ضرورت پڑنے پر سیکورٹی طلب کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہئے

 May-2018  Comments Off on ضرورت پڑنے پر سیکورٹی طلب کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہئے
Jun 012018
 

ضرورت پڑنے پر سیکورٹی طلب کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہئے ، میاں افتخار حسین

الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات بہر صورت اپنی نگرانی میں اور بروقت کرانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

کالعدم تنظیمیں کسی بھی قیمت پر پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں ، خطرناک کھیل روکنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

 الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو پر امن انتخابی ماحول فراہم کرنے کا پابند ہے۔

مختلف حوالوں سے کی جانے والی التوا کی کوششوں سے بروقت انتخابات کے انعقاد پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات بہر صورت اپنی نگرانی میں اور بروقت کرانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور جہاں کہیں بھی سیکورٹی کی ضرورت ہو وہاں سیکورٹی بلانے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہئے ، شفاف اور غیر جاندار انٹخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی سیاسی میدان میں سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں تا کہ اس ملک پر قبضہ کیا جا سکے ، ایسے میں اس خطرناک کھیل کو روکنے کیلئے ٹھوس اور بروقت اقدامات کرنا ہونگے ، اور اے این پی بار ہا اس اہم ایشو پر متنبہ کرتی آ رہی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات پر متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ نام بدل کر سیاسی میدان میں اترنے والی کالعدم تنظیموں کا راستہ روکا جائے گا،تاہم ابھی تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو پر امن انتخابی ماحول فراہم کرنے کا پابند ہے ،انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کا راستہ روکا گیا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس پر اس وقت الیکشن کمیشن کو اگاہ بھی کیا گیا لیکن اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو پر امن انتخابی ماحول فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ،میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات بہرصورت وقت پر ہونے چاہئیں اور مختلف حوالوں سے کی جانے والی التوا کی کوششوں سے بروقت انتخابات کے انعقاد پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق صرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر لاگو ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ اور عملے کے ارکان کیلئے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تاکہ انہیں پابند رکھ کر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخبات ملک کیلئے انتہائی اہم ہیں اور ایسے میں میڈیا کو بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو مناسب کوریج دینی چاہئے۔

کالعدم تنظیموں سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی میدان میں اترنے کی تگ ودو میں ہیں

 May-2018  Comments Off on کالعدم تنظیموں سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی میدان میں اترنے کی تگ ودو میں ہیں
May 312018
 

