امریکہ داعش گٹھ جوڑ سے لاشیں گرتی رہیں گی ، کالعدم تنظیمیں پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں

 April-2018  Comments Off on امریکہ داعش گٹھ جوڑ سے لاشیں گرتی رہیں گی ، کالعدم تنظیمیں پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں
Apr 302018
 

امریکہ داعش گٹھ جوڑ سے لاشیں گرتی رہیں گی ، کالعدم تنظیمیں پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں، میاں افتخار حسین
کابل میں ہونے والے دھماکے بدترین کاروائی تھی، شہداکے لواحقین کے غم میں شریک ہیں۔
سرحد کے دونوں جانب پختون چالیس سال تک افغان جنگ کے نام پر مرتے رہے۔
پاکستان اور افغانستان کا امن ایکدوسرے سے مشروط ہے ، دونوں ملک مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
فاٹا کے صوبے میں انضمام کے سوا کوئی چارہ نہیں،سی پیک میں وفاق نے متعصبانہ رویہ اختیار کیا۔
اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے سے خطرناک صورتحال پیدا ہو گی، لنڈی کوتل میں صحافیوں سے بات چیت 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والے دھماکے بدترین کاروائی تھی اور امریکہ کی داعش کو سپورٹ کے باعث لاشیں گرنے کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لنڈی کوتل پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اے این پی خیبر ایجنسی کے صدر شاہ حسین شنواری اور مقامی قائدین اور کارکن بھی موجود تھے، میاں افتخار حسین نے کابل دھماکوں میں صحافیوں کی شہادت پر لنڈی کوتل پریس کلب کی صحافی برادری سے افسوس کرتے ہوئے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان اور داعش کی چپقلش کے باعث امریکہ نے پینترا بلا اور اب وہ داعش کو سپورٹ کر رہا ہے جس کی وجہ سے بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب پختون چالیس سال تک افغان جنگ کے نام پر مرتے رہے اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مزید چالیس سال تک پختونوں کا خون بہتا رہے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایکدوسرے سے مشروط ہے ،لہٰذا دونوں ملک اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دوسری صورت میں چین کو دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے حل کیلئے 20نکاتی متفقہ ایجنڈا موجود ہے جو حکومتوں کی غفلت کے باعث قابل عمل نہ ہو سکا ، حکومتیں کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کررہی ہیں اور یہ جماعتیں خود کو رجسٹرڈ کرا کے پارلیمنٹ تک رسائی چاہتی ہیں،اور یہ ایک ایسی خطرناک صورتحال ہے جس کی روک تھام نہ کی گئی تو بعد میں نمٹنا نا ممکن ہو جائے گاانہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں ،
فاٹا کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا اور کہا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نہ صرف نمائندگی دی جائے بلکہ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی کابینہ میں انہیں حصہ دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ صرف دو افراد فاٹا اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کا حصہ ہونا چاہئے اور صوبے و مرکز کی طرف سے خصوصی پیکج کے ساتھ اسے صوبے میں ضم کیا جائے خواتین کی نمائندگی بھی فاٹا کو ملنی چاہئے ، انہوں نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ایف سی آر کے خاتمے کی جانب یہ اہم قدم ہے ،، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 10جنوری کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد کیبنٹ ڈویژن نے اٹھارویں ترمیم کی واپسی کیلئے تجاویز طلب کیں ، صرف چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی۔سی پیک بارے میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ بارہا ملاقاتوں میں انہوں نے مغربی اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم مرکز ی حکومت نے دھوکہ دیا، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں صوبے کا حق نہ ملا تو یہ پختونوں کا معاشی قتل ہوگا ،انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں چین کی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم سی پیک میں اپنا حق بھی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے تعصبانہ رویے کی وجہ سے صوبے میں سرمایہ کاری کا راستہ بند کیا جا رہا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل شکل میں تعمیر کیا جائے اور قبائل میں ایکسپریس وے تعمیر کر کے تمام قبائلی علاقوں کو اس سے منسلک کیا جائے ۔قبل ازیں میاں افتخار حسین لنڈی کوتل میں دریا خان کے چچا زاد میجر دوست محمد مرحوم کی رہائش گاہ پر گئے اور ان کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔

عوامی نیشنل پارٹی کا 7مئی کو جشن پختونخوا منانے کا اعلان

 April-2018  Comments Off on عوامی نیشنل پارٹی کا 7مئی کو جشن پختونخوا منانے کا اعلان
Apr 302018
 

