بے روزگاری کے خاتمے کیلئے 10لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کریں گے

 June-2018  Comments Off on بے روزگاری کے خاتمے کیلئے 10لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کریں گے
Jun 202018
 

بے روزگاری کے خاتمے کیلئے 10لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کریں گے، امیر حیدر خان ہوتی

اسلام آباد کے خواہشمندوں کو پھر سے اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے،عوام دھوکے میں نہیں آئیں گے۔

فاٹا انضمام کے باوجود دیر کے عوام ترقیافتہ علاقوں کے برابر آنے تک ٹیکس ادا نہیں کریں گے ۔

ہم مکاری جھوٹ فریب دھوکہ دہی پر نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

عمران خان نے پیراشوٹ امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر کے نظریاتی کارکنوں کی توہیں کی ۔

سابق وزیر اعلیٰ نے صوبے کو اربوں روپے کا مقروض کر دیا ، کوئی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔

پشاور کے سڑکوں پر 350ڈیم با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں، دیر میں جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو پختونوں کی زمین پر ایک مرتبہ پھر پختونوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا، اسلام آباد کے خواہشمندوں کو پھر سے اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے اور اب وہ اسلام کے نام پر عوام کو ورغلانے کیلئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں ، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد باجوڑ اور دیر میں اس وقت تک ٹیکس نہیں دیں گے جب تک یہاں کے پسماندہ علاقے پنجاب کے ترقیافتہ علاقوں کے برابر نہیں آ جاتے ، ان خیالات کا ااظہار انہوں نے دیر لوئر پی کے16 جندول میں انتخابی مہم کے حوالہ سے حاجی بہادر خان کی سربراہی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پی ٹی آئی کی اہم سرکردہ سیاسی شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام قومیتیں اپنی قوم کے رہنماؤں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں، پنجابی پنجابیوں کیساتھ اور سندھی سندھیوں کیساتھ کھڑے ہوکر انہیں کامیاب کراتے ہیں پختونخوا کے عوام کو پختونوں کیساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے مسلمان پھر سیاست کرتے ہیں اسلام نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ کوئی جماعت اسلام کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال تک سراج الحق صوبائی حکومت میں اور مولانا فضل الرحمان مرکزی حکومت میں وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے اس دوران اسلام بھی محفوظ رہا اور جب حکومت ختم ہوئی تو اسلام کو خطرات درپیش ہونے لگے حالانکہ خطرہ اسلام کو نہیں بلکہ ان کے اسلام آباد کو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مکاری جھوٹ فریب دھوکہ دہی پر نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے شرعی نظام عدل ، دارالقضاء کا قیام اور تعلیمی ادارے و یونیورسٹیاں قایم کی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ بھی لڑی ہے اس لیے ہماری کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے نئے پاکستان اور تبدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا وہ دیکھ لیں عمران خان نے ان کے سامنے پیراشوٹ امیدواروں کو ٹکٹ دے کر دیرینہ کارکنوں کیساتھ کیا سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پرویز خٹک اور ان کی کابینہ سے اربوں روپوں کے قرضوں کا حساب مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کا اختیار عوامی نیشنل پارٹی کو ملا تو وزیر اعظم سے صوبہ کے بقایاجات لے کر ضلع کی سطح پر یونیورسٹیاں بنائیں گے، صحت اور تعلیم کے مراکز بنائیں گے ضرورت کی بنیاد پر روزگار دینگے، انہوں نے کہا کہ اے این پی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور اقتدار میں آ کر 5سے10لاکھ روپے تک بلاسود قرضے نوجوانوں کو دے گی تا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کو چوہے مار مہم پر لگا دیا جبکہ بعد ازاں چین کے ساتھ گدھوں کی تجارت شروع کر دی گئی جس سے ان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ،صوبے کو مالی اور انتظامی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، صوبے کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر منصوبے مکمل نہیں کئے گئے ، سابق وزیر اعلیٰ نے حکومت کے خاتمے کی جلدی میں ایکسپریس وے کے صرف10کلومیٹر کا افٹٹاح کیا جبکہ 350ڈیم پشاور کی سڑکوں پر با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر پشاور کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ۔صوبائی صدر نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم کیلئے50کنال اراضی مفت فراہم کی اور مولانا صاحب کی درخواست پر مفتی محمود فلائی اوور کو ان کے والد کے نام سے منسوب کیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ الیکشن کی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں۔ تقریب کے دوران ضلعی صدر حسین شاہ خان ، ضلعی صدر نیشنل یوتھ عمران ٹاکر، حاجی بہادر خان، NA7 کے امیدوار نظیر گجر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان

 June-2018  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان
Jun 192018
 

عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور2018کا اعلان ، پائیدار امن کا قیام اولیں ترجیح قرار

ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔ منشور کا متن

پانچ سے سولہ سال کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ منشور کا متن

بے گھر افراد کیلئے کم قیمت مکانات کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی کی جائے گی ، منشور کا متن

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے لئے انشورنس بلان ترتیب دیا جائے گا۔ منشور کا متن

سپریم کورٹ کو آئینی مسائل میں الجھانے کی بجائے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرینگے۔ منشور کا متن

خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنایا جائے گا۔ منشور کا متن

مزدور کی اجرت کم از کم 25ہزار روپے مقرر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جائے گا۔ منشور کا متن

ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گا،میاں افتخار حسین کی انتخابی منشور کے اہم نکات پر پریس بریفنگ

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ،دیرپا امن کا قیام ، تعلیم اور ملکی استحکام اولیں ترجیح قرار ۔ کم از کم اجرت 25ہزار کرنے کا اعلان ، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور منشور کمیتی کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے باچا خان مرکز میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منشور کا مقصد عوام میں اے این پی کے اغراض و مقاصد کے شعور کو اجاگر کرنا ہے ،اور اس کا مقصد پارٹی کے جذبہ سیاست کی وضاحت اور محرکات کا تعین کرنا ہے جو پارٹی حکمت عملی کا سرچشمہ ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے گزشتہ دور حکومت میں اپنے پیش کئے گئے منشور پر عمل کیا اور آئندہ بھی اپنے منشور پر من و عن عمل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ ہم 90دنوں یا سو دنوں کا منشور نہیں رکھتے ہم حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں اور پانچ سال کا مکمل پروگرام لے کر آئے ہیں جس پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد پائیدار امن کا قیام ہماری ترجیح ہو گی ، اور اس عارضی امن کو مستقل امن میں تبدیل کریں گے ،انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی کھل کر مخالفت کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے اور اے این پی نے اپنے گزشتہ دور میں بھی تعلیم پر خصوصی توجہ دی تھی ، انہوں نے کہا کہ موجودہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے نتیجے میں ملک غیر محفوظ ہے اورخطرات تاحال منڈلا رہے ہیں ، اے این پی ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنائے گی،انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظام ، پولیس میں اصلاحات ، انسانی حقوق ،اقلیتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد اور صوبائی خود مختاری، اٹھارویں ترمیم کے نفاذ اور استحکام کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخبات میں اتحاد کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اختیار اضلاع کے پاس ہے ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور انشورنس پلان کیلئے مربوط پروگرام بنایا جائے گا ، ہرضلع میں جوڈیشل کمپلیکس بنایا جائے گااور سپریم کورٹ کو آئینی مسائل میں الجھانے کی بجائے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرینگے،خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنایا جائے گاجبکہ خواتین کو ملازمتوں کے یکساں مواقع دئے جائنگے،پانچ سے سولہ سال تک کے عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی،اردو انگریزی اور چینی زبان کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جائے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے جامع پلان ہے اور ترجیحی بنیادوں پر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گا،پرائمری تعلیم کی مالی اور انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے سپرد کی جائنگی،صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصد مختص کیا جائے گا،طلبہ و طالبات کو تعلیمی وضائف بھی دیئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنائے جائنگے۔

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے قانون اور انشورنس پالیسی مرتب کی جائے گی