ANP delegation visits ECP

کالعدم تنظیموں سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی میدان میں اترنے کی تگ ودو میں ہیں،میاں افتخار حسین
* دہشتگرد تنظیموں کی پارلیمنٹ تک رسائی کی کوششیں ملکی سالمیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں کالعدم تنظیموں کا راستہ روکنے کیلئے متفقہ شق موجود ہے ۔
سیاسی جماعتوں کو پر امن انتخابی ماحول کی فراہمی اور متذکرہ بالا تنظیمون کا راسرہ روکنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتظامیہ اور پولنگ عملے پر بھی لاگو ہونا چاہئے ۔
انتخابات بہرصورت وقت مقررہ پر ہونے چاہئیں، سیاسی جماعتوں کے انتخابی اخراجات کی حد غیر واضح ہے۔
 الیکشن کمیشن انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کو سہولیات بہم پہنچائے اور ان کا تحفظ یقینی بنائے۔
 الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں کے پی کے کی بجائے خیبر پختونخوا کا پورا نام لکھنے کا رواج ہونا چاہئے۔
میڈیا انتخابی عمل میں غیر جانبدار رہے ، تمام جماعتوں کو مناسب کوریج دی جائے ، الیکش حکام سے ملاقات کے بعد پریس بریفینگ 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی سیاسی میدان میں سرگرمیاں جاری ہیں اور ان کے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے الیکشن کمیشن کے حکام سے بات چیت اور بعد ازاں پریس بریفنگ کے دوران کیا ، الیکشن کمیشن کے حکام سے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی ملاقات کی ، اے این پی کے وفد کی نمائندگی میاں افتخار حسین نے کی جبکہ دیگر ممبران میں مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور، مرکزی نائب صدر بشری گوہر اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان شامل تھے ، ملاقات میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس حوالے سے کئی تجاویز بھی سامنے آئیں ، ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات پر متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ نام بدل کر سیاسی میدان میں اترنے والی کالعدم تنظیموں کا راستہ روکا جائے گا،تاہم ابھی تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ جن تنظیموں پر پاکستان میں پابندی ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسی تنظیموں کا راستہ روکے، انہوں نے کہا کہ دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ اور یا ان کے ارکان دیگر سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوکر پارلیمنٹ تک پہنچنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں اور یہ عمل پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کیلئے خطرے سے خالی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کا راستہ روکا گیا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس پر ہم نے الیکشن کمیشن کو اگاہ بھی کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا،میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت اور امیدوار کو پرامن انتخابی ماحول فراہم نہیں کرسکتا تو وہ ضابطہ اخلاق بناکر شفاف انتخابات کے انعقاد کا دعوی کیسے کرسکتا ہے؟
میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات بہرصورت وقت پر ہونے چاہئیں اور خیبر پختونخوا کے ساتھیوں کی جانب سے لکھے گئے خطوط، بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور عدالت کی جانب سے بعض حلقہ بندیوں کو رد کرنے سے بروقت انتخابات کے انعقاد پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق صرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر لاگو ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ اور عملے کے ارکان کیلئے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تاکہ انہیں پابند رکھ کر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کسی بھی سیکورٹی ایجنسی سے انتظامات کیلئے مدد مانگتی ہے تو اس کیلئے بھی ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے، پولنگ سٹیشن کے اندر کامل اختیارات ریٹرننگ افیسر اور اس کے ماتخت انتظامی عملے کو ملنے چاہئیں اور اگر عملہ محسوس کرے تو سیکورٹی کو بلایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران الیکشن کمیشن حکام کی توجہ اس جانب بھی دلائی گئی ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کیلئے تو بالترتیب 40 لاکھ اور 20 لاکھ روپے کے اخراجات کی حد رکھی گئی ہے مگر دوسری جانب سیاسی جماعت کی جانب سے کئے جانے والے اخراجات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض پارٹیوں کی جانب سے بسا اوقات چینلوں کی پوری ٹرانسمیشن خرید لی جاتی ہے لیکن اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، اگرچہ میڈیا کو بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور سب سیاسی جماعتوں کو مناسب کوریج ملنی چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرانی ایات اور احادیث مبارکہ کے استعمال کا بھی الیکشن کمیشن نوٹس لے اور انتخابی نشانات جس نام سے دیئے جائیں، ضروری ہے کہ اسی نام کا استعمال کیا جائے اور اپنے مخصوص مقاصد کیلئے ان نشانات کو مخصوص شکل میں پیش کرنا انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی سمجھی جانی چاہیے۔ میاں افتخار حسین نے انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کی مقررہ پانچ فیصد شرح سے سیاسی جماعتوں میں خواتین کو ٹکٹوں کے اجراء سے ان کی شرکت یقینی بنائی گئی ہے جو کہ خوش ائند ہے مگر الیکشن کمیشن اس سلسلے میں خواتین کو سہولیات بہم پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور ان کا تحفظ یقینی بنائے ،تاکہ خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں کے پی کے کے لفظ کے استعمال پر بھی اعتراض اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ صوبے کا پورا آئینی نام خیبر پختونخوالکھنے کو رواج دیا جائے۔

شہدائے آزادی کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم آزاد و خود مختار ملک میں جی رہے ہیں

 May-2018  Comments Off on شہدائے آزادی کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم آزاد و خود مختار ملک میں جی رہے ہیں
May 302018
 

