تین اداروں نے سازش کے تحت عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ،سردار حسین بابک

 July-2018  Comments Off on تین اداروں نے سازش کے تحت عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ،سردار حسین بابک
Jul 302018
 

تین اداروں نے سازش کے تحت عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ،سردار حسین بابک
لاڈلے کو پوری قوم پر زبر دستی مسلط کرنے کی غرض سے جمہوریت کے خلاف سازش کی گئی۔
الیکشن کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا گیا ، سازش میں الیکشن کمیشن،نگران حکومت اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔
عوام میدان میں آئیں اور عوامی نمائندگی پر ڈاکہ ڈالنے والی قوتوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔
پختون قیادت پر گہری سازش کے ذریعے پارلیمنٹ کے دروازے بند کئے گئے۔
دوبارہ گنتی کی درخواستیں مسترد ہوئیں تو آر اوز دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔
عدالیہ ،نگران حکومت اور فوج سے پاک انتخابات کی ضرورت ہے۔بونیر میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تین اداروں نے مل کر سازش کے تحت عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے جس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی ،ایک لاڈلے کو پوری قوم پر زبر دستی مسلط کرنے کی غرض سے جمہوریت کے خلاف سازش کی گئی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف بونیر میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اے این پی بونیر کے ضلعی صدر محمد کریم بابک،این اے9سے سابق امیدوار حاجی رؤف خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا ، سردار حسین بابک نے کہا کہ لاڈلے کو زبردستی مسلط کرنے کے فیصلے کو پاکستانی قوم قبول نہیں کرے گی،انہوں نے کہا کہ الیکشن کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا گیا اور اس سازش میں الیکشن کمیشن،نگران حکومت اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ بونیر میں لوٹے کو ٹکٹ دیا گیا جسے اس حلقے میں کوئی نہیں جانتا پھر بھی اسے58ہزار ووٹ ڈلوائے گئے،سردار حسین بابک نے کہا کہ عوام میدان میں آئیں اور عوامی نمائندگی پر ڈاکہ ڈالنے والی قوتوں کے خلاف متحد ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ تمام پختون قیادت کے خلاف ملکی اداروں نے سازش کی اور گہری سازش کے ذریعے ان پر پارلیمنٹ کے دروازے بند کئے گئے ہیں تاکہ لاڈلے سے اپنی مرضی کا ایجنڈا پورا کرایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ چار روز میں قومی و صوبائی اسمبلی کے12حلقے کھلے جن میں دوبارہ گنتی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دوبارہ گنتی کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں ، انہوں نے واضح کیا کہ امیدوار دوبارہ کاؤنٹنگ کیلئے درخواستیں جمع کرائیں اور اگر درخواستیں مسترد کی گئیں تو آر اوز کے دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ عدالیہ ،نگران حکومت اور فوج سے پاک انتخابات کی ضرورت ہے۔

پری پول رگنگ میں ریاست ملوث ہے ،الیکشن میں فوج نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کی

 July-2018  Comments Off on پری پول رگنگ میں ریاست ملوث ہے ،الیکشن میں فوج نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کی
Jul 302018
 

پری پول رگنگ میں ریاست ملوث ہے ،الیکشن میں فوج نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا،میاں افتخار حسین

فوج ملک کا اہم ادارہ ہے ،اے این پی سے نفرت اور پی ٹی آئی سے محبت کرنے والی فوج قبول نہیں کریں گے۔

دھاندلی زدہ الیکشن قبول نہیں ملک میں دوبارہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرائے جائیں۔

فوج ،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن اپنے یکطرفہ کردار سے مخصوص شخص کو اقتدار میں لانے کیلئے سرگرم رہے۔

آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں۔

اے این پی کو دیوار سے لگانے اور پشتون قیادت پر پارلیمان کے دروازے بند کرنے مزید مسائل جنم لیں گے۔

