خیبر پختونخوا میں دہشت گرد پھرسےمنظم ہورہے ہیں، میاں افتخار حسین

 May-2018  Comments Off on خیبر پختونخوا میں دہشت گرد پھرسےمنظم ہورہے ہیں، میاں افتخار حسین
May 172018
 

خیبر پختونخوا میں دہشت گرد پھرسے منظم ہورہے ہیں، میاں افتخار حسین
نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکاتی ایجنڈے پر تاحال عمل نہ ہوسکا ہے۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو سرے سے چیلنج ہی نہیں کیا۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی باہم لڑائی نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔
حال ہی میں انتخابات میں حصہ لے کر دہشتگردوں نے پارلیمنٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی شروعات کی ہیں۔
نوشہرہ کے سول ہسپتال اور سی ایم ایچ میں خودکش حملے کے زخمیوں کی عیادت کے موقع پر گفتگو

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سول ہسپتال اور سی ایم ایچ نوشہرہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نوشہرہ میں خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ ہم دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، اور اس واقعے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحت یابی کے متمنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اس بات کی نشاندھی کی تھی اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ 20 نکاتی ایجنڈے پر تاحال عمل نہ ہوسکا ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت دہشت گردوں سے نمٹنے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف ہے ، وزیراعلی اور ان کے وزراء کو کوئی فکر ہی لاحق نہیں کہ اس صوبے میں دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہورہے ہیں۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ ان کی بے فکری ان کا یہ زغم ہے کہ ان کے دور میں دھماکے نہیں ہوئے لیکن اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو کبھی چیلنج ہی نہیں کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ان کے دوست ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا یہ حال ہے کہ ان کی ساری توجہ وزیراعظم کی کرسی پر مرکوز ہیں اور ان کی اس باہم لڑائی نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے۔ جو کہ ایک ناکام ریاست کا منہ بولتا اور بڑا ثبوت ہے۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ جب ہماری حکومتوں نے دہشت گردوں کا سپورٹ جاری رکھا تو پشاور کے این اے 4 اور پنجاب کے کئی علاقوں سے ان دہشت پسندوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بندوق اور گولی سے ہمارا مقابلہ نہ کرسکے لہذا وہ پارلیمنٹ پر قابض ہونا چاہتے ہیں تاکہ آئین و قانون میں من پسند تبدیلیاں لاکر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے راہ ہموار کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایسے عناصر کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے اور دہشت گردوں کے درمیان گڈ اور بیڈ کی تمیز کا چکر چھوڑ کر اس ملک اور قوم کے وسیع ترمفاد میں سب کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کیلئے متحد ہوجائیں۔

پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر ادویات فروشوں پر حکومتی ظلم کے خلاف کھڑے ہونگے

 May-2018  Comments Off on پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر ادویات فروشوں پر حکومتی ظلم کے خلاف کھڑے ہونگے
May 162018
 

 پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر ادویات فروشوں پر حکومتی ظلم کے خلاف کھڑے ہونگے۔میاں افتخار حسین
ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی حکومت نے کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے روزگار پر وار کر دیا۔
وزیر اعلیٰ کے ایگزیکٹو آرڈر سے 28ہزار افراد کو بے روزگار کرنے کا پلان بنایا گیا ۔
فارماسسٹ کے لائسنس برائے فروخت ہیں ، ایک نیا کاروبار میدان میں آ جائے گا۔
تجربہ کار افراد کو راستے سے ہٹانے اور اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔
پختونوں نے حکومت پر جس اعتماد کا اظہار کیا پانچ سال تک اسے ٹھیس پہنچائی گئی۔
 صوبے کے تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں، پشاور کے عوام کو کس جرم کی سزا دی گئی ؟
کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن پبی کے ہڑتالی مظاہرین اور رابطہ عوام مہم کے دوران عوام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایکسپائری ڈیٹ کے قریب آتے ہی حکومت نے کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے روزگار پر وار کیا ہے اور ایک بار پھر 28ہزار سے زائد افراد کو بے روزگار کرکے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے ہڑتالی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، میاں افتخار حسین نے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فارماسسٹ کو اٹیارات دے دیدئے گئے ، انہوں نے کہا کہ ہم فارماسسٹ کی ترقی ضرور چاہتے ہیں تاہم کیمسٹ و ڈرگسٹ کے روزگار کا سودا اور انہیں متاثر کئے بغیر کام کیا جانا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر سے کیٹیگری سی ختم کر دی گئی جبکہ کیٹیگری بی بھی غیر فعال ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ان لوگوں نے احتجاج کیا جس پر پنجاب حکومت نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کر کے دبانے کی کوشش کی لیکن باآخر حکومت کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑے حالانکہ وہاں ایکٹ اسمبلی سے پاس کرایا گیا تھا جسے واپس لیا گیا ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایگزیکٹو آرڈر سے تمام اختیارات فارماسسٹ کو دے کر ادویات فروشوں کو بے روزگار کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ فارماسسٹ کے لائسنس مارکیٹوں میں برائے فروخت موجود ہیں اور کوئی بھی شخص ان کی بنیاد پر کاروبار کر سکتا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ،تجربہ کار افراد کو راستے سے ہٹانے اور اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ،وزیر اعلیٰ نے اپنے حلقے کے عوام کو بے روزگار اور ان کی عزت نفس داؤ پر لگا دی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس اہم ایشو پر سیاست نہیں کرتے اور پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر اس عوامی مسئلے کا فوری حل چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ فوری طور پر ایگیکٹو آرڈر واپس لیں اور 1982والا رول بحال کر کے کیمسٹوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کریں ،انہوں نے کہا کہ ہم ہڑتالی مظاہرین کے ساتھ ہیں اور حکومت کی طرف سے کئے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اتھائیں گے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین نے باب قدیم پبی میں عوامی رابطہ مہم کا آگاز کیااور مختلف علاقوں میں5 حجروں کا دورہ بھی کیا اس موقع پر مختلف حجروں میں بیشتر افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے عوام کے جذبے کو سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نیا تجربہ ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کافی پذیرائی بھی ملی ہے ، انہوں نے اسے رابطہ عوام مہم کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم اپنی سوچ و فکر اور باچا خان بابا کے فلسفے کا پرچار کرہے ہیں ، انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت کرنے میں ناکام رہی اور پختونوں نے جس اعتماد کا اظہار کیا پانچ سال تک اسے ٹھیس پہنچائی گئی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں خزانہ خالی کر کے صوبے کو اربوں روپے کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشاور کے عوام کو کس جرم کی سزا دی گئی ،شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور بی آر ٹی حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ کارکن اے این پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور آنے والے الیکشن کی بھپور تیاری کریں ، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہے اور اقتدار میں آ کر عوام کی خدمت بھرپور انسانی جذبے کے ساتھ کریں گے۔

حکومت مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈرگ ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم کرے

 May-2018  Comments Off on حکومت مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈرگ ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم کرے
May 152018
 

حکومت مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈرگ ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم کرے، ہارون بشیر بلور

صوبے کے چھوٹے بڑے تمام ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہوچکی ہیں ۔

غریب عوام اور مریض ادویات کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

 صوبائی حکومت دور میں صوبے کا ہر طبقہ ہر ادارہ سراپا احتجاج ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے ڈرگ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہڑتال کرنے والوں کے مطالبات تسلیم کرے اور ادویات کیلئے در بدر غریب مریضوں کی حالت زار پرر حم کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ادویات فروش ہڑتال پر ہیں اور صوبے کے چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض سخت پریشان ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا عوام کے مفاد کی خاطر جلد از جلد مظاہرین سے مذاکرات کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ ڈرگ ایسوسی ایشن کی مرضی کے مطابق ترامیم کی جائیں، ہارون بلور نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صوبائی حکومت دور میں صوبے کا ہر طبقہ ہر ادارہ سراپا احتجاج ہے،انہوں نے کہا کہ صحت کا انصاف کے نعرے کی دھجیاں اڑا کر حکمرانوں نے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کو سیاست میں الجھا کر مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا

 May-2018  Comments Off on خیبر پختونخوا پولیس کو سیاست میں الجھا کر مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا
May 152018
 