شہدائے آزادی کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم آزاد و خود مختار ملک میں جی رہے ہیں، اسفندیار ولی خان
بدقسمتی سے اس ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے قربانیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے،
پختونوں کے قتل عام کے اندوہناک واقعات تاریخ کا سیاہ ترین باب بن چکے ہیں۔
شہداء کی قربانیوں کو مشعل راہ بنا کر ہم نے عوام کیلئے وہ حقوق حاصل کئے جس کا پہلے صرف تصور کیا جا سکتا تھا۔
شہدائے آزادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئندہ بھی اپنی جانیں نچھاور کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے جنگ آزادی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم آزاد اور خودمختار ملک میں جی رہے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے قربانیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور عوامی نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جنگ آزادی کی جنگ ہو یا ملک کی بقاء اور سلامتی کا تحفظ ہو ، ہمیشہ اے این پی کے ورکروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔شہداء بازار کلاں کی برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ان شہداء کی لازوال قربانیوں کو مشعل راہ بنا کر ہم نے اپنے عوام کیلئے وہ حقوق حاصل کئے جس کا پہلے صرف تصور ہی کیا جا سکتا تھا جن میں صوبے کا تاریخی نام، متفقہ این ایف سی ایوارڈ،پن بجلی منافع اور 18ویں ترمیم کی شکل میں مکمل صوبائی خود مختاری کا حصول شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ بازار کلاں اور قصہ خوانی بازار میں پختونوں کے حقوق کیلئے پرامن مظاہرہ کرنے والے معصوم اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے اندوہناک واقعات تاریخ کا سیاہ ترین باب بن چکے ہیں اور پختونوں کی ہر نسل ہر عہد میں اس کی مذمت کرتی رہے گی،انہوں نے کہا کہ 1930میں آج ہی کے روز بازار کلاں میں خدائی خدمتگاروں کے پر امن احتجاجی جلوس پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑکردی گئی تھی جس کے نتیجے میں سینکڑوں خدائی خدمتگار شہید ہو گئے،انہوں نے کہا کہ ہم شہدائے آزادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم کی بقاء اور سلامتی کیلئے آئندہ بھی اپنی جانیں نچھاور کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا معاملہ چمک کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

 May-2018  Comments Off on نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا معاملہ چمک کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
May 302018
 

نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا معاملہ چمک کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، میاں افتخار حسین
سابق اپوزیشن لیڈر صرف ذاتی مفادات اور پری پول رگنگ کیلئے اپنے امیدوار پر بضد تھے ۔
 پختون روایات میں جرگوں کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
 حکومت کے خاتمے سے صوبے کے عوام کو ایک بڑے عذاب سے نجات ملی ہے۔
دہشت گردی سے کوئی بھی محفوظ نہیں ، چرن جیت کے قاتلوں کو گرفتار کر کے فوری سزا دی جائے۔
 پختونوں کی تاریخ کے اوراق شہداء کے خون سے رنگے ہیں، شہدائے بازار کلاں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
عوام الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، پی کے65علی بیگ میں مختلف حجروں میں جرگوں سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ذاتی مفادات کی خاطر صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کیلئے بولیاں لگائی جا رہی ہیں جو تاریخ کا ایک سیاہ پہلو ہے ،دنیا بھر میں معروف کئی نامور شخصیات کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور قابل اور غیر جانبدار بھی ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ اس معاملے کو چمک کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سابق اپوزیشن لیڈر صرف ذاتی مفادات اور پری پول رگنگ کیلئے اپنے امیدوار پر بضد تھے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے65 علی بیگ میں حجرہ ملک فضل اکبر۔حجرہ جانس خان۔حجرہ فضل داد۔حجرہ محمد ایان سمیت مختلف حجروں کے دورے اور وہاں جرگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر درجنوں افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا،انہوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ رمضان کے بعد جلد باضابطہ شمولیت بڑے جلسہ عام میں کی جائے گی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون روایات میں جرگوں کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،ہماری روایات میں جرگہ کا بہت بڑا مقام ہے اور انہی جرگوں کے ذریعے پختونوں کے تخت و تاراج کے بھی فیصلے ہوئے ، انہوں نے تمام حجروں میں جرگہ قبول کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج کے جرگوں کا انعقاد آئندہ انتخابات میں دشمنوں سے مقابلے میں ہماری فتح کا سبب بنے گا ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے خاتمے سے صوبے کے عوام کو ایک بڑے عذاب سے نجات ملی ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اقربا پروری کی انتہا کئے رکھی اور صوبے کا نظام درہم بر ہم کر کے رکھ دیا ہے تمام ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور جو دو منصوبے شروع کئے گئے وہ بھی مکمل نہ کئے جا سکے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کو بجٹ سے محروم رکھا گیا اور پانچ سال میں لیا جانے والا358ارب روپے کا قرضہ کس کے کھاتے میں گیا کوئی نہیں جانتا ، البتہ اس قرضے کو اتارنے کیلئے آنے والی حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت جانے کے بعد عوام کو ان کی نااہلی کے ثبوت ملتے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ عوام ہوش کے ناخن لیں اور آنے والے الیکشن میں اے این پی کو کامیاب کر کے اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، نامور سکھ رہنما چرن جیت سنگھ کے قتل پر دکھ اور افسوس ککا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پرلوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں انسانیت کی خدمت اور تحفظ کی بنیاد پر کوششیں کی جانی چاہئیں اور چرن جیت کے قاتلوں کو گرفتار کر کے فوری سزا دی جائے ، میاں افتخار حسین نے شہدائے بازار کلاں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پختونوں کی تاریخ کے اوراق شہداء کے خون سے رنگے ہیں اور ہر دن اور ماہ و سال ہم ان شہداء کی قربانیوں کی یاد مناتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں نے جو قربانیاں دیں انہیں کے نتیجے میں باچا خان بابا کا قافلہ آج یہاں تک پہنچا ہم ان اسلاف کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمیشہ اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں گے۔