آرمی جوانوں نے گن پوائنٹ پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا، دھاندلی کے خلاف نوشہرہ میں مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے لاڈلے کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا ہے ،فوج ملک کا اہم ادارہ ہے ،اے این پی سے نفرت اور پی ٹی آئی سے محبت کرنے والی فوج قبول نہیں کریں گے ، میرے حلقے میں میرے مخالف امیدوار کو صرف اس لئے جتوایا گیا کیونکہ اس کا فوج کے ساتھ مشترکہ کاروبار ہے، دھاندلی الیکشن مسترد کرتے ہیں ،ملک میں دوبارہ فوج و عدلیہ سے پاک آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، فوج ، اور الیکشن کمیشن ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی ذمہ دار ہے اور آج خیبر سے کراچی تک ایک ہی آواز اور ایک ہی شکایت ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں حالیہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، مظاہرے میں اے این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ فوج ملکی ادارہ ہے جبکہ الیکشن میں فوجیوں نے فوج کو بطور پی ٹی آئی کی بی ٹیم کے طور پر پیش کیا ہے ، اے این پی سے نفرت اور پی آئی سے محبت والی فوج کسی صورت قبول نہیں کریں گے ،فوج کی ذمہ داری ملک کا تحفظ کرنا ہے اسے الیکشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ،فوج ،نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے اپنے یکطرفہ کردار سے ثابت کیا کہ وہ جانبدار ہیں اور کسی ایک مخصوص شخص کو اقتدار میں لانے کیلئے سرگرم رہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی الیکشن سے قبل بار بار شکایات کرتی رہی کہ مختلف حلقوں میں پری پول رگنگ جاری ہے اور عوام میں نوکریاں اور ترقیاتی کام سیاسی رشوت کے طورپر جاری ہیں لیکن اس وقت بھی ہماری شکایات نہیں سنی گئیں کیونکہ سب ادارے اس سازش میں شریک تھے،انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مطالبہ ہوا تو فوج کی بھی بدنامی ہو گی،آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں اور تحقیقات کریں کہ ان اہلکاروں کواس کام کیلئے کہاں سے احکامات ملتے رہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور اگر فوج اپنی نگرانی میں کرائے گی تو دھاندلی کی صورت میں اسے ان الزامات سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا،
انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اس قدر ناکام اور جانبدار نگران حکومت کبھی نہیں آئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نتائج رات8بجے مکمل ہو گئے تھے جن کے مطابق میں اس حلقے سے جیت چکا تھا البتہ ڈیوٹی پر موجود عملہ اور فوجی اہلکاروں نے نتائج روکے جس کے بعد مجھے ہرایا گیا ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز فوجی اہلکار ہمارے لوگوں کو سرخ ٹوپی اور بیج لگانے کی وجہ سے ووٹ پول کرنے سے روکتے رہے،جبکہ اس کے برعکس مخالف جماعت کے کارکنوں کو ہر طرح کی آزادی تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی ، ایم آئی اور دیگر ایجنسیاں ایمانداری سے رپورٹ دیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ آج جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتیجے میں ماضی میں بھی ملک دو لخت ہو چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس دھرتی پر امن چاہتے ہیں لیکن ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے ہمیں دیوار سے لگانے کی بجائے ملک میں شفاف انتخابات کرائے جائیں ،لاڈلے کو زبردستی ملک پر مسلط کرنے کے نتائض خطرناک ہونگے ۔

داغدار دامن کو دھونے کیلئے ملک میں دوبارہ آزاد انتخابات کرائے جائیں،اسفندیار ولی خان

 July-2018  Comments Off on داغدار دامن کو دھونے کیلئے ملک میں دوبارہ آزاد انتخابات کرائے جائیں،اسفندیار ولی خان
Jul 302018
 

داغدار دامن کو دھونے کیلئے ملک میں دوبارہ آزاد انتخابات کرائے جائیں،اسفندیار ولی خان

سازش میں فوج،عدلیہ اور الیکشن کمیشن شریک ہیں،نگران حکومت کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتی رہی۔

ملک میں ایسے الیکشن کرائے جائیں جن میں فوج اور عدلیہ کا کردار نہ ہو،
پولنگ کے اختتام پر دروازے بند کر کے فوجیوں نے تمام پولنگ ایجنٹس کو گن پوائنٹ پر باہر نکالا۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کو میڈیا پر دیئے گئے اپنے بیان پر شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔

چیف الیکشن کمشنر 53سیکنڈ میں ایک امیدوار کے ووٹ پول کر کے دکھائے ۔
پختون قیادت کو سازش کے تحت پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کیلئے گیم پلان ترتیب دیا گیا۔

