پشتون قیادت دو طاقتوں میں اقتدار کی رسہ کشی کیلئے ’’گریٹ گیم‘‘ کا شکا ہوئی

 August-2018  Comments Off on پشتون قیادت دو طاقتوں میں اقتدار کی رسہ کشی کیلئے ’’گریٹ گیم‘‘ کا شکا ہوئی
Aug 142018
 

پشتون قیادت دو طاقتوں میں اقتدار کی رسہ کشی کیلئے ’’گریٹ گیم‘‘ کا شکا ہوئی، امیر حیدر خان ہوتی
اتنی بڑی گیم ایک دن میں نہیں بلکہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔
ہمارا مقابلہ بظاہر انسانوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا لیکن پس پردہ جنات تھے ۔
صحیح گنتی کی جاتی تو صوبے میں اے این پی کی حکومت اور قومی اسمبلی میں ہماری 10سے زائد نشستیں ہوتیں ۔
نئے پاکستان کے عوام نے جس سے توقعات رکھی ہیں اس کی توقعات کسی اور سے وابستہ ہیں، کارکنوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پختون قیادت کے ساتھ کھیلی گئی گیم ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ اس کا آغاز اس وقت کر دیا گیا تھا جب نواز شریف بیرون ملک اپنی اہلیہ سے ملنے گئے تھے ، نواز شریف کو بیرون ملک رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی گئی لیکن جب وہ ملک میں واپس آ کر جیل چلے گئے تو گیم کا رخ پشتون قیادت کی جانب موڑ دیا گیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہو ڈھیرئی، خزانہ ڈھیرئی اور منگاہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر الیکشن مہم کے دوران دن رات کاوشیں اور محنت کرنے والے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے حلقے میں کارکنوں کی کوششوں سے جنات کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے ، ہمارا مقابلہ بظاہر تو انسانوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا لیکن پس پردہ جنات ہمارے مقابلے میں تھے جنہوں نے پولنگ کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر سارے نتائج تبدیل کر دیئے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے اکثریتی امیدوار رات کو جیت گئے تھے تاہم صبح انہیں بتایا گیا کہ وہ ہار گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ در اصل یہ کسی پارٹی یا امیدوار کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ عوامی رائے کی تذلیل ہے،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ میرے دونوں حلقوں پر نادیدہ قوتوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے اس لئے دونوں حلقوں پر میں کامیاب ہو گیا،انہوں نے کہا کہ6بجے جتنے ووٹ پول ہوئے اگر ان کی صحیح گنتی کر لی جاتی تو صوبے میں اے این پی کی حکومت اور قومی اسمبلی میں ہماری 10سے زائد نشستیں ہوتیں،انہوں نے کہا کہ پختون قیادت دو بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہے کہ نئے پاکستان میں نیا وزیر اعظم عوام کے کتنے کام آتا ہے ، بلند و بانگ دعوؤں پر قوم نئے وزیر اعظم سے توقعات وابستہ کئے بیٹھی ہے جبکہ وزیر اعظم کسی اور سے توقعات لگائے بیٹھا ہو گا، انہوں نے حلقے کے عوام کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوامی خدمت ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رکھوں گا۔ 

عوام اور انسانیت کی خدمت کیلئے کرسی اقتدار کا محتاج نہیں، میاں افتخار حسین

 August-2018  Comments Off on عوام اور انسانیت کی خدمت کیلئے کرسی اقتدار کا محتاج نہیں، میاں افتخار حسین
Aug 142018
 