عوامی نیشنل پارٹی کا 7مئی کو جشن پختونخوا منانے کا اعلان
مرکزی تقریب میں اسفندیار ولی خان خصوصی شرکت کریں گے
تمام اضلاع،فاٹا اور ایف آرز میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
تقریبات میں شعراء اپنے کلام کے ذریعے عظیم کامیابی پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
عہدیدار ،کارکن اور ذیلی تنظیمیں تقریبات میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام جشن پختونخوا کے حوالے سے ایک عظیم الشان مرکزی تقریب کا انعقاد 7مئی بروزپیر باچا خان مرکز میں کیا جا رہا ہے جس سے پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان سمیت پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے ، اسی طرح تمام اضلاع بشمول فاٹا اور ایف آرز میں بھی جشن پختونخوا کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں گی ، ان تقریبات میں شعراء اپنے کلام اور محققین و دانشور اپنے مقالوں کے ذریعے اس عظیم کامیابی پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے، صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے تمام عہدیداروں ، کارکنوں اور تمام ذیلی تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان تقریبات میں خصوصی طور پر شرکت یقینی بنائیں اور اے این پی کے گزشتہ دور حکومت میں حاصل کی گئی تمام کامیابیوں سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے منظم اور مآثر انداز میں اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں ۔

اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی میدان میں نکل آئے

 April-2018  Comments Off on اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی میدان میں نکل آئے
Apr 292018
 

اے این پی دیر بالا

اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی میدان میں نکل آئے،امیر حیدر خان ہوتی

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیر ، ملاکنڈ اور سوات کے عوام نے دی ہیں۔

خیبر پختونخوا کو پنجاب کے برابر لانے والوں نے15سال تک اس صوبے کو یکسر نظر انداز کءئے رکھا ۔

تبدیلی کا پول کھل گیا ہے، خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے۔

سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ممبران نے تین تین بار اپنے ضمیروں کا سودا کیا،زرداری کو بیماری کہنے والے انہی کی گود میں جا بیٹھے۔

حکومت میں آ کر نوجوانوں کو 10لاکھ تک بلاسود قرضے فراہم کریں گے، دیر بالا میں جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی اسلام کے نام پر پھر میدان میں نکلنے والے ہیں،خطرہ اسلام کو نہیں اسلام آباد کو ہے ، پانچ سال تک ایک فریق مرکز میں دوسرا صوبے میں حکومت کے مزے لوٹتا رہا اب آخری ایام میں پھر سے حکومت کیلئے اسلام کا نام لینے والے میدان میں آ گئے ہیں،دیر کے عوام باشعور ہیں اور اب وہ مزید کسی کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپر دیر میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیر ، ملاکنڈ اور سوات کے عوام نے دی ہیں اور جو لوگ آج امن کا دعوی کر رہے ہیں ان میں سے کسی نے بھی سخت حالات میں دیر کا دورہ نہیں صرف اے این پی واحد جماعت تھی جو اس وقت بھی یہاں دہشت گردی کے خلاف ڈٹی رہی،انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دیر کیلئے منصوبوں کا اعلان کیا تاہم موجودہ حکومت نے ان منصوبوں کو روک کر عوام دشمنی کا ثبوت دیا ، امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اگر دیر کے عوام نے اے این پی پر اعتماد کا اظہار کیا تو حقیقی معنوں میں ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے، انہوں نے کہا کہ پنجاب سے لوگ خیبر پختونخوا آ کر ترقی دینے کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ انہی لوگوں نے تین بار وزارت عظمی اور وزارت اعلیٰ کے باوجود ہمارے صوبے کو نظر انداز کئے رکھا ،سی پیک کے نام پر لاہور سے ملتان موٹر وے بنائی گئی لیکن ہمارے صوبے کو جان بوجھ کر اس حوالے سے پیچھے رکھا ، اسی طرح سی پیک میں ملنے والے39ارب ڈالر پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کر دیئے گئے جبکہ ہمارے صوبے میں سستی بجلی پیدا کرنے کے بیشتر مواقع موجود تھے جنہیں تعصب کی بنیاد پر مسترد کیا گیا،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی ،، صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا پول کھل گیا ہے خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ممبران نے تین تین بار اپنے ضمیروں کا سودا کیا اور کپتان نے خود قوم کے سامنے اس کا اعتراف کیا لیکن دولت کی چمک کیلئے جسے بیماری کا نام دیتے رہے اسی زرداری کی گود میں جا بیٹھے ، انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں پر کرپشن کے الزامات لگانے سے پہلے عمران خان اپنی جماعت میں موجود کرپشن ختم کریں ، عوام کے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو پہچانیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں سے ووٹ لے کر صوبے کے تمام وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے لٹائے جا رہے ہیں پختون آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں تو ان کے اور صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی یقینی بنا سکتی ہے ،صوبائی صدر نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اے این پی ترقی کی سفر عوام کے تعاون سے شروع کرے گی اور نوجوانوں کو سود سے پاک دس لاکھ کے قرضے فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم کیلئے مواقع بھی فراہم کریں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے پانچ سالہ دور کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے صوبے میں تمام شعبوں میں انقلابی اقدامات کئے اور تعلیم و صحت کو اولیں ترجیح دی۔

