والی پارٹی یا متعلقہ رنر اپ کو میدان میں اتارا جائیگا،انتخابی مہم کیلئے کمیٹی قائم۔
امیر مقام ، اکرم خان درانی ، مولانا شجاع الملک ، طارق خان اور دیگر رہنماؤں کا باچا خان مرکز میں خصوصی اجلاس۔
ملکی سالمیت کو داؤ پر لگاتے ہوئے انجینئرڈ الیکشن کے ذریعے مخصوص جماعت کو اقتدار سونپا گیا۔ میاں افتخارحسین
پیپلزپارٹی کا دل سے احترام کرتے ہیں،دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔
حکومت بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے اگر اپوزیشن مضبوط ہوئی تو حکومت لڑکھڑا سکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کو نیک نیتی اور خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن نے امیدوار نامزد کیا ۔
آصف زرداری سے اعتزاز احسن کو دستبردار کرانے کی قوی امید ہے ،میاں افتخار حسین کی پریس بریفنگ

پشاور ( پ ر ) اپوزیشن جماعتوں نے پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ضمنی انتخابات میں خالی نشستوں پر مشترکہ امیدوار کا فیصلہ خالی کرنے والی پارٹی یا دوسرے نمبر پر آنے والے اپوزیشن پارٹی کے امیدوار کے حق میں کیا جائیگا۔، اس بات کا اعلان اپوزیشن رہنماؤں نے باچا خان مرکز میں ایک اہم اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام ، جے یو آئی کے اکرم خان درانی ، مولانا شجاع الملک ،قومی وطن پارٹی کے طارق خان ، اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،سردار حسین بابک اور ایمل ولی خان سمیت دیگر رہنما موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں دھاندلی پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں ،اور دنیا جانتی ہے کہ ملکی سالمیت کو داؤ پر لگاتے ہوئے انجینئرڈ الیکشن کے ذریعے مخصوص جماعت کو اقتدار سونپا گیا، انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور جمہوریت کی بقا و ملکی سلامتی کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں بھی اپوزیشن بھرپور حصہ لے گی اور جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونگے وہاں مشترکہ امیدوار کا فیصلہ گزشتہ انتخابات میں کاکردگی کی بنیاد پر ہو گاجبکہ مشترکہ انتخابی مہم کو چلانے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس کے ممبران میں جے یو آئی کے مولانا شجاع الملک،قومی وطن پارٹی کے طارق خان، مسلم لیگ کے ڈاکٹر عباداللہ اور اے این پی کے سردار حسین بابک شامل ہیں، صدارتی امیدوار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا دل سے احترام کرتے ہیں کیونکہ متحدہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہر پارٹی اپنے اندرونی فیصلوں میں آزاد ہے تاہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اعتزاز احسن کی نامزدگی کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی تاکہ متحدہ اپوزیشن کی اسپرٹ کو برقرار رکھا جاسکے، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو نیک نیتی اور خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن نے امیدوار نامزد کیا ہے تاکہ ان کے پیپلزپارٹی کے ساتھ بہترین تعلقات کی بنیاد پر آصف زرداری اپنا امیدوار دستبردار کرا دیں،انہوں نے کہا کہ حکومت بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے اگر اپوزیشن مضبوط ہوئی تو حکومت لڑکھڑا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبر ز حکومت سے زیادہ ہیں اور صدارتی امیدوار پر اتفاق ہوا تو قوم جلد خوشخبری سنے گی،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نازک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں ، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور ڈکٹیٹرشپ کی ہمیشہ کھل کر مخالفت کی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں اتحاد کی بنیاد پر جائیں گے اور جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کا راستہ روکیں گے۔ 

پیپلزپارٹی ضمنی الیکشن میں پی کے78 پر دستبردار، حاجی غلام احمد بلور کا اظہار تشکر

 August-2018  Comments Off on پیپلزپارٹی ضمنی الیکشن میں پی کے78 پر دستبردار، حاجی غلام احمد بلور کا اظہار تشکر
Aug 282018
 