عوام اور انسانیت کی خدمت کیلئے کرسی اقتدار کا محتاج نہیں، میاں افتخار حسین
مجھے ہرانے والے حلقے میں عوام کی سر عام رائے لے لیں ، 80فیصد عوام کی رائے میرے حق میں ہی ملے گی۔
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور میں کسی کے ڈر سے عوامی خدمت کے مشن سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
دھاندلی زدہ پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔
جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشتگرد ی کے تھرٹ الرٹ بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
دھمکیوں کے ذریعے مجھے دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا، پی کے65میں پارٹی کے تنظیمی اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مجھے جان بوجھ کر ہرانے والے حلقے میں عوام کی سر عام رائے لے لیں انہیں 80فیصد عوام کی رائے میرے حق میں ہی ملے گی،میرا مشن عوام اور انسانیت کی خدمت ہے جس کیلئے میں اقتدار کا محتاج نہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں پورے پی کے65کے نمائندہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی کے ذمہ دار مشران عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی، تھرٹ الرٹ کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشتگرد مجھے کیوں ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور میں کسی کے ڈر سے عوامی خدمت کے مشن سے دستبردار نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ میں باچا خان کا سپاہی ہوں اور میری سوچ غریب، کسان ،مزدور اور عام آدمی کی زندگی اور مستقبل روشن بنانے پر مبنی ہے ، انہوں نے حلقے کے عوام سے کہا کہ اگر مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ انسانیت کی خدمت کی راہ میں مجھے شہید کر دیا جائے گا،جس پر اجلاس میں کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور پارٹی مشران اور کارکنوں نے میاں افتخار حسین کو کہا کہ ہمیں آپ کی زندگی خدمت سے زیادہ عزیز ہے، اور پارٹی کے تمام کارکن آپ کے ساتھ ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ راشد شہید فاؤنڈیشن کے ذریعے میں نے غریب اور نادار بثوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھایا اور یہ سب الیکشن سے بہت پہلے شروع کیا گیا ہے ، اس اکیڈمی میں غریب اور نادار افراد کے200سے زائد بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہپہلے مجھے اس بات پر دھمکیاں ملتیں کہ میں دہشت گردی کے خلاف بات کرتا تھا اور دہشت گردی کے خلاف اے این پی میدان میں ڈٹ کر کھڑی تھی ، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اب الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشت گرد مجھے کیوں ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس سے ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ اس قسم کی دہشت گردی کے پیچھے حکومت کا اپنا ہاتھ ہے،انہوں نے کہا کہ مجھے خدمت کیلئے اقتدار کی ضرورت نہیں البتہ دھمکیوں اور تھرٹ الرٹس سے مجھے اس مشن سے ہٹایا نہیں جا سکتا ، میاں افتخار حسین الیکشن مہم کے دوران اپنی کمپین کیلئے جانی و مالی قربانیاں دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ در حقیقت ہم الیکشن ہارے نہیں جیتے ہیں جبکہ ہمیں سازش کے تحت ہرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواستیں بھی اسی لئے مسترد کی گئیں کیونکہ ہارجیت کا پول نہ کھل جائے،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت بے اختیار تھے ،انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو سوال ریاست کے کردار پر اٹھے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ، لہٰذا الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے اور نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں نئے انتخابات کرائے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈرنے والا نہیں ہوں اور دھمکیوں سے مرعوب ہو کر میدان سے نہیں بھاگوں گا ، باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

فوج میں سیاست پر گرفت رکھنے والا مفاد پرستوں کا ٹولہ موجود ہے، میاں افتخار حسین

 August-2018  Comments Off on فوج میں سیاست پر گرفت رکھنے والا مفاد پرستوں کا ٹولہ موجود ہے، میاں افتخار حسین
Aug 132018
 

فوج میں سیاست پر گرفت رکھنے والا مفاد پرستوں کا ٹولہ موجود ہے، میاں افتخار حسین

ملک میں انجنیئرڈ انتخابات کرائے گئے اور ہمیں جان بوجھ کر سازش کے تحت ہرایا گیا۔

انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو فوج کی زیر نگرانی انتخابات نہ کرانے کی تجویز خلوص دل سے دی تھی۔

مجھے ہرانے کے بعد تھریٹس کیوں دیئے جا رہے ہیں، دہشت گردوں کا دھاندلی سے کیا لینا دینا؟

