تحصیل خدوخیل بونیر سے پیپلزپارٹی نے اے این پی کی حمایت کا اعلان کر دیا

 July-2018  Comments Off on تحصیل خدوخیل بونیر سے پیپلزپارٹی نے اے این پی کی حمایت کا اعلان کر دیا
Jul 162018
 

تحصیل خدوخیل بونیر سے پیپلزپارٹی نے اے این پی کی حمایت کا اعلان کر دیا
اے این پی صوبے کی مضبوط اور منظم قوت ہے،مخالفین مقبولیت سے بوکھلا گئے ہیں۔
مختلف حلقوں میں پیسے اور دیگر اشیا سیاسی رشوت کے طور پر تقسیم کی جا رہی ہیں ۔
الیکشن کمیشن خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ،علماء کرام ایسے ناسوروں کی بیخ کنی کیلئے میدان میں آئیں۔
حکومت میں آ کر اے این پی پرائمری تعلیم کے مالی اور انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے سپرد کرے گی۔
تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنائے جائیں گے، خدوخیل بونیر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی کی پوزیشن مضبوط ہے اور انتخابات میں بھرپور عوامی اعتماد سے کامیابی حاصل کرے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران تحصیل خدوخیل پی کے22بونیر میں پیپلزپارٹی تحصیل خدوخیل کی کابینہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر پیپلزپارٹی کی کابینہ نے شوکت خان ،شاہد سلیم اور عارف علی سمیت انتخابات میں اے این پی کی حمایت کا اعلان کیا ،سردار حسین بابک نے پیپلزپارٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی صوبے کی مضبوط اور منظم قوت ہے اور اسے ختم کرنے کے دعوے کرنے والوں کا نام و نشان نہیں رہے گا ، انہوں نے کہا کہ مخالفین اے این پی کی مقبولیت سے خائف ہیں اور مختلف حلقوں میں پیسے اور دیگر اشیاء سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ،الیکشن کمیشن کو ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ بعض افراد اخلاقی اور نظریاتی سیاست پر بد نما داغ بن چکے ہیں تاہم عوام 25جولائی کو ایسے ناسور کا صفایا کر دیں گے ،انہوں نے کہا کہ علماء کرام سمیت تمام صاحب الرائے مشران کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں شعور اجاگر کریں اور سیاست کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے والوں کی بیخ کنی کریں، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے انتخابی منشور پارٹی کے منشو کا مقصد عوام میں اے این پی کے اغراض و مقاصد کے شعور کو اجاگر کرنا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کے حوالے سے جامع پلان ہے اور ترجیحی بنیادوں پر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گا،پرائمری تعلیم کے مالی اور انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے سپرد کئے جائیں گے، صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جائے گا،طلبہ و طالبات کو تعلیمی وضائف بھی دیئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنائے جائنگے، سردار حسین بابک نے حمایت کرنے پر تحصیل خدوخیل کے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا ۔

داؤد اچکزئی پر حملہ الیکشن بائیکاٹ پلان کا حصہ ہے، میاں افتخار حسین

 July-2018  Comments Off on داؤد اچکزئی پر حملہ الیکشن بائیکاٹ پلان کا حصہ ہے، میاں افتخار حسین
Jul 162018
 