 June-2018  Comments Off on دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے قانون اور انشورنس پالیسی مرتب کی جائے گی
Jun 182018
 

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے قانون اور انشورنس پالیسی مرتب کی جائے گی، میاں افتخار حسین

اے این پی اقتدار میں آ کر تمام محکموں کی حالت بہتر بنانے سمیت سرکاری خزانے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے گی۔

بلا رنگ و نسل اور تفریق کئے بغیر عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہیں گے،تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

پختونخوا کے وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے صرف کئے گئے، صوبے کو پانچ سال تک نظر انداز کیا گیا۔

آنے والے انتخابات ملک کیلئے انتہائی اہم ہیں، الیکشن بہر صورت مقررہ وقت پر ہانے چاہئیں۔

ہر ڈویژن میں فعال برن یونٹ اور ٹراما سنٹر قائم کئے جائیں گے،انتخابی مہم کے دوران تنظیمی اجلاس اور شمولیتی تقاریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انتخابات میں اے این پی کی کامیابی یقینی ہے اور حکومت میں آنے کے بعد جامع سیکورٹی پلان تشکیل دیا جائے گا تا کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جا سکیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 65 سپین خاک پبی میں تنظیمی اجلاس اور باب قدیم سمیت مختلف یوسیز میں جرگوں اور حجروں کے دوروں کے دوران پارٹی عہدیداروں و کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی انتہائی اہم اور سرکردہ شخصیات نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حصین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں سے نالاں عوام کا رجحان اے این پی کی جانب بڑھ رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم عملی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ انسانیت کی خدمت کیلئے سیاست کی ، انہوں نے کہا کہ بلا رنگ و نسل اور تفریق کئے بغیر عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہے ہیں اور مستقبل میں بھی عوام کے مسائل اور صوبے میں ترقی کے دور کا دوبارہ آغاز اپنا مشن بنائیں گے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی تشدد ،فرقہ واریت اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی تلافی اور بحالی کیلئے معاشرتی حقوق کی بنیاد پر قانون اور انشورنس پالیسی مرتب کرے گی اور اس کا دائرہ کار صوبے میں ضم ہونے والے فاٹا تک بڑھائے گی اور شہداء سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کیلئے اقدامات سر فہرست ہونگے اور ہر ڈویژن میں فعال برن یونٹ اور ٹراما سنٹر قائم کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے تمام شعبے زبوں حالی کا شکار رہے اور اے این پی دوبارہ اقتدار میں آ کر تمام محکموں کی حالت بہتر بنانے سمیت سرکاری خزانے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے صرف کئے گئے اور تخت اسلام آباد کے خواہشمند نے صوبے کو پانچ سال تک نظر انداز کئے رکھا ، ،میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات بہرصورت وقت پر ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق صرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر لاگو ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ اور عملے کے ارکان کیلئے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تاکہ انہیں پابند رکھ کر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات ملک کیلئے انتہائی اہم ہیں، میاں افتخارحسین نے پارٹی عہدیداروں و کارکنوں پر زور دیا کہ وقت کم ہونے کے پیش نظر وہ اپنی سرگرمیاں اور تیاریاں بھرپور طریقے سے جاری رکھیں، بینرز اور جھنڈوں کا سلسلہ تیز کریں 

اے این پی کے انتخابی منشور بارے پریس بریفنگ کل باچا خان مرکز میں ہوگی

 June-2018  Comments Off on اے این پی کے انتخابی منشور بارے پریس بریفنگ کل باچا خان مرکز میں ہوگی
Jun 182018
 

اے این پی کے انتخابی منشور بارے پریس بریفنگ کل باچا خان مرکز میں ہوگی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی منشور کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین کل بروز منگل مورخہ19جون سہ پہر4بجے باچا خان مرکز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جس میں وہ آئندہ الیکشن کیلئے انتخابی منشور کے چیدہ چیدہ اہم ترین نکات کے حوالے سے بریفنگ دیں گے ، منشور کمیٹی کے ممبران سردار حسین بابک ، ایمل ولی خان ،بشری گوہر اور افراسیاب خٹک بھی اس موقع پر موجود ہونگے۔