فیصلے ملکی مفاد میں نہیں ، تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے ، نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں فوجی مداخلت سے پاک نئے انتخابات کرائے جائیں۔اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دھاندلی کے نت نئے ثبوت سامنے آتے جا رہے ہیں اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک میں انجنیئرڈ انتخابات کرائے گئے اور ہمیں جان بوجھ کر سازش کے تحت ہرایا گیا، فوج میں دو قسم حلقے موجود ہیں ایک عوام سے محبت اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مشغول جبکہ دوسرا مفاد پرست ٹولے پر مشتمل ہے جو سیاست میں اپنے پنجے گاڑھنے میں مصروف ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں پورے پی کے65کے نمائندہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی کے ذمہ دار مشران عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی، میاں افتخار حسین الیکشن مہم کے دوران اپنی کمپین کیلئے جانی و مالی قربانیاں دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ در حقیقت ہم الیکشن ہارے نہیں جیتے ہیں جبکہ ہمیں سازش کے تحت ہرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواستیں بھی اسی لئے مسترد کی گئیں کیونکہ ہارجیت کا پول نہ کھل جائے،انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو خلوص دل سے یہ تجویز دی تھی کہ فوج اکی زیر نگرانی انتخابات سے گریز کیا جائے تاکہ بطور ادارہ وہ متنازعہ نہ ہو جائے ، اس وقت اس بات سے اتفاق کیا گیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ تبدیل کر کے سارا الیکشن ہی فوج کی جھولی میں ڈال دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ در اصل ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت بے اختیار تھے ،میاں افتخار حسین نے اجلاس میں شریک افسردہ ذمہ داروں کو تسلی دی اور کہا کہ ہم بڑی گیم کا شکار ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ جب مجھے پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا ہے تو اب تھریٹس کس بات کیلئے دیئے جا رہے ہیں ،کیا دہشت گردوں کو دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں بولنے سے بھی تکلیف ہو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ دھنادلی کے خلاف بولنے پر دھمکیاں ملنے سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ اصل دہشت گرد حکومت خود ہے،اور میری آواز سے انہیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے ، مجھے سیکورٹی تھیٹس اور دہشت گردوں کے بارے میں تمام تفصیل جانتے ہوئے بھی اگر مجھے شہید کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست خود یہ چاہتی ہے ورنہ دہشتگردوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو سوال ریاست کے کردار پر اٹھے گا،میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ فوج دو حلقوں میں تقسیم ہے ایک معصوم فوج جو عوام سے محبت رکھتی ہے جبکہ دوسرا حلقہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے اور سیاست پر اپنی گرفت رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لا نہیں لگ سکتا اس لئے کٹھ پتلی وزیر اعظم بنا کر ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی جا رہی ہے،اور یہ فیصلے ملکی مفاد میں نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ، لہٰذا الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے اور نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں فوجی مداخلت سے پاک نئے انتخابات کرائے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈرنے والا نہیں ہوں اور دھمکیوں سے مرعوب ہو کر میدان سے نہیں بھاگوں گا ، باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

جمہوریت کیلئے أواز اٹھانے پر مجھے دہشتگرد کیونکر ٹارگٹ کر سکتے ہیں

 August-2018  Comments Off on جمہوریت کیلئے أواز اٹھانے پر مجھے دہشتگرد کیونکر ٹارگٹ کر سکتے ہیں
Aug 122018
 

جمہوریت کیلئے أواز اٹھانے پر مجھے دہشتگرد کیونکر ٹارگٹ کر سکتے ہیں، میاں افتخار حسین

میدان میں کھڑا ہوں ،تھرٹ الرت کے ذریعے دھمکیاں دینے والے ہمیں ڈرنے اور جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔

الیکشن سے قبل تھرٹ الرٹ میدان خالی کرنے کیلئے تھے ، اب میری آواز سے کس کو مسئلہ درپیش ہے؟

حکومت ہی دراصل دہشتگردوں کی ہے ،دہشت گردی ختم کرنے کے دعوے کرنے والوں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔

بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرنے کی غرض سے جان ہتھیلی پر رکھ کر چارسدہ آیا ہوں۔