داؤد اچکزئی پر حملہ الیکشن بائیکاٹ پلان کا حصہ ہے، میاں افتخار حسین
صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے ،اے این پی کے رہنماؤں کو سیکورٹی کے نام پر گھروں میں محصورنہ کیا جائے۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اے این پی کو الیکشن سے باہر کرنے کیلئے ہیں۔
مخصوص شخص کو وزارت عظمیٰ تک با آسانی پہنچانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا راستہ روکا جا رہا ہے۔
اے این پی میدان خالی نہیں چھوڑے گی اور ملک کی تباہی کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔
حکومت اور الیکشن کمیشن شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، پی کے65میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں اے این پی کے رہنما داؤد خان اچکزئی پر حملہ بزدلانہ اور قابل مذمت فعل ہے ، صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے ،اے این پی کے رہنماؤں کو سیکورٹی کے نام پر گھروں میں محصور کرنے کی بجائے انہیں مکمل تحفظ فراہم کر کے انتخابی مہم میں شرکت کا موقع دیا جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65میں اپنی انتخابی مہم کے دوران مختلف مقامات پر منعقدہ شمولیتی اجتماعات اور انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر درجنوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں شامل ہونے والے افراد اے این پی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اقتدار میں آ کر ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اے این پی کو الیکشن سے باہر کرنے کیلئے ہیں اور 2013والی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ سینیٹر داؤد خان اچکزئی پر حملہ الیکشن کو بائیکاٹ کی طرف لے جانے والے پلان کا حصہ ہے ، لہٰذا حکومت اپنی غیر جانبداری ثابت کرے اور معاملے کی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات انتہائی آسان ہے بشرطیکہ حکومت سنجیدہ ہو ،میاں افتخار حسین نے واضح کیا کہ پہلے نواز شریف کو ایسے وقت پر سزا دی گئی تاکہ اشتعال میں آ کر وہ الیکشن کا بائیکاٹ کر دیں تاہم ن لیگ نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا نہیں کیا ،جس کے بعد بلور خاندان کے چشم و چراغ کی جان لی گئی اور پھر بنوں اور مستونگ میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کاروائیوں کے بعد بلاول کو بھی مسدود کر دیا گیا تاکہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کا بائیکاٹ کر دیں اور ایک مخصوص شخص کو وزارت عظمیٰ تک با آسانی پہنچایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ اے این پی میدان خالی نہیں چھوڑے گی اور ملک کی تباہی کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ حالیہ صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن الیکشن کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن پہلے سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں ہیں اور فتح اے این پی کا مقدر ہے۔

نگران حکومت سیکورٹی اور امن و امان کے حوالے سے اپنا کردار واضح کرے

 July-2018  Comments Off on نگران حکومت سیکورٹی اور امن و امان کے حوالے سے اپنا کردار واضح کرے
Jul 162018
 

نگران حکومت سیکورٹی اور امن و امان کے حوالے سے اپنا کردار واضح کرے، اسفندیار ولی خان
دہشت گردی کی حالیہ لہر اور آئے روز ہونے والے واقعات الیکشن سبوتاژ کرنے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ۔
اے این پی کے رہنماؤں پر حملوں اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر نگران حکومت جواب دہ ہے۔
سیاسی جماعتوں کی یہ بڑی قربانی ہے کہ سیکورٹی کی اس صورتحال کے باوجود الیکشن میں اتر رہی ہیں۔
الیکشن کو سبوتاژ کرنا جمہوریت ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے ، دنیا میں ملک کی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کوئٹہ میں اے این پی کے مرکزی نائب صدر اور سینیٹر داؤد خان اچکزئی پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت سیکورٹی اور امن و ماان کے حوالے سے اپنا کردار واضح کرے ، دہشت گردی کی حالیہ لہر اور آئے روز ہونے والے واقعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کو سبوتاژ کیا جائے تاہم اے این پی بہر صورت میدان میں ڈٹی رہے گی،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اے این پی کے رہنماؤں پر ہونے والے حملوں پر نگران حکومت جواب دہ ہے اور انتخابی مہم اور امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومتوں و الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام نظر آ رہے ہیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی یہ بڑی قربانی ہے کہ سیکورٹی کی اس صورتحال کے باوجود الیکشن میں اتر رہی ہیں لہٰذا نگران حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور انتخابات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ بنانے کی اپنی ذمہ داری نبھائے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے الیکشن کو سبوتاژ کرنا جمہوریت ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے ،جس سے دنیا بھر میں ملک کی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، امیدواروں کی سیکورٹی فوری طور پر یقینی بنائی جائے

 July-2018  Comments Off on مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، امیدواروں کی سیکورٹی فوری طور پر یقینی بنائی جائے
Jul 152018
 

مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، امیدواروں کی سیکورٹی فوری طور پر یقینی بنائی جائے، میاں افتخار حسین

ملک میں خونی الیکشن ہونے جا رہے ہیں،انتخابات سبوتاژ کرنے والے ملک کے دشمن ہیں۔

نگران حکومت اور ریاستی اداری شفاف الیکشن کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

صرف مخصوص شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی جماعتوں کی راہیں مسدود کرنا کھلا تضاد ہے۔

انتخابات کی صورتحال گھمبیر ہو چکی ہے،تضادات کی صورت میں الیکشن متنازعہ ہو جائے گا۔

پشاور ، بنوں اور مستونگ کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ پی کے65میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں خونی الیکشن ہونے جا رہے ہیں،مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے اور امیدواروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ،الیکشن سبوتاژ کرنے والے ملک کے دشمن ہیں ،صرف ایک شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی شہریوں کے خون کی ہولی نہ کھیلی جائے ، نگران حکومت اور ریاستی اداری شفاف الیکشن کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈاگ بیسود ،طائیزئی پبی اور چھپری خٹک نامہ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر درجنوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام کی آئے روز اے این پی میں شمولیت پارٹی پر ان کے بھرپور اعتماد کا اظہار ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سینکڑوں جانیں ضائع ہونے کے باوجود امیدواروں کو سیکورٹی فراہم نہیں کی جا رہی ،انتخابات کی صورتحال گھمبیر ہو چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ پشاور ، بنوں اور مستونگ میں دہشت گردی کے واقعات قابل مذمت ہیں ،دو صوبوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ،اگلا نمبر پنجاب اور سندھ کا ہو سکتا ہے اور اسلام آباد بھی نشانے پر ہو سکتا ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کو اس لئے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی پالیسی بالکل واضح ہے ،تاہم 2013اور آج کے حالات مختلف ہیں ، 2018میں باقی سیاسی جماعتوں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جبکہ صرف ایک مخصوص شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی جماعتوں کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی امیدواروں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرے اور جہاں بھی مہم چلائی جائے وہاں جیمرز لگائے جائیں،انہوں نے کہا کہ پالیسی میں اس وقت کھلا تضاد موجود ہے اور تضادات کی صورت میں الیکشن متنازعہ ہو جائے گا، میاں افتخاڑ حسین نے کہا کہ اے این پی میدان نہیں چھوڑے گی اور ہارون بلور کی شہادت کے بعد عوام کے بڑھتے ہوءئے اعتماد کی وجہ سے الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

دہشت گردی کی حالیہ لہر حکومتوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، سردار حسین بابک

 July-2018  Comments Off on دہشت گردی کی حالیہ لہر حکومتوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، سردار حسین بابک
Jul 152018
 

دہشت گردی کی حالیہ لہر حکومتوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، سردار حسین بابک

ہارون بلور پر حملہ انتخابی عمل پر نہیں بلکہ اے این پی کو الیکشن عمل سے باہر کرنے کی سازش ہے۔

دشمن کچھ بھی کر لے ہم ڈٹے رہیں گے اور میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔

مخصوص شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی تمام جماعتوں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیکورٹی ادارے اور حکومت انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔

صوبے کو لوٹنے والوں کے خلاف نیب کی تحقیقات جاری ہیں،پی کے22میں انتخابی جلسوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے پشاور ، بنوں اورمستونگ میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کو موجودہ نگران حکومتوں کی ناکامی تصور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارون بشیر بلور کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اے این پی الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے22بونیر میں اپنی انتخابی مہم کے دوران مختلف مقامات پر شمولیتی تقاریب اور انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر بیشتر افراد نے مختلف جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ کئی اہم شخصیات نے الیکشن میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی ایک مضبوط اور منظم جماعت ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافے سے مخالف قوتیں بزدلانہ اقدامات پر اتر آئی ہیں،انہوں نے کہا کہ ہارون بشیر بلور پر حملہ انتخابی عمل پر نہیں بلکہ اے این پی کو الیکشن عمل سے باہر کرنے کی سازش ہے تاہم دشمن کچھ بھی کر لے ہم ڈٹے رہیں گے اور میدان خالی نہیں چھوڑیں گے ، انہوں نے کہا کہ2013میں بھی دہشت گردوں نے ہمیں دیوار سے لگانے کیلئے ٹارگٹ کیا لیکن اب صورتحال مختلف ہے اور دکھائی دے رہا ہے کہ ایک مخصوص شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے باقی تمام جماعتوں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کسی صورت دشمنوں کی سازش کے سامنے نہیں جھکے گی،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کو لوٹنے والوں کے خلاف نیب کی تحقیقات جاری ہیں اور تبدیلی والوں کا اصل چہرہ بہت جلد قوم کے سامنے ہو گا، حکومت میں آ کر ترقی کے رکے ہوئے عمل کا دوبارہ آغاز کریں گے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے خزانے کو بری طرح لوٹا اور منصوبوں کے نام پر اربوں کا قرض ہڑپ کر لیا گیا ، انہوں نے کہا سابق حکومت نے صوبے کو مالی و انتظامی طور پر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ، ،انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت روزانہ کی بنیاد پر اے این پی میں شامل ہو رہی ہے اور اے این پی اپنے اوپر کئے جانے والے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائے گی،

چیلنج قبول ہے ،کپتان کا مردان میں پاور شو فلاپ ہو گیا، امیر حیدر خان ہوتی

 July-2018  Comments Off on چیلنج قبول ہے ،کپتان کا مردان میں پاور شو فلاپ ہو گیا، امیر حیدر خان ہوتی
Jul 152018
 

چیلنج قبول ہے ،کپتان کا مردان میں پاور شو فلاپ ہو گیا، امیر حیدر خان ہوتی

اے این پی کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے تسلیم کرلیا کہ ان کا مقابلہ اے این پی کے ساتھ ہے۔

اقتدارمیں آکر سابق حکمرانوں سے پائی پائی کا حساب لیں گے، کپتان نے سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔

سابق حکومت کی غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مالی بحران کا شکار ہوا ۔

سابق حکومت نے اپنے دور میں پختون نوجوانوں کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی۔

اے این پی کامیابی کے بعد بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دے گی۔ہوتی ہاؤس میں شمولیتی تقریب سے خطاب

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خا ن کا مردان میں پاور شو مکمل طورپر ناکام رہا ، اے این پی کے خاتمے کے جھوٹے دعوے کرنے والے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے باس نے تسلیم کرلیاہے کہ ان کا مقابلہ اے این پی کے ساتھ ہے ،ہمیں کپتان کا چیلنج قبول ہے،ہماری پارٹی نام نہاد تبدیلی اوردہشت گردوں کے سامنے چٹان کی طرح میدان میں کھڑی ہے ،اقتدارمیں آکر سابق حکمرانوں سے پائی پائی کا حساب لیں گے کپتان نے سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیاہے، باچاخان کے پیروکاردلیل ،شرافت ،خدمت، محبت اورامن کا دامن تھامے ہوئے ہیں صوبے میں اب باچاخانی کا راج ہوگا ، وہ اپنی رہائش گاہ ہوتی ہاؤس مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس میں سینکڑوں افرا دنے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا،پارٹی کے صوبائی نائب صدر حاجی محمد جاوید اورجنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے امیرحیدرخان ہوتی نے انہیں پارٹیاں ٹوپیاں پہنائیں اور مبارک بادیتے ہوئے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی پر پختونوں کا اعتماد بڑھ گیاہے اورانہیں خوشی ہے کہ نام نہاد تبدیلی کے ڈھونگ رچانے والوں کی اصلیت جان کر باچاخانی کی طرف تیز ی سے آرہے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان کا مردان کاجلسہ بری طرح ناکام ہوا ان کا تھنک ٹینک چند سو افراد کو بھی نکال نہ سکا، انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک اے این پی کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے آج کپتان خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہے ہمیں عمران خان کا چیلنج قبول ہے اورانشاء اللہ انہیں 25جولائی کو باچاخانی کی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا، انہوں نے کہاکہ عمران خان سیاسی کارکنوں کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کریں، انہوں نے سیاست میں اخلاقیات کاجنازہ نکال دیاہے ،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سابق حکومت کی غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مالی بحران کا شکار ہوا ، سابق وزیر اعلیٰ نے صوبے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی حلقہ کے عوام کی تذلیل کی اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں ایک لمحے کے لئے بھی پختون نوجوانوں کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی، انہوں نے نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور اے این پی کامیابی کے بعد بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دے گی اور نوجوانوں کو 10لاکھ تک بلاسود قرضے فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی حکومت میں آ کر عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرے گی ۔