اسفندیار ولی خان کا شاہ حسین سنگین کی وفات پر اظہار تعزیت

 June-2018  Comments Off on اسفندیار ولی خان کا شاہ حسین سنگین کی وفات پر اظہار تعزیت
Jun 142018
 

اسفندیار ولی خان کا شاہ حسین سنگین کی وفات پر اظہار تعزیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن چارسدہ کے صدر شاہ حسین سنگین کی ناگہانی موت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی تعزیت کی ہے ، اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ سنگین مرحوم پختون ایس ایف اور این وائی او کا قیمتی سرمایہ تھے اور ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ناگہانی آفات اللہ تعالی کی جانب سے امتحان ہیں اور انسان کے پاس سوا صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ، انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اے این پی غمزدہ خاندان کے غم مینں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کیلئے دعا کی۔

الیکشن سے قبل پی کے65میں بڑا اپ سیٹ ، مراد خٹک نے میاں افتخار حسین کی حمایت کر دی

 June-2018  Comments Off on الیکشن سے قبل پی کے65میں بڑا اپ سیٹ ، مراد خٹک نے میاں افتخار حسین کی حمایت کر دی
Jun 142018
 

الیکشن سے قبل پی کے65میں بڑا اپ سیٹ ، مراد خٹک نے میاں افتخار حسین کی حمایت کر دی

میاں افتخار حسین کی پی ٹی آئی کے امیدوار میاں خلیق الرحمان کے دست راست اور انتخابی مہم کے انچارج سے ملاقات

اپنے امیدوار کے منفی رویے سے نالاں اور بدظن مراد خٹک عرف دادا نے میاں افتخار حسین کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

ملاقات میں انتخابی مہم کے حوالے سے معاملات بھی طے پا گئے ، حلقے سے اب کامیابی نوشتہ دیوار ہے ۔

مراد خٹک کی طرف سے میاں افتخار حسین کی حمایت سے اس بار صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے ۔ناقدین کی رائے

پشاور ( پ ر ) حلقہ پی کے65نوشہرہ میں الیکشن سے قبل بڑا اپ سیٹ ، پی ٹی آئی امیدوار میاں خلیق الرحمان کے دست راست اور الیکشن مہم کے انچارج مراد خٹک عرف دادا نے اے این پی کے امیدوار میاں افتخار حسین کی حمایت کا اعلان کر دیا ،تفصیلات کے مطابق اے این پی کے امیدوار میاں افتخار حسین نے گزشتہ روز مراد خٹک سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں مراد خٹک عرف دادا نے میاں افتخار حسین کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ ملاقات کے دوران انتخابی مہم کے حوالے سے بھی معلاملات طے پا گئے ، اس موقع پر انہوں نے میاں افتخار حسین کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور اس بات کا عزم کیا کہ انتخابی مہم کے دوران وہ اپنی تمام کاوشیں اور توانائیاں بروئے کار لائیں گے ،میاں افتخار حسین نے مراد خٹک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پی کے65نوشہرہ سے کامیابی یقینی ہے مراد خٹک عرف دادا اپنے امیدوار کے غیر مناسب اور منفی رویے کی وجہ سے ان سے نالاں تھے جس پر انہوں نے اپنے فیصلے سے حلقے کی سیاست کا پانسہ پلٹ دیا اور اپنے خاندان اور تمام اقربا سمیت میاں افتخار حسین کی حمایت کر دی ، مراد خٹک وہ شخصیت ہیں جنہوں نے گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے دوران کلیدی کردار ادا کیا تاہم اس بار وہ اپنے امیدوار کے منفی رویے کی وجہ سے نالاں تھے اور انتہائی فیصلے پر مجبور ہو گئے ۔حلقہ کے عوام اور ناقدین کے مطابق مراد خٹک نے گزشتہ الیکشن میں اپنے امیدوار کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس بار ان کی طرف سے میاں افتخار حسین کی حمایت سے صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے ۔