متنازعہ مسائل چھیڑ کر صوبوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

 April-2018  Comments Off on متنازعہ مسائل چھیڑ کر صوبوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
Apr 282018
 

متنازعہ مسائل چھیڑ کر صوبوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،میاں افتخار حسین
کالاباغ ڈیم دفن ہو چکا ہے ، اٹھارویں ترمیم ایک انقلاب ہے جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے ۔
وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کا مؤقف درست لیکن تنخواہوں کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ۔
بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کو سیاسی رشوت کیلئے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔
سی پیک میں مغربی اکنامک کوریڈور کو نظر انداز کر کے صوبے میں سرمایہ کاروں کیلئے راستہ بند کیا جا رہا ہے۔
سی پیک کے 39ارب ڈالر پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کئے گئے ، بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کا مؤقف درست ہے تاہم غیر ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں و پنشنز کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ، ان خیالات کا اظہار انہون نے بٹ خیلہ پرہس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، دیر لوئر کے صدر ھسین شاہ یوسفزئی ،عنایت خان اور ملاکنڈ کے جنرل سیکرٹری اعجاز علی خان بھی ان کے ہمراہ تھے، قبل ازیں میاں افتخار حسین چکدرہ میں ظاہر شاہ اوچ مرحوم کی وفات پر فاتحہ خوانی کیلئے پہنچے، انہوں نے مرحوم ظاہر شاہ کی پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا ظاہر شاہ اوچ جیسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وفات اے این پی کیلئے بڑا نقصان ہے،بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ آخری ماہ میں بجٹ پیش کرنے سے وہ متنازعہ توہو گیا ہے البتہ یہ غریب ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز کے نقطعہ نگاہ سے درست فیصلہ تھا ،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں پر جو پابندی لگائی ہے سیاسی جماعتیں اس کا ادراک کریں اور ان منصوبوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پری پول رگنگ روکنے کے حوالے سے مناسب فیصلہ ہے ،ہمارے دور میں یہ پابندی بہت پہلے لگا دی گئی تھی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومتیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں اور اب یہ فیصلہ عوام کو کرنے کا حق ہے کہ کس نے کتنی کارکردگی دکھائی 
سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں وفد نے چینی سفیر سے ملاقات کی ، اس ملاقات میں چین کے سفیر نے مغربی اکنامک کوریڈور کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مغربی روٹ ضرور تعمیر ہو گا، لیکن حکومت نے اسے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا اور پختونوں کا حق ایک بار پھر غصب کر لیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو مغربی اکنامک کوریڈور میں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے جبکہ انڈسٹریل زون کا کہیں نام و نشان تک نہیں،میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ وفاقٰ حکومت ہوش کے ناخن لے اور مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل روح کے مطابق تعمیر کیا جائے ،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا ، انہوں نے استفسار کیا کہ حکمران 80پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے نہ صرف ہمارے صوبے میں سرمایہ کاروں کا راستہ بند کیا جا رہا ہے بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہوش کے ناخن لے تو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے مسائل کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور جمہوری و پارلیمانی انداز میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھاتی رہے گی،ٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہوا ، انہوں نے کہا کہ جو اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم ہونے پر پریشان ہیں ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ، انتخابات کا مقررہ وقت پر آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کا مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت سے بھی بڑھ کرہے ،ملک کے تمام صوبے اس کی مخالفت کر چکے ہیں اور اسمبلیوں سے اس کی مخالفت میں قرار دادیں پاس کر چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان ببانگ دہل اعلان کر چکے ہیں کہ اگر اس مسئلے کو دوبارہ چھیڑا گیا تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی اور اے این پی کا ہر کارکن میدان میں نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے 
فاٹا اور قبائلی عوام کے مسائل و مشکلات اور پی ٹی ایم کے مطالبات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تمام مطالبات اے این پی کے دیرینہ مطالبات ہیں جو وہ روز اول سے کرتی آئی ہے ہم پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں البتہ طریقہ کار پر اختلاف ہو سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومتی سطح پر پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور مجھے بذات خود اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم جرگہ میں شرکت کیلئے فریقین کو اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان سے رابطہ کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کو کمشنر مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ قبائلی رہنما شاہ جی گل آفریدی اور دیگر ان کی پشت پر ہیں اسی طرح گورنر اور وزیر اعلیٰ بھی پیچھے کھڑے ہیں ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا حق ہے اور جمہوری دور میں اس پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں لیاقت باغ سے لاشیں بھی اٹھائی ہیں لہٰذا جمہوریت میں سب کو اپنے اظہار رائے کا حق ہے ،جب آئینی طریقے سے اٹھائی گئی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی تو لوگ غیر آئینی راستہ اختیار کریں گے۔