پیپلزپارٹی ضمنی الیکشن میں پی کے78 پر دستبردار، حاجی غلام احمد بلور کا اظہار تشکر
بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ جمہوریت دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ 
ہارون بلور اور ان کے تمام ساتھی جمہوریت کی راہ میں شہید ہوئے،ثمر بلور ہارون شہید کا مشن لے کر چلیں گی۔
تمام جماعتیں انسانیت اور اخلاقی روایات کے پیش نظر پی کے78پر دستبردار ہو جائیں تو دلی طور پر مشکور رہوں گا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے پی کے78پشاور پر شہید ہارون بلور کی بیوہ ثمر بلور کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہ کرنے کے اعلان پر پیپلزپارٹی کی قیادت کا دلی طور پر شکریہ ادا کیا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار افغانی کے ذریعے فرحت اللہ بابر کا پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری نے پی کے78پر ثمر ہارون بلور کے مقابلے میں امیدوار نہ کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کا مدبرانہ فیصلہ انسانیت ، جمہوریت اور سیاست دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے ،انہوں نے کہا کہ ہارون بلور اور اس کے ساتھ شہید ہونے والے تمام افراد جمہوریت کی راہ میں شہید ہوئے ہیں لہٰذا باقی تمام جماعتوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ انسانیت ،جمہوریت اور سیاسی و اخلاقی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ حلقے پر اپنے امیدوار دستبردار کر دیں تو میں سب کا فرداً فرداً دلی طور پر مشکور رہوں گا، انہوں نے آخر میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت فرحت اللہ بابر اور ذوالفقار افغانی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

سلیم صافی کا میڈیا ٹرائل آزادی صحافت پر وار ہے ، اسفندیار ولی خان 

 August-2018  Comments Off on سلیم صافی کا میڈیا ٹرائل آزادی صحافت پر وار ہے ، اسفندیار ولی خان 
Aug 282018
 

سلیم صافی کا میڈیا ٹرائل آزادی صحافت پر وار ہے ، اسفندیار ولی خان 

صحافی ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کے خلاف میڈیا ٹرائل اور ہتک آمیز رویہ قابل مذمت ہے۔

ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس سے نفرت کو فروغ اور عزت نفس کو نقصان پہنچے۔

صحافتی تجزیوں پرہنگامہ آرائی اور اظہاررائے کی آزادی پر قدغن معاشرے کیلئے نیک شگون نہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ملک کے نامور سینئر صحافی سلیم صافی کے خلاف سوشل میڈیا پردشنام طرازی کی جاری مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نامور صحافی کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے ، اپنے ایک بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صحافت اور صحافی برادری اس معاشرے کا قابل احترام طبقہ ہے ،تنقید ہر شہری کا حق ہے تاہم اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید کا جواب مدلل دلائل سے دیا جانا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ صحافی ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کے خلاف میڈیا ٹرائل اور ہتک آمیز رویہ قابل مذمت ہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس سے نفرت کو فروغ اور عزت نفس کو نقصان پہنچے ، انہوں نے کہا کہ ایک سینئر صحافی کے تجزیہ پرہنگامہ اظہاررائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے تنقیدکو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کے بجائے الزامات اور بد زبانی کی مہم کسی طور سیاسی کلچر کا حصہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ سلیم صافی کا میڈیا ٹرائل بند کر کے برداشت کا ماحول پیدا کیا جائے۔

شہید ہارون بلور کی بیوہ پی کے78سے اے این پی کی امیدوار نامزد

 August-2018  Comments Off on شہید ہارون بلور کی بیوہ پی کے78سے اے این پی کی امیدوار نامزد
Aug 272018
 

شہید ہارون بلور کی بیوہ پی کے78سے اے این پی کی امیدوار نامزد
خالی ہونے والی5مزید نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان بھی کر دیا گیا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے پی کے78پشاور کیلئے ضمنی انتخابات میں شہید ہارون بشیر بلور کی بیوہ ثمر ہارون بلور کو امیدوار نامزد کر دیا جبکہ خالی ہونے والی مزید 5نشستوں پر بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے، اس بات کا فیصلہ باچا خان مرکز میں منعقدہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا ، اجلاس میں سیکرٹری پارلیمانی بورڈ سردار حسین بابک ، ایمل ولی خان ، خورشید خٹک اور سید شاہد رضا نے شرکت کی ، اجلاس میں حکومتوں کی تشکیل کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کیا گیا جسکے مطابق پی کے7سوات کیلئے وقار احمد خان،پی کے44صوابی کیلئے غلام حسن،پی کے53مردان کیلئے احمد بہادر خان، پی کے61نوشہرہ سے پرویز احمد خان اور پی کے64سے شاہد خٹک کو ٹکٹ جاری کر دیئے گئے۔

قوم نے35برس تک خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر مصلحت کا خمیازہ بھگتا