خیبر پختونخوا پولیس کو سیاست میں الجھا کر مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، میاں افتخار حسین
مجھ پر قتل کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے کیلئے وزیر اعلیٰ نے پولیس کو استعمال کیا۔
قتل کی غرض سے پولیس کے ذریعے مجھے دفتر سے باہر لایا گیا اور غنڈوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے نوشہرہ کو نظر انداز کیا اور سرکاری ملازمین کو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔
صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور صوبے کے تمام سرکاری محکمے مالی و انتظامی بدحالی کا شکار ہیں۔
فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے، شاہ کوٹ میں تنظیمی اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کپتان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے کی پولیس کوسیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے جھوٹے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو جس طرح سیاست میں الجھایا گیا اور اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اس کی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت میں خود ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خٹک نامہ یو سی شاہ کوٹ کوٹلی کلاں میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بیشتر افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں نے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہین مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ضلع میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ضلع کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جو ان کے منصب کو کسی صورت زیب نہیں دیتا ،اس سے قبل ان کے چچا نصر اللہ خٹک نے بھی اس حلقے کے عوام کو نظر انداز کئے رکھا ،جبکہ اقربا پروری کی تاریخ رقم کی ، موجودہ وزیر اعلیٰ نے سرکاری ملازمین کو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا ، ضلع میں کوئی یونیورسٹی تک قائم نہیں کی جبکہ دعوے تعلیمی ایمرجنسی کے کئے جاتے رہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں عبدالولی خان یونیورسٹی کیمپس منظور کیا اور اجمل خٹک کے نام سے جو پولی ٹیکنیک کالج قائم کیا وہ پرویز خٹک نے یہاں سے منتقل کر دیا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی و قومی اسمبلی دونوں حلقوں پر کامیاب ہونے کے بعد ایم این اے کی سیٹ چھوڑ کر اس پر اپنے بھانجے کو منتخب کرایا اور نوشہرہ کے عوام کے خلاف انتقام کا جذبہ لے کر میدان میں اترے ،انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران ہمارے دفتر پر پی ٹی آئی کے سینکڑوں غنڈوں نے حملہ کیا اور اس میں مجھے یرغمال بنانے اور بعد ازاں قتل کرنے کی غرض سے اغوا کی کوشش کی ، اس دوران پولیس نے مجھے بچانے کا بہانہ کر کے مجھے دفتر سے نکالا اور باہر لا کر اسلحہ بردار غنڈوں کے حوالے کر دیا ، اس بلوے کے دوران غنڈوں نے ایک معصوم نوجوان کی جان لے لی اور اس کا الزام مجھ پر لگا دیا جس کی تردید نوجوان کے والد نے موقع پر اور بعد ازاں عدالت میں بھی کی لیکن اس قتل کی ایف آئی آر پولیس نے پرویز خٹک کے دباؤ میں آ کر میرے خلاف کاٹ دی۔اسلحہ بردارغنڈوں کے سامنے پولیس بے بس تھی جبکہ آرمی کے ایک میجر نے اپنی فورس کے ہمراہ کمانڈو ایکشن کر کے مجھے ان سے چھڑایا ،اس دوران میری بلٹ پروف گاڑی پر ڈنڈے پتھر اور گولیاں برسائی گئیں جس پر بعد ازاں 20لاکھ روپے خرچہ آیا ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیسی مکمل طور پر سیاسی دباؤ میں رکھی گئی اور اسے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،میاں افتخار حسین نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُس وقت اس واقعے کی مذمت کی ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور صوبے کے تمام سرکاری محکمے مالی و انتظامی بدحالی کا شکار ہیں،انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے جس کا پول چیف جسٹس کے دورہ پشاور کے بعد کھل چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور گزشتہ سال آنے والے میٹرک کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت نے تعلیم کا محکمہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ، 18ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے چھوٹے صوبوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور اٹھارویں ترمیم کی صورت میں صوبے کے حقوق اور شناخت حاصل کی ،انہوں نے کہا کہ اب اس ترمیم کو رول بیک کرنے یا کسی اور ترمیم کے ذریعے اسے چھیڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں تاہم یہ یاد رہے کہ صوبوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی صورت میں اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی،سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر صورت تعمیر کیا جائے گا تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ، پختونوں اور فاٹا کے عوام کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کیا گیا اور مرکزی حکومت شروع دن سے خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا ،نہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد بلوچستان کے پختونوں کو متحد کرنے کیلئے جدوجہد کریں گے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں اور اے این پی بہت پہلے سے ان مطالبات کا ذکر کرتی آئی ہے ، انہوں نے کہا ہ وزیر اعظم اس کا نوٹس لے پی ٹی ایم کے مطالبات تسلیم کریں ،کیونکہ یہی ملک وقوم کے مفاد میں ہے ،انہوں نے تمام تنظیمی عہدیداروں و کارکنوں کا شکریہ ادا کی اور کہا کارکن آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ ھکومت سے متنفر ہو چکے ہیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں سے حساب لیں گے۔