باچا خان بابا کے سپاہیوں کو دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ میدان میں کھڑا ہوں اور تھرٹ الرت کے ذریعے دھمکیاں دینے والے ہمیں ڈرنے اور جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہدائے بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے خود کش حملوں کے تھرت الرت جاری کئے جا رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے میں دہشت گردی کے خلاف بات کرتا تو مجھے سیکورٹی تھرٹ مل جاتا لیکن اب دہشت گردوں کو کیا پرابلم ہے، اب جب ہم دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو دہشت گردوں کو کیا مسئلہ درپیش ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو ، میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ میڈیا پر ہماری بات نہیں آ رہی کیونکہ سارا الیکٹرانک میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے،انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل تھرٹ ملنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں الیکشن سے باہر کیا جائے لیکن اب دھمکیاں دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ حالات و واقعات اس جانب واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت ہی در اصل دہشت گردوں کی حکومت ہے ، انہوں نے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے کرنے والے بتائیں کہ دہشت گردی ختم ہو چکی ہے تو پھر مجھے ٹارگٹ کرنے والے کون ہیں؟انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے باوجود جان ہتھیلی پر رکھ کر بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت اور سلام پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں اس ماہ اپنے ذاتی پروگرام کے تحت راشد شہید فاؤنڈیشن کیلئے بیرون ملک دورے پر جا رہا تھا جو ان تھرٹ الرٹس کے بعد ملتوی کر دیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں دھمکیوں کے ڈر سے بیرون ملک چلا گیا ہوں ، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان بابا کے سپاہی ہیں اور ہمیں دھمکیوں کے ذریعے دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔

ہمارا مقابلہ ’’جنات‘‘ سے تھا، دھاندلی میں ملک بھر کی انتظامیہ اور فوجی اہلکار ملوث ہیں

 August-2018  Comments Off on ہمارا مقابلہ ’’جنات‘‘ سے تھا، دھاندلی میں ملک بھر کی انتظامیہ اور فوجی اہلکار ملوث ہیں
Aug 122018
 

ہمارا مقابلہ ’’جنات‘‘ سے تھا، دھاندلی میں ملک بھر کی انتظامیہ اور فوجی اہلکار ملوث ہیں، اسفندیار ولی خان

انڈا چوری ہونے پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس فوج کی انتخابات میں مداخلت پر کیوں خاموش ہیں؟

نگران وزیر اعلیٰ کا شفاف انتخابات کا بیان مضحکہ خیز ہے نگران حکومت پہلے اپنا کردار واضح کرے ۔

الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ کا وقت کس آئین کے تحت دیا ، فارم 45کسی پولنگ ایجنٹ کو نہیں دیا گیا۔

تاریخ کا واحد الیکشن تھا جس میں سب کو وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا۔

ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے والے سیاست سے باہر نہیں کر سکتے ہم نظریاتی سیاست کریں گے۔

بابڑہ کے شہداء کی قربانیاں آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہیں، یوم شہدائے بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں نگران حکومت، پورے ملک کی انتظامیہ ، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود فوجی اور پولنگ کا تمام عملہ دھاندلی میں ملوث تھا ،اس بار بھی ہمارا مقابلہ جنات سے تھا انسانوں سے ہوتا تو اے این پی اکثریت جماعت کو طور پر سامنے آ جاتی،انڈا چوری ہونے پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس فوج کی انتخابات میں مداخلت پر کیوں خاموش ہیں ،اب سوموٹو کہاں گئے ؟ عمران خان نے جیت کی تقریر میں ہر حلقہ کھولنے کا کہا جب سعد رفیق نے درخواست دی تو لاڈلے نے بچاؤ کیلئے سپریم کورٹ کا دروزہ کھٹکھٹا دیا ، نگران وزیر اعلیٰ کا شفاف انتخابات کا بیان مضحکہ خیز ہے نگران حکومت پہلے اپنا کردار واضح کرے،دھاندلی میں جو بھی ملوث ہے قوم بخوبی جانتی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، اسفندیار ولی خان نے بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمارے مستقبل کیلئے اُس وقت کے خدائی خدمت گاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے جن میں بیشتر خواتین بھی شامل تھیں ،انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتی ہیں اور کبھی وقت آیا تو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان آ گیا ہیاور اس میں سب سے پہلے نیکٹا نے میاں افتخار حسین کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تھرٹ الرٹ میں خودکش حملہ آور کا نام ،عمر اور تاریخ بھی درج ہے ،جب سیکورٹی ایجنسیوں کو اتنا سب کچھ پتہ ہے تو اسے روک کیوں نہیں سکتی، الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ کا وقت کس آئین کے تحت دیا ، فارم 45کسی پولنگ ایجنٹ کو نہیں دیا گیا ،دھاندلی کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا،تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا،ایک گھنٹے میں تمام نتائج تبدیل کئے گئے ،انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ فوج اگر پولنگ سٹیشن کے اندر داخل ہوئی تو بطور ادارہ فوج متنازعہ ہو جائے گی ، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی،انہوں نے کہا کہ دھاندلی کیلئے بھونڈے طریقے استعمال کئے گئے کراچی میں ایک امیدوار کا کوئی ایک ووٹ تک بکس سے نہ نکلا جبکہ اس کے خاندان والوں نے اور خود اس نے اپنا ووٹ پول کیا،انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا واحد الیکشن تھا جس میں سب کو وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے والے سیاست سے باہر نہیں کر سکتے ہم نظریاتی سیاست کریں گے اور دنیا کو یہ ثابت کریں گے کہ ہم عدم تشدد کی سوچ اور فکر کی سیاست کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان پر توجہ نہ دی تو حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے، پرام اور مترقی افغانستان کے بغیر پرامن اور مترقی پاکستان کا تصور نا ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی مضبوط سیاسی قوت ہے اور کارکن اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن اور عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کریں۔

مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا

 August-2018  Comments Off on مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا
Aug 122018
 

مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا، سردار حسین بابک

بادی النظر میں ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے ،تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔

گزشتہ کئی برس سے مخصوص شخص کو ہیرو اور باقی تمام رہنماؤں کو زیرو بنانے کیلئے منظم ذہن سازی کی جاتی رہی۔

ملکی سلامتی و ترقی کی خاطر ملک کے اہم ترین اداروں کو حکوتیں بنانے اور گرانے کے عمل کو ترک کرنا ہو گا۔

نئے پاکستان میں میرٹ سے قطع نظر ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے حکومتی عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے۔

عوام کی حقیقی حکمرانی یقینی بنانا ہو گی،حق رائے دہی اور اظہار رائے پر قدغن جمہوریت کے خلاف سازشیں ہیں۔

آزاد و خود مختار اور ذمہ دار الیکشن کمیشن سمیت شفاف انتخابات کو عملی بنانے کیلئے کام کرنا ہو گا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مخصوص جماعت کو تخت اسلام آباد تک پہنچانا جمہوریت دشمن قوتوں کا مقصد تھا ،ملکی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے مخصوص سیاسی جماعت کو حکمرانی کا تاج پہنانا ملکی مسائل میں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے ، گزشتہ کئی برس سے مخصوص شخص کو ہیرو اور باقی تمام رہنماؤں کو زیرو بنانے کیلئے منظم ذہن سازی کی جاتی رہی،اندرونی و بیرونی مسائل و مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو جمہوریت دشمن قوتوں کا راستہ روکنے ،جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ان کے استحکام کیلئے آگے بڑھنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے حکومتی عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے،حکومتی امور چلانے کیلئے میرٹ اور تجربے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ایسا عمل شروع کیا گیا ہے جو ملکی مسائل میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنے گا،خیرات میں ملی حکومت کا ابتداء سے ہی یہ طرز عمل ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر2018کے انتخابات بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں ،تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے اور ملک کے اہم ترین اداروں کو حکوتیں بنانے اور گرانے کے عمل کو ترک کرنا ہو گا، کیونکہ یہی ملکی سلامتی کیلئے ضروری اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے، سردار بابک نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیاں جمہوریت کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش اور حقیقی عوامی حکمرانی یقینی بنانے میں مسلسل رکاوٹیں مسائل میں اضافے کا پیش خیمہ ہونگی،انہوں نے کہا کہ حق رائے دہی اور اظہار رائے پر قدغن جمہوریت کے خلاف سازشیں ہیں جس سے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں میں اشتعال پیدا ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک جماعت کے علاوہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج پر ہیں،انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم کی خرابی، اکثریتی حلقوں میں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنا ،مخصوص جماعت کیلئے میڈیا کو استعمال کرنا اور اس کیلئے سوشل میڈیا پر نئی ’’ایپ‘‘ انسٹال کرنا ، لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کا مسترد ہونا الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ جمہوریت اور عوام کی حقیقی حکمرانی یقینی بنائے بغیر عوامی مسائل ختم نہیں ہو سکتے ،ووٹ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہونگی اور ایک آزاد و خود مختار اور ذمہ دار الیکشن کمیشن سمیت شفاف انتخابات کو عملی بنانے کیلئے کام کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندیاں ختم ہونی چاہئیں،حق حکمرانی عوام کا آئینی حق ہے اور اسے عوام کے پاس ہی رہنا چاہئے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں اپوزیشن جماعتیں پوری طرح متحد ہیں اور متفقہ طور پر لیڈر آف دی ہاؤس، اپوزیشن لیڈر ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے انتخاب کیا جائے گا۔