 August-2018  Comments Off on قوم نے35برس تک خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر مصلحت کا خمیازہ بھگتا
Aug 212018
 

قوم نے35برس تک خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر مصلحت کا خمیازہ بھگتا، میاں افتخار حسین

حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ،سپرپاورز کے مفادات میں اب مزید خون نہیں بہایا جا سکتا ۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دنیا کی تمام امن پسند قوتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہو ں گی۔

سپرپاورز نے اپنے مفادات کی جنگ میں ہمارے خطے کو ایندھن بنائے رکھا ۔

دہشت گردی سے متاثرہ اور مقابلہ کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

باچا خان کے پیروکاروں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں،جو تاریخ کا انمٹ باب ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت قوم کیلئے زہر قاتل خارجہ و داخلہ پالیسی فوری طور پر تبدیل کرے ، اور سپر پاورز کے مفادات کی بجائے قوم کے مفاد میں آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے، دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں لہٰذا سپرپاورز کے مفادات میں اب مزید خون نہیں بہایا جا سکتا ، انہوں نے امن کی خاطر دنیا بھر میں قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہم قوموں کی آزادی، جمہوریت اور پر امن دنیا پر یقین رکھتے ہیں ،نئی آنے والی حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور آزاد خارجہ پالیسی سامنے لائے تاکہ قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارا مل سکے، انہوں نے کہا کہ ہر سال دہشت گردی سے متاثرہ افاراد کا دن منانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اب اس مائنڈسیٹ کو شکست دے کر دنیا بھر میں امن قائم کیا جانا چاہئے تاکہ مزید انسانوں کو متاثرین بننے سے بچایا جس سکے، باچا خان اور ولی خان نے ہمیشہ عدم تشدد کا درس دیا جس کے برعکس ان کے پیروکار اتنے ہی زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ،انہوں نے کہا کہ ملکی پالیسیوں کے بارے میں ہمیشہ مصلحت سے کام لیا گیا جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پرایک مائنڈ سیٹ بن چکی ہے اور اس کے خاتمے کیلئے تمام امن پسند قوتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہو ں گی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سپر پاورز نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے ہمارے خطے کو تارگٹ کئے رکھا ،ہمارے پرامن نصاب کو تبدیل کر دیا گیااور قوم کی سوچ بدلنے کی حتی الوسع کوششیں کی گئیں،انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی 35سال تک دہشت گردی کی مختلف صورتوں میں ہماری نسل کشی کی جاتی رہی لیکن باچا خان کے پیروکاروں نے اس جنگ کے خلاف جو قربانیاں دیں وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود وہ اپنے اسلاف کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ، انہوں نے کہا کہ میں خودبھی دہشت گردی کے متاثرین میں شامل ہوں ، میرے بیٹے کو شہید کیا گیا اور میرے گھر پر خود کش حملے بھی کئے گئے اسی لئے میں باقی دنیا میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کے دکھ اور تکلیف کو قریب سے محسوس کر سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں مجھے ہرایا گیا اس کے باوجود میں آج بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور مجھے تھرٹ الرٹ جاری کئے جا رہے ہیں،انہوں نے واضح کیاکہ آج وقت آ گیا ہے کہ دنیا خصوصاً ہمارے خطے میں پر امن،انسان دوست اور ترقی پسند پالیسیوں کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پر امن دنیا کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی مخالفت کی چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اور کسی بھی صورت میں ہو ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں،انہوں نے اپنے دور وزارت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بحیثیت وزیر اور ترجمان جن مصائب کا سامنا کرنا پرا وہ صرف میں جانتا ہوں ، اے این پی کے دور میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف جہاد کیا ، سوات آپریشن فوج نے ضرور کیا تاہم اگر اے این پی ساتھ نہ دیتی تو دہشت گردوں کا صفایا کرنا ممکن نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ افغانستان بھی اپنی پالیسیون پر نظر ثانی کرے اور انہیں قوم کے مفاد کے پیش نظر ازسر نو ری وزٹ کرے، انہوں نے کہا کہ روس ،چین اور امریکہ اپنے مٖفادات کی جنگ کا ایندھن پاکستان کو نہ بنائیں ،اور چین بھارت کے ساتھ اپنے اختلافات اپنی سرزمین تک محدود رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پالیسیاں تبدیل کی جائیں تو ان تمام انسانیت دشمن عوامل کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