اے این پی تمام مسائل کا حل آئین اور قانون کے مطابق چاہتی ہے ۔اسفندیار ولی خان

 May-2018  Comments Off on اے این پی تمام مسائل کا حل آئین اور قانون کے مطابق چاہتی ہے ۔اسفندیار ولی خان
May 152018
 
اے این پی تمام مسائل کا حل آئین اور قانون کے مطابق چاہتی ہے ۔اسفندیار ولی خان
روز اول سے جمہوریت کی بالادستی ، آئینی و قانونی اور عدم تشدد کی بنیاد پر جدوجہدکی ہے۔
ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام نہیں چل سکتا، جمہوریت ڈی ریل ہوئی تونقصان صرف ملک کو ہو گا۔
پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں، اسلام آباد دھرنے میں حمایت کر کے وزیر اعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا ۔
ملک میں امن و سکون کا ماحول پیدا کرنے کیلئے عملی مؤ ثر اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔
باچا خان بابا سے لے کر آج تک اے این پی نے کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی۔
پارٹی کارکن دیگر مسائل کی بجائے پارٹی کی مزید مضبوطی و فعالیت کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں ۔
 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں اور اے این پی کیلئے یہ مطالبات نئے نہیں بلکہ پارٹی یہ تمام مطالبات اپنے پلیٹ فارم سے کئی دہائیوں سے کرتی آئی ہے البتہ ہم ان تمام مسائل کا حل آئین اور قانون کے مطابق چاہتے ہیں اورانہیں فوری طور پرحل کیا جانا چاہئے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے بذات خود اسلام آباد دھرنے میں شرکت کر کے برملا اعلان کیا تھا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کا فوری طور پر نوٹس لے کر رابطہ کیا جائے اور ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں تاہم آج بھی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ہم روز اول سے جمہوریت کی بالادستی ، آئینی و قانونی اور عدم تشدد کی بنیاد پر اپنی جدوجہدپر یقین رکھتے ہیں اورمستقبل میں بھی اسی بنیاد پر اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں گے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی راہ اختیار نہیں کرنا چاہتی بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں مطالبات کی منظوری اور مسائل کا حل چاہتی ہے ،،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ باچا خان بابا سے لے کر آج تک اے این پی نے کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کی،ا نہوں نے واضح کیا کہ ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ ملک میں امن کی بحالی اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز اپنا اپنا کردار ادا کرکے امن کی فضا کو بحال کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں،انہوں نے کہا کہ جمہوریت واحد نظام ہے جس میں ہم سب کی بقا ہے لہٰذا ملک میں اس نظام کو چلنا چاہئے ، جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو اس کا نقصان صرف ملک کو ہو گا، انہوں نے کہا کہ تشدد دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور عدم تشدد کے ماحول کو پروان چڑھانے کیلئے پر امید ہیں،اے این پی نے ہمیشہ قیام امن کیلئے قربانیاں دیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی جمہوری پارٹی ہے اور اپنے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے امن کی بحالی ،ملکی سلامتی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کا جاری رہنا نیک شگون نہیں لہٰذا حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و سکون کا ماحول پیدا کرنے کیلئے عملی مؤ ثر اور سنجیدہ اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دیں اور ان واقعات کو کنڑول کرنے کیلئے کوششیں کریں،اسفندیار ولی خان نے تمام پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ دیگر مسائل پر متوجہ ہونے کی بجائے پارٹی کے تنظیمی امور اور پارٹی کی مزید مضبوطی و فعالیت کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں ۔

اے این پی نے شاہنواز خانزادہ اور احرار خٹک کی پارٹی رکنیت ختم کر دی

 May-2018, Party News  Comments Off on اے این پی نے شاہنواز خانزادہ اور احرار خٹک کی پارٹی رکنیت ختم کر دی
May 142018
 

اے این پی نے شاہنواز خانزادہ اور احرار خٹک کی پارٹی رکنیت ختم کر دی

پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے اے این پی میں کوئی جگہ نہیں، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں، متوازی پارٹی بنانے، پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان پر نوشہرہ کے احرار خٹک اور صوابی سے تعلق رکھنے والے شاہنواز خانزادہ کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے ، جبکہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے اس کاباقاعدہ نوٹیفیکیشن اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کر دیا ہے ۔
دریں اثنا صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے واضح طور پر کہا ہے کہ متذکرہ بالا دونوں افراد کا اب اے این پی سے کوئی تعلق نہیں ۔ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے اے این پی میں کوئی جگہ نہیں اور پارٹی کے دروازے ان پر بند ہیں، انہوں نے کہا کہ کارکن پارٹی آئین پر من وعن عمل کریں اور الیکشن مہم میں اپنے متعلقہ اضلاع میں نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