عوام الیکشن میں لالٹین پر مہر لگا کر شہداء کے خون کا بدلہ لیں

 July-2018  Comments Off on عوام الیکشن میں لالٹین پر مہر لگا کر شہداء کے خون کا بدلہ لیں
Jul 152018
 

عوام الیکشن میں لالٹین پر مہر لگا کر شہداء کے خون کا بدلہ لیں ۔الحاج غلام احمد بلور

عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ کے زیر اہتمام بلور ہاؤس میں پارٹی قائدین کا اجلاس ، کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔

20جولائی کو این اے31 نمکمنڈی میں عظیم الشان جلسے کا اعلان، کارکنان کو پرامن الیکشن مہم دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت

الیاس بلور پی کے76، عزیز بلور اور طارق منصور پی کے 77 جبکہ دانیال بلور پی کے 78 کی الیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر

پشاور(): عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بلور ہاؤس پشاور میں سٹی ڈسٹرکٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت اے این پی سٹی صدرملک غلام مصطفی اعوان نے کی ۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سئینر نائب صدر الحاج غلام احمد بلور، الحاج الیاس احمدبلور، مرکزی و صوبائی ممبر کونسل الحاج ملک طارق اعوان،پی کی 76کے امیدوارحاجی ہدایت اللہ خان ،پی کے 77کے امیدواحاجی عمر مہمند ، سرتاج خان جنرل سیکرٹری،سبز علی خان، دانیال بلور، حاجی عنایت اللہ ، عزیز بلور، نیاز محمد، عابد اللہ یوسفزئی، غلام حسن، نواب علی یوسفزئی، نور جمال آفریدی ، فیض رسول ، اور اسکے علاوہ دیگر پارٹی عہدیدرا ن بھی موجود تھے۔ اجلاس میںیکہ توت بم دھماکے میں شہید ہونے والے بیرسٹر ہارون بلوراور دیگر افراد ،بنوں اور کوئٹہ میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کے جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئی۔اس حوالے سے PK-76میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد حاجی ہدایت اللہ ہاؤس میںآج بروز اتوار منعقد کیا گیا جبکہ پی کے 78میں بروز پیر اور 77میں بروز منگل تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر ملک غلام مصطفی نے کارکنوں کوالیکشن مہم دوبارہ اسی جوش و جذبے سے شروع کرنے کے بارے میں ہدایات جاری کیں اور کہا گیا کہ20جولائی 2018بروز جمعتہ المبارک رات 8بجے این اے31 نمکمنڈی پشاور میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مرکزی و صوبائی قائدین خطاب فرمائیں گے۔اس موقع پر الیاس بلور کو پی کے76، عزیز بلور اور طارق منصور کو پی کے 77 جبکہ دانیال بلور کو پی کے 78 کی الیکشن کمیٹی کا چئیر مین مقرر کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الحاج غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ باچا خان امن اور عدم تشدد کا پیروکار تھا اور ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اس لیے تمام کارکنوں سے درخواست ہے کہ پر امن طریقے سے اپنی الیکشن کمپین جاری رکھیں اور 25جولائی کو لالٹین پر مہر لگا کر اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیں۔اجلاس میں25جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