نگران نامزدگی معاملہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کی ہٹ دھرمی سے ڈیڈلاک کا شکار ہوا

 May-2018  Comments Off on نگران نامزدگی معاملہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کی ہٹ دھرمی سے ڈیڈلاک کا شکار ہوا
May 292018
 

نگران نامزدگی معاملہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کی ہٹ دھرمی سے ڈیڈلاک کا شکار ہوا ،سردار حسین بابک

خیبر پختونخوا سے نگران وزیر اعظم کی نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں قابل اور دیانتدار شخصیات کی کمی نہیں۔

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینا افسوسناک اورنیک شگون نہیں۔

 سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر غیر جانبدار شخصیت کی بجائے من پسند فرد کی تلاش میں ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کو آئینی اختیارصوبے کے مفاد کیلئے حاصل ہے ذاتی مفاد کیلئے نہیں۔

دونوں کو صوبے کے مفاد میں سوچنا چاہئے ، فیصلے میں تاخیر سے سولات جنم لے رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ معاملہ ڈیڈلاک کا شکار ہوا ،اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعظم جسٹس ناصر الملک کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے صوبے میں قابل اور تجربہکار شخصیات کی کمی نہیں تاہم اگر ذاتی مفادات سے قطع نظر معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو جلد از جلد نمٹایا جا سکتا ہے ، لیکن سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر غیر جانبدار شخصیت کی بجائے من پسند فرد کی تلاش میں ہیں دونوں کو صوبے کے مفاد میں سوچنا چاہئے ، فیصلے میں تاخیر سے سولات جنم لے رہے ہیں۔ ، انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر اپنے آئینی اختیارات کا غیر آئینی استعمال کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینا افسوسناک اورنیک شگون نہیں ، سردار بابک نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کیلئے موجودہ وقت لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی چار جماعتیں ایک طرف ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر کی ایک جماعت دوسری جانب کھڑی ہے اور نامزدگی کیلئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں قابل ، دیانتدار، تجربہ کار اور گرانقدر شخصیات کی کمی نہیں لہٰذا غیر جانبدار شخصیت کو نگران نامزد کر کے اس اہم معاملے کو جلد از جلد نمٹا دیا جائے ۔

اسمبلی کی آئینی مدت کی تکمیل جمہوریت کی فتح ہے ، سردار حسین بابک

 May-2018  Comments Off on اسمبلی کی آئینی مدت کی تکمیل جمہوریت کی فتح ہے ، سردار حسین بابک
May 282018
 