انگریز سامراج کے استحصالی نظام سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوا ، میاں افتخار حسین

 May-2018  Comments Off on انگریز سامراج کے استحصالی نظام سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوا ، میاں افتخار حسین
May 142018
 

انگریز سامراج کے استحصالی نظام سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوا ، میاں افتخار حسین
 مزدوروں کے حقوق کے لیے عالمی اور ملکی سطح پرقوانین بنتے ضرور ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔
حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندیوں کی وجہ سے مزدور یونینز غیر فعال ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
صوبے میں ملیں بند اور گدون امازئی کارخانوں کا قبرستان بن چکا ہے ۔
ملک میں کاروبار تقریبا ختم ہو چکا ہے اور سرمایہ کار اپنے کاروبار اور سرمایہ منتقل کر رہے ہیں۔
ہمسایہ ملکوں کی ساتھ تجارت کی بندش کی بڑی وجہ ملک میں مینو فیکچرنگ کی صنعت کی بدحالی ہے۔
پریم یونین سمیت تمام مزدور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے ان کے حقوق کیلئے جنگ لڑیں گے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں سب سے زیادہ حصہ مزدوروں کا ہی ہے ، مزدوروں کے حقوق کے لیے عالمی اور ملکی سطح پرقوانین بنتے ضرور ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس کی وجہ آئے روز مزدور سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں پریم یونین کے تنظیمی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور پریم یونین کے عہدیدار اور تنظیمی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں حکومتوں کی ناقص اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے باعث تمام شوگر ملیں ، کپڑے کی ملیں ، امان گڑھ مل اور اس طرح دیگر ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ گدون امزائی کارخانوں کا قبرستان بن چکا ہے ، انہون نے کہا کہ ملوں اور کارخانوں کی بندش کی وجہ سے مزدور یونینز بھی غیر فعال ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ماضی میں جب یوم مئی پر ریلیاں نکالی جاتیں تو مزدور اپنے حقوق کیلئے لاکھوں کی تعداد میں ان ریلیوں میں شرکت کرتے جبکہ موجودہ دور میں صورتحال اس کے بر عکس ہے اور یہ حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروبار تقریباآ ختم ہو چکا ہے اور سرمایہ کار اپنے کاروبار اور سرمایہ منتقل کر رہے ہیں ، پاکستان کی اکلوتی سٹیل مل اور ریلوے کا محکمہ بد حالی کا شکار ہے جس کے مضر اثرات لیبر یونین پر بھی پڑے، انہوں نے مزید کہا کہ ہمسایہ ملکوں کی ساتھ تجارت بھی اس لئے بند ہے کیونکہ ملک میں مینو فیکچرنگ کی صنعت ختم ہونے کے قریب ہے ،اور یہ صورتحال ملک کی بدحالی کی عکاس ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی اپنے آنے والے دور میں مزدوروں کو ساتھ لے کر چلے گی اور اپنے انتخابی منشور میں بھی مزدور برادری کو اہمیت دے گی،انہوں نے کہا کہ ہم پریم یونین سمیت تمام مزدور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے ان کے حقوق کیلئے جنگ لڑیں گے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ انتخابی منشور تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس میں مزدور یونین کیلئے گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مسائل سے آگاہ کریں اور انہیں اس منشور کا حصہ بنایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ جو قومیں مزدوروں کی قدر نہیں کرتیں وہ ترقی نہیں کر سکتیں ،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کی خدائی خدمت گار تحریک میں اہم عہدے مزدوروں کے پاس تھے کیونکہ وہ محنت اور مشقت پر یقین رکھتے تھے اور ان کی قدر بھی تھی تاہم بدقسمتی سے اانگریز نے ہمارے معاشرے کا اس قدر استحصال کیا کہ اس میں مزدور اور ہنر مند کو ہی حقیر جانا جانے لگا،اور یہی وجہ ہے جس سے معاشرہ تزنزلی کا شکار ہوا ،پریم یونین کے عہدیداروں نے میاں افتخار حسین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اے این پی کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