فارم45انٹرنیٹ پر ڈالنے سے تیں اداروں کے دامن پر لگے داغ دھوئے نہیں جا سکتے۔

دیوار سے لگایا گیا تو ہمارے ہاتھ ان کے گریبانوں میں ہونگے۔چارسدہ میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے ملک میں دوبارہ آزادانہ اور غیر جانبدارازہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کسی بھی طرح اپنے دامن پر لگا داغ دھوئے اور دھاندلی میں ملوث اہلکاروں کو گھر بھیجا جائے،بات بات پر سوموٹو لینے والی عدلیہ صرف اس لئے خاموش ہے کیونکہ وہ خود اس سازش کا حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں ملک میں حالیہ الیکشن میں ہونے والی تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ یہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں اور دوبارہ ایسے الیکشن کرائے جائیں جس میں فوج اور عدلیہ کا کردار نہ ہو،اس خطرناک سازش میں فوج ،عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ رمضان میں تمام سیاسی جماعتوں کے وفد نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی جس میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے فوج کو اختیارات دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تو پھر فوج کس کے کہنے پر آئی ؟ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں مداخلت سے فوج کا ادارہ متنازعہ ہو چکا ہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ترجمان کو میڈیا پر دیئے گئے اپنے بیان پر شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ پختون قیادت کو جان بوجھ کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا اور حالات کو ایسی نہج پر نہ لائے جائیں جس میں ہمیں دیوار سے لگایا جائے ورنہ ہمارا ہاتھ ان کے گریبانوں میں ہوگا،اسفندیار ولی خان نے کہا پولنگ کے اختتام پر ایک گھنٹے کیلئے دروازے بند کئے گئے اور تمام پولنگ ایجنٹس کو گن پوائنٹ پر فوجیوں نے باہر نکال دیا اسی دوران نتائج تبدیل کئے گئے اور اندر بیٹھ کر ووٹ پول کئے گئے جس کی تمام ذمہ داری فوج،عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے،انہوں نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر دروازے بند کئے گئے؟انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ وہ 53سیکنڈ میں ایک امیدوار کے ووٹ پول کر کے دکھائے تو میں شکست تسلیم کر لوں گا، اسفندیار خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم45انٹر نیٹ پر ڈالنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کے دستخط کے بغیر جاری کئے گئے فارم45کی کوئی اہمیت نہیں،انہوں نے کہا کہ یہ سب ڈرامے اب صرف خود کو بچانے کیلئے ہیں جنہیں ہم تسلیم نہیں کریں گے ،پنجاب ،سندھ اور بلوچ قیادت کو پارلیمنٹ تک پہنچایا گیا جبکہ پختونوں کے خلاف فوج نے سازش کر کے پارلیمنٹ کے دروازے بند کئے ،انہوں نے واضح کیا کہ اس الیکشن اور لاڈلے کو پرامن ماحول فراہم کرنے سے ملک میں استحکام آئے گا یہ ان کی خام خیالی ہے ملک میں اب مزید گڑبڑ ہوگی اور پاکستان عدم استحکام کی جانب بڑھے گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی بلوچستان میں بننے والی اختر مینگل کی حکومت کو سپورٹ کرے گیجبک اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اگر باقی جماعتیں حلف لینے کے فیصلے پر متفق ہوئیں تو اے این پی کے ممبران بھی حلف اٹھائیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر اس سازش کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

فوج کی الیکشن میں مداخلت ادارے کی بدنامی کا باعث بنی،میاں افتخار حسین

 July-2018  Comments Off on فوج کی الیکشن میں مداخلت ادارے کی بدنامی کا باعث بنی،میاں افتخار حسین
Jul 292018
 

فوج کی الیکشن میں مداخلت ادارے کی بدنامی کا باعث بنی،میاں افتخار حسین

آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں۔

ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو احکامات کہاں سے ملتے رہے ؟قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

جس پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کو باختیار بنایا اس نے اسی پارلیمان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا، ایک مخصوص پارٹی کیلئے باقی جماعتوں کا راستہ روکا گیا۔

رات8بجے میری جیت کا اعلان کر دیا گیا لیکن فوجیوں اور پولنگ عملے نے نتائج تبدیل کر دیئے۔

تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف اے این پی کا ہر کارکن کل سڑکوں پر ہوگا، نوشہرہ میں پریس کانفرنس

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فوج کی ذمہ داری ملک کا تحفظ کرنا ہے اسے الیکشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ،تحقیقات کا مطالبہ ہوا تو فوج کی بھی بدنامی ہو گی،آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں اور تحقیقات کریں کہ ان اہلکاروں کواس کام کیلئے کہاں سے احکامات ملتے رہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور جمال خٹک بھی ان کے ہمراہ تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور اگر فوج اپنی نگرانی میں کرائے گی تو دھاندلی کی صورت میں اسے ان الزامات سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ ادارہ خود کو کمزور محسوس کرتا رہا جب پارلیمنٹ کے ذریعے اسے با اختیار بنایا گیا اور 6ارب کی بجائے اس بار20روپے جاری کئے گئے تو وہ اپنی اوقات ہی بھول گیا، انہوں نے کہا کہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا اور ایک مخصوص پارٹی کو اقتدار میں لانے کیلئے باقی جماعتوں کا راستہ روکا گیا ، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت صرف سب اچھا کی خوش فہمی میں مبتلا رہی ،ملک کی تاریخ میں اس قدر ناکام اور جانبدار نگران حکومت کبھی نہیں آئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ میرے حلقہ پی کے65میں کسی صورت یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ مجھے شکست ہوئی ہے کیونکہ میرے گاؤں سے کوئی امیدوار میرے مقابلے میں نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ نتائج رات8بجے مکمل ہو گئے تھے جن کے مطابق میں اس حلقے سے جیت چکا تھا البتہ ڈیوٹی پر موجود عملہ اور فوجی اہلکاروں نے نتائج روکے جس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ میں ہار گیا ہوں ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز فوجی اہلکار ہمارے لوگوں کو سرخ ٹوپی اور بیج لگانے کی وجہ سے ووٹ پول کرنے سے روکتے رہے،جبکہ اس کے برعکس مخالف جماعت کے کارکنوں کو ہر طرح کی آزادی تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پراسرار طریقے سے فوجی اہلکاروں کے سائے میں سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص خفیہ بریف کیس پولنگ سٹیشن کے اندر لے جاتا رہا جن میں گمان ہے کہ بیلٹ پیپرز تھے جنہیں اندر لا کر تبدیل کیا گیا،انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی ، ایم آئی اور دیگر ایجنسیاں ایمانداری سے رپورٹ دیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مجھے آتھ بجے ہی مبارکباد دیتے ہوئے پولنگ سٹیشن سے باہر آ گئے لیکن بعد میں تباہی پھیر دی گئی اور نتائج تبدیل کر کے فوجیوں نے فارم 45روک لئے ،انہوں نے کہا کہ آج جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتیجے میں ماضی میں بھی ملک دو لخت ہو چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس دھرتی پر امن چاہتے ہیں لیکن ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا گیا، انہوں نے کل ہونے والے احتجای مظاہروں میں بھرپور شرکت کا یقین دلا یا اور کہا کہ تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف اے این پی کا ہر کارکن کل سڑکوں پر ہوگا، انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ صبح9بجے شوبرا چوک میں احتجاجی مظاہرے میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔

لاڈلے کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے

 July-2018  Comments Off on لاڈلے کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے
Jul 282018
 

لاڈلے کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے،ایمل ولی خان

الیکشن میں بدترین دھاندلی اور متنازعہ نتائج کے خلاف 30جولائی کو بھرپور احتجاج کیا جائے گا

پختونوں کے خلاف جان بوجھ کر سازش کی گئی اور انہیں پارلیمان سے باہر رکھنے کیلئے شیطانی کھیل کھیلا گیا ۔

مختلف حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار خود حیران ہیں کہ وہ جیت کیسے گئے ہیں۔

اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں کے درمیان متفقہ فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ہم اپنا حق لے کے رہیں گے اور سازش کے تحت قوم پر فیصلے مسلط نہیں ہونے دیں گے۔کارکنوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی اور متنازعہ نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف 30جولائی کو چارسدہ میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور ورکروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ یہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں اور تین اداروں نے مل کر قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے، انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی ہدایت کے مطابق30جولائی کو بھرپور احتجاج کیا جا ئے گا اور لاڈلے کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کے خلاف جان بوجھ کر سازش کی گئی اور انہیں پارلیمان سے باہر رکھنے کیلئے سارا کھیل کھیلا گیا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ اسفندیار ولی خان نے اے پی سی میں سیاسی جماعتوں کو حلف نہ لینے کی تجویز دی جس پر شہباز شریف نے پارٹی سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے درمیان متفقہ فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار خود حیران ہیں کہ وہ جیت کیسے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ میری اپنی ہمشیرہ کی ڈیوٹی جس پولنگ سٹیشن پر تھی وہاں وردی والوں نے لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کی اور لالٹین کو ووٹ نہیں دینے دیا جس پر احتجاج کی صورت میں میری ہمشیرہ کو قید کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دی،انہوں نے کہا کہ ہم اپنا حق لے کے رہیں گے اور سازش کے تحت قوم پر وردی کے فیصلے مسلط نہیں ہونے دیں گے۔

اے این پی نے انتخابی نتائج مسترد کردئیے

 July-2018  Comments Off on اے این پی نے انتخابی نتائج مسترد کردئیے
Jul 272018
 

عوامی نیشنل پارٹی نے الیکشن نتائج مسترد کر دیئے ،30جولائی کو احتجاج کا اعلان
بدترین دھاندلی میں فوج ، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت شامل ہیں، پولنگ کے بعد ایک گھنٹے میں تباہی پھیر دی گئی۔
تمام پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر گنتی کی گئی ، آرمی کے جوان لوگوں کو بیٹ پر مہر لگانے کا کہتے رہے۔
در حقیقت پشتون قیادت کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا گیاتاکہ پارلیمنٹ میں لاڈلہ پر تنقید نہ ہو سکے۔
چیف الیکشن کمشنر ریاضی میں کمزور نہ ہوں تو حساب کر لیں 53سیکنڈ میں دو بیلٹ پیپر کیسے پول ہو سکتے ہیں؟
اے پی سی میں تمام جماعتوں کے ساتھ متفقہ فیصلے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔تھنک ٹینک اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے حالیہ الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے 30جولائی کو احتجاج کا اعلان کیا ہے اور انتخابات میں ہونے والی ننگی دھاندلی پاک فوج ، الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی ملی بھگت قرار دیا ہے، ولی باغ چارسدہ میں پارٹی کے تھنک ٹینک اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے سے پلان کیا ہوا تھا اور جو بھی کیا گیا پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر کیا گیا تمام پولنگ ایجنٹس کو ایک گھنٹے کیلئے باہر نکال دیا گیا اور اسی دوران ووٹوں کے بکس بھرے گئے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جس طرح کا الیکشن کرایا گیا اس سے ملک میں استحکاام آتا نظر نہیں آ رہا ،انہوں نے کہا کہ در حقیقت پشتون قیادت کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا گیا ،یہ کاروائی اے این پی کے خلاف نہیں بلکہ تمام پشتونوں کے خلاف ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر ریاضی میں کمزور نہ ہوں تو حساب کر لیں 53سیکنڈ میں دو بیلٹ پیپر کیسے پول ہو سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پولنگ کا سارا عملہ دھاندلی میں شریک تھا، الیکشن کمیشن کے جو بھی گڑ بڑ کی وہ ایک گھنٹے میں کی پولنگ ایجنٹس کو پولنگ بوتھ سے نکال دیا گیا ، آرمی کے جوان لوگوں کو بیٹ پر مہر لگانے کا کہتے رہے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں کے مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لائحہ عمل طے کیا جائے گا، تاہم پہلے مرحلے میں30جولائی کو اس دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ سب کو مل کر فیصلہ کرنا ہو گا،ہم ہزاروں کارکن ایسے پیش کر سکتے ہیں جنہیں اے این پی کے بیج لگانے کی وجہ سے پولنگ سٹیشن میں نہیں جانے دیا گیا، انہوں نے کہا کہ میرے حلقہ میں خواتین کے ایک پولنگ سٹیشن میں کل ووٹوں کی تعداد 211تھی جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو 306ووٹ مل گئے یہ کہاں سے آ ئے ؟پشتون قیادت کو جان بوجھ کر باہر رکھا گیا تاکہ لاڈلے کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور پارلیمنٹ کے اندر کوئی تنقید کرنے والا نہ ہو ،انہوں نے ایک بار واضح کیا کہ اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے اور تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ فیصلے پر ساتھ دیں گے۔انہوں نے سیکورٹی تھریٹس ہونے کے باوجود الیکشن میں پارٹی کارکنوں اور خصوصاً خواتین کی بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
قبل ازیں پارٹی کے تھنک ٹینک کا اجلاس اسفندیار ولی خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حالیہ الیکشن میں ہونے والی بدترین دھاندلی سمیت اہم امور زیر غور آئے ۔