عدلیہ آزاد نہیں رہی،ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے، ایمل ولی خان

 August-2018  Comments Off on عدلیہ آزاد نہیں رہی،ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے، ایمل ولی خان
Aug 122018
 

عدلیہ آزاد نہیں رہی،ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے، ایمل ولی خان

حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنے والوں پر قدغن، لاڈلے کا پرچار کرنے والے میڈیا کو کھلی آزادی ہے۔

تمام نیوز چینل اب عسکری چھتری تلے پی ٹی وی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملک میں جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتائج بھیانک ہونگے۔

الیکشن کے حوالے سے اے این پی کے ساتھ کسی ادارے کی کوئی ڈیل یا بات چیت نہیں ہوئی۔

سانحہ بابڑہ کے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بابڑہ شہداء کی یادگار پر میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنے والوں پر قدغن جبکہ لاڈلے کا پرچار کرنے والے میڈیا کو کھلی آزادی دے دی گئی ہے ، صحافت کی آزادی کیلئے سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے جو قربانیاں دیں وہ رائیگاں جاتی دکھائی دے رہی ہیں،تمام نیوز چینل اب پی ٹی وی کا کردار ادا کر رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء بابڑہ کے موقع پر چارسدہ میں بابڑہ کے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ حقائق مسخ کر دئے گئے ہیں اور ملک میں جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتائج بھیانک ہونگے، اں نے کہا کہ ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے ،عدلیہ آزاد نہیں رہی ،یہ وہ عدلیہ ہے جس کی آزادی کیلئے تحریک میں اے این پی کے32کارکن کراچی میں شہید کر دیئے گئے، ہم پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اس میں مسلط کئے جانے والے موجود نظام کے خلاف ہیں ملک بڑی قربانیوں سے آزاد ہوا اور اس آزادی کیلئے ہمارے آباؤاجداد نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک کے تین اہم ستون لاڈلے کی سپورٹ میں اس قدر مگن ہیں کہ وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے غریب لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں جس نے بلانا ہے مجھے عدالت میں طلب کرے میں حق بات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا،انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پی ٹی آئی کے ترجمان ہیں اور جب بھی عمران خان کے خلاف کوئی بات ہو تو جواب وہ دیتے ہیں اسی طرح فوج کے خلاف کوئی بات کرے تو جواب پی ٹی آئی کی طرف سے آتا ہے ، ایمل خان نے کہا کہ موجودہ سیٹ اپ سال یا دو سال سے زیادہ چلنے والا نہیں،تاہم ہماری خواہش ہے کہ ایسا جمہوری پاکستان بنے جس میں حقیقی جمہوری نظام رائج ہو ،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے ڈیل کے حوالے سے تمام چہ میگوئیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ الیکشن کے حوالے سے اے این پی کے ساتھ کسی ادارے کی کوئی ڈیل یا بات چیت نہیں ہوئی ، انہوں نے سیکورٹی تھریٹس کے حوالے سے کہا کہ یہ پوری طرح پلانٹڈ ہے ،سیکورٹی خدشات کے خط جسے جاری کئے جاتے ہیں اس کی بجائے ٹارگٹ کسی اور کو کر دیا جا تا ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں،بابڑہ کے حوالے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ کے شہداء نے حق کیلئے قربانی دی اور اس وقت کی فوج نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے 700خدائی خدمتگاروں کو خون میں نہلا دیا ،انہوں نے کہا کہ خدائی خدمت گاروں کی یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