اسمبلی کی آئینی مدت کی تکمیل جمہوریت کی فتح ہے ، سردار حسین بابک
اے این پی جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
جمہوریت ہی تمام مشکلات اور مسائل کا حل ہے ۔
اسمبلی میں قلیل تعداد کے باوجود مؤثر انداز میں صوبے کے مسائل کا مقدمہ لڑا ۔
حکومتوں کا دورانیہ پورا کرنا جمہوری اداروں کے استحکام اور مضبوطی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اسمبلی کی مدت معیاد پوری کرنے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صوبہ بھر کے عوام اس موقع پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، اپنے ایک تہنیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہی ہمارے مسائل ومشکلات کا حل موجود ہے ،اے این پی روز اول سے جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ منتخب حکومتوں کا دورانیہ پورا کرنا جمہوری اداروں کے استحکام اور مضبوطی کی جانب اہم پیش رفت ہے، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی تمام حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہئے تا کہ حکومتوں کو ڈیلیور کرنے اور عوام کو فیصلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ،سردار حسین بابک نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی اور بقاء کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے عوام با شعور ہیں اور انہیں 2018کے الیکشن میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود صوبے کے مسائل کی مؤثر انداز میں وکالت کی اور مصلحت کے بغیر صوبے کے حقوق پر پارٹی پالیسی کے مطابق عمل پیرا ہو کر اپنا مؤقف پیش کیا ، انہوں نے تمام ممبران اسمبلی بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے ان کے ساتھ تعاون کیا اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے مؤثر اور مدلل اپوزیشن کا کردار ادا کیا جس کا کریڈٹ پارٹی کے تمام ممبران کو جاتا ہے ،انہوں نے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے صوبے کی مشکلات اور مسائل پر ان کی رہنمائی کی ، انہوں نے کہا کہ پارٹی ممبران اسمبلی کا بھی مشکور ہوں کہ صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کی ذمہ داری سونپی اور اپنی سوچ اور ذہن کے مطابق پانچ سال تک صوبے کا مقدمہ لڑنے کی بھرپور کوشش کی ، سردار بابک نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں اس عہدے پر کئی نامور شخصیات گزریں تاہم میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے اپنے کام کے ساتھ انصاف کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

صوبائی خودمختاری کا حصول شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے، میاں افتخار حسین

 May-2018  Comments Off on صوبائی خودمختاری کا حصول شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے، میاں افتخار حسین
May 282018
 

صوبائی خودمختاری کا حصول شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے، میاں افتخار حسین
دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں باچا خان بابا کے سینکڑوں پیروکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
تاریخ کے اوراق ہر سال ماہ اور ہر دن ہمارے اسلاف کی قربانیوں سے بھرے پڑے ہیں۔
اٹھائیس مئی یوم ٹکر ایک خون آشام دن ہے، ہم نے ہمیشہ اپنے اسلاف کے نقش قدم کو شعار بنایا ۔
* اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کئے بغیر اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں گے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ماحول میں اے این پی نے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا انمٹ باب ہیں اور عدم تشدد کے فلسفے اور اپنے شہداء اور اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ قیام امن کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ، 28مئی 1930یوم شہدائے ٹکر پر اپنے پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی تحریک قربانیوں کی تحریک ہے اور ہر سال ماہ اور ہر دن ہمارے اسلاف کی قربانیوں سے بھرے پڑے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آج جو دہشت گردی کا ماحول ہے اس کے خلاف جدوجہد میں ہمارے 850سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کا خون شامل ہے ، اور امن کی خاطر باچا خان بابا کے پیروکار جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ 28مئی 1930پختونوں کی تاریخ کا ایک اور خوش آشام دن تھا یہ روز سیاہ نہ صرف ٹکر (تحصیل تخت ،ضلع مردان ) کے باشندے بلکہ ان کے خیرخواہ جہاں کہیں بھی ہوں، غم واندوہ کی یادوں کے ساتھ مناتے ہیں اور 28مئی 1930ء کو انگریزوں کے ہاتھوں شہید نہتے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 23اپریل 1930ء کو قصہ خوانی بازار میں ایک خون آشام واقعہ پیش آیاتھا ، جس میں برطانوی محافظ دستوں کے ہاتھوں احتجاجی جلوس میں شامل100افراد جام شہادت نوش کرچکے تھے۔جس کے بعد فرنگی نے ٹکر کے میدان میں ایک بار پھر خدائی خدمت گاروں کے خون کی ہولی کھیلی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے شہدا اور اسلاف کے نقش قدم کو اپنا شعار بنایا اور اس کی روشنی میں صوبائی خود مختاری اور 18ویں ترمیم کے حصول کے بعد آخر کار انگریز کی لکیر سے بھی نجات حاصل کی اور ان تمام کامیابیوں پر شہدائے کی روحوں کو تسکین ملے گی ، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کئے بغیر ان کے بتائے رستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں گے ۔