مستقبل اے این پی کا ہے،حکومت میں آ کر عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے

 July-2018  Comments Off on مستقبل اے این پی کا ہے،حکومت میں آ کر عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے
Jul 232018
 

مستقبل اے این پی کا ہے،حکومت میں آ کر عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے، امیر حیدر خان ہوتی

مردان کے عوام نے الیکشن سے قبل اپنا فیصلہ سنا دیا ہے،اے این پی کے خاتمے کی باتیں کرنے والے عوامی سیلاب دیکھیں۔

اے این پی عوام کی ترقی اور خوشحالی کا جامع پلان لے کر آئی ہے ، تعلیم ،امن اور بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی۔

سابق حکومت نے مختلف حربوں سے خزانہ پر ہاتھ صاف کیا ، 6ماہ میں 21کروڑ کی چائے اور بسکٹ کھائے گئے۔

آنے والے الیکشن میں پختون قوم کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے،پختون آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔

حکومت میں آ کر مرکز سے صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

عوام اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں، مردان میں گرینڈ جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ الیکشن پختون قوم کی قسمت کا فیصلہ کرے گا اور حکومت میں آ کر صوبے کے عوام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے،مردان کے عوام نے الیکشن سے قبل اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ،مستقبل اے این پی کا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہوتی ہاؤس گراؤنڈ میں گرینڈ پاور شو سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ضلعی صدر حمایت اللہ مایار ،جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان ، جاوید خان یوسفزئیاور مردان سے نامزد امیدواروں نے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے خاتمے کی باتیں کرنے والے مردان آئیں اور عوام کا سمندر دیکھیں ، آنے والے الیکشن میں پختون قوم کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے ،حکومت میں آئے تو عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی عوام کی ترقی اور خوشحالی کا جامع پلان لے کر آئی ہے ،جس میں تعلیم ،امن اور بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی، ہر ضلعی میں سرکاری یونیورسٹی اور ہر حلقہ میں کالج قائم کریں گے،انہوں نے انتخابی مہم میں کوششوں اور جدوجہد کو سلام پیش کیا اور کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں صوبے میں اے این پی کی حکومت قائم ہو گی،انہوں نے مردان کے سابق ممبران اسمبلی احمد بہادر خان اور گوہر شاہ باچہ کا بھی شکریہ ادا کیا،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سابق حکومت نے مختلف حربوں سے خزانہ پر ہاتھ صاف کیا ، 6ماہ میں 21کروڑ کی چائے اور بسکٹ کھائے گئے ،انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام میں انقلابی اصلاحات لے کر آئیں گے اور کسی بھی ضلع سے مریضوں کو پشاور منتقل کرنے کی بجائے وہیں ان کا جدید علاج ہو سکے گا،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ مرکز سے صوبے کے حقوق حاصل کریں گے اور اپنے وسائل پر اپنا ختیار حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ خزانہ خالی کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت نے370ارب کا قرضہ لے کر ہڑپ کر لیا ، نیب نے کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کامیابی کے بعد بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دے گی اور نوجوانوں کو 10لاکھ تک بلاسود قرضے فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے لئے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا، انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ الیکشن کی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور عوام اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنی آئندہ نسلوں کی بقا کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں، انہوں نے کہا کہ اقتدارمیں آکرنہ صرف خالی خزانہ بھریں گے بلکہ ترقی کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ چلائیں گے، انہوں نے پختونوں سے کہا کہ آپس میں اتحاد واتفاق پیدا کریں اور 25جولائی کو باچا خان کے پیروکاروں کو کامیاب کرا کے اپنا مستقبل محفوظ بنائیں۔