مسلم لیگی گورنر اور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے، سردارحسین بابک

 April-2018  Comments Off on مسلم لیگی گورنر اور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے، سردارحسین بابک
Apr 262018
 

مسلم لیگی گورنر اور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے، سردارحسین بابک
 نیب حکومت کے میگا کرپشن کیسز کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔
 امید ہے کہ نیب شفاف اور غیرجانبدارانہ بلاامتیاز احتساب کو عملی بنائیں گے۔
جماعت اسلامی واضح کرے کہ کن وجوہات کی بناء پر حکومت سے علحیدہ ہوئے۔
جماعت اسلامی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی یا حکومتی؟
وزیراعلی وضاحت کریں کہ ان کو 122 ممبران کے ہاوس میں کتنے کی حمایت حاصل ہے؟
دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والے وزیراعلی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔
عوام صوبے کے خزانے کو کنگال کرنے والوں کا کڑا احتساب کرینگے۔
روز روز فیصلے بدلنے والی حکومت بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کے گورنراور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے ورنہ آئینی طور پر موجودہ حالات میں وہ وزیراعلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ دو دفعہ اپوزیشن کے ریکوزیشن کو نظر انداز کرکے گورنر نے حکومت کے کہنے پر اجلاس بلایا۔انہوں نے کہا کہ نیب موجودہ صوبائی حکومت کے میگا کرپشن کیسزکا نوٹس لیں۔ حکومت کے اپنے وزراء اور ممبران کا ایک دوسرے پر سنگین کرپشن کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ نیب کے سامنے وزیراعلی کی پیشیاں شروع ہوگئیں ہیں۔ امید ہے کہ نیب بلاامتیاز احتسابی عمل کو آگے بڑھائیں گے،موجودہ دور حکومت میں میگا کرپشن کی داستانیں روزانہ میڈیا کی سرخیاں بنتی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ قوم کو بتائیں کہ اسمبلی کے ایک 122 ممبران میں ان کو کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے؟ دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے کیوں کترارہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے قائدین وضاحت کریں کہ انہوں نے کونسی وجوہات کی بنیاد پر حکومت کے اخری ایام میں حکومت کو خیرباد کہا؟ جماعت اسلامی کو اپوزیشن میں خوش آمدید کہیں گے لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ وہ اب بھی اپوزیشن کا حصہ ہونگے کہ حکومت کا؟ 
ایم ایم اے کی ایک جماعت پی ٹی آئی کی انتہائی مخالف اور دوسری حمایتی ہے، عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں مذہب کو ذاتی، سیاسی اور حکومتی مقاصد کیلئے استعمال کرنا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان میں کھلم کھلا بغاوت تبدیلی کے ثمرات ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں بری طرح اپنی اکثریت کھونے والے کس طرح آئیندہ حکومت بنانے کے دعوے کررہے ہیں۔ صوبے کے عوام صوبے کے خزانے کو کنگال کرنے والوں کا کڑا احتساب کرینگے۔ حکومت کے پاس رواں منصوبوں کیلئے بھی رقم موجود نہیں ہے یہ کیسی منصوبہ بندی تھی، کیا ٹیم تھی، کونسی وژن تھی، عوام نے سب کچھ اپنی انکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ صوبے میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اغوا برائے تاوان میں اضافہ خطرناک صورت اختیار کیا ہوا ہے۔ حکومت واضح کرے کہ ان کے آنیوالے بجٹ میں عوام کیلئے کونسی اچھی خبر ہے؟ روز بروز فیصلہ بدلنے والی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ 

خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا

 April-2018  Comments Off on خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا
Apr 252018
 

خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا، ایمل ولی خان
پختون سرزمین اور دنیا کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے،
ماضی میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز ایک 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئے جو مصلحت کی نذر ہو گئی۔
اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے 18ویں ترمیم حاصل کی۔
جو بات آج نواز شریف کر رہے ہیں وہ اے این پی روز اول سے کرتی آئی ہے، باچا خان کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے افغانستان کی حیثیت تسلیم کر کے اس کے ساتھ امن اور محبت کا رشتہ قائم کرنا ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں دوسری باچا خان امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ پختون سرزمین اور دنیا کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے جب تک پختونخوا اور فاٹا میں امن قائم نہیں ہوگا دنیا میں امن نہیں آ سکتا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں سمیت ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئے لیکن بد قسمتی سے وہ نیشنل ایکشن پلان مرکزی و صوبائی حکومتوں کی مصلحت کی نذر ہو گیا اگر ’’نیپ‘‘ پر من وعن عمل کیا جاتا تو حالات یکسر مختلف ہوتے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوبے کے حقوق کے تحفظ کیلئے 18ویں ترمیم حاصل کی اور صوبے کو شناخت دی لیکن آج اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی اے این پی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پختونوں کی یکجہتی یقینی بنانے کیلئے فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں فوری طور پر ضم کیا جائے۔باچا خان کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم کو حقیقی سیاست باچا خان بابا نے دی اور ان کے نظریات کی روشنی میں ہی نوجوان نسل کو اپنی منزل مل سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں باچا خان بابا کے نظریات کے تحت امن چاہتے ہیں،ووٹ کو عزت دو کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس بارے انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے پہلے خدائی خدمت گاروں کی حکومت قائم ہوئی جو عوام کے ووٹوں کے مرہون منت تھی جو بات آج نواز شریف کر رہے ہیں وہ اے این پی روز اول سے کرتی آئی ہے ،انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں تو کامیابی ان کا مقدر ہو گی۔

پارٹی کی عزت و وقار برقرار رکھنے کیلئے سینیٹ الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کیا، اسفندیار ولی خان

 April-2018  Comments Off on پارٹی کی عزت و وقار برقرار رکھنے کیلئے سینیٹ الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کیا، اسفندیار ولی خان
Apr 252018
 

پارٹی کی عزت و وقار برقرار رکھنے کیلئے سینیٹ الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کیا، اسفندیار ولی خان
خیبر پختونخوا مالی و انتظامی طور پر مفلوج ہو چکا ہے،تعلیم اور صحت کے شعبے وینٹی لیٹر پر ہیں۔
حکومت جاتے ہوئے عوام کو قرضوں کا بھاری بوجھ حوالہ کر کے جا رہی ہے۔
بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے، ولی باغ میں سعودی عرب کے تنظیمی وفد سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے ،پارٹی کی عزت و وقار برقرار رکھنے کیلئے سینیٹ الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں اے این پی سعودی عرب کے تنظیمی عہدیداروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،جس نے اسفندیار ولی خان کی خصوصی دعوت پر اے این پی سعودی عرب کے مرکزی صدر گل زمین خان کی قیادت میں ولی باغ کا دورہ کیا ، اسفندیار ولی خان نے وفد کا پر تپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ، اپنی بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اے این پی نے صوبے میں پانچ سال حکومت کی اور اپنے دور حکومت میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر اہم شعبوں میں انقلابی اصلاحات کیں ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اگر صوبے کی حالت زار دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خیبر پختونخوا مالی و انتظامی طور پر مفلوج ہو چکا ہے،تعلیم اور صحت کے شعبے وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ دیگر محکمے بھی زبوں حالی کا شکار ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ خزانے خالی ہو چکا ہے اور حکومت جاتے ہوئے عوام کو قرضوں کا بھاری بوجھ حوالہ کر کے جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک مسلسل کرپشن کے خاتمے کی دعوے کئے گئے جبکہ حقیقت میں سب سے زیادہ کرپشن اس حکومت نے کی اور آج نیب نے مختلف سکینڈلز میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے کسی ایم این اے ، ایم پی اے اور وزیر کے خلاف نیب کا کوئی کیس نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس وراثت کے علاوہ میرے خاندان کے کسی فرد کی کوئی جائیداد یا اثاثے ثابت ہو جائیں تو پھانسی پر چڑھنے کو تیار ہوں،انہوں نے واضح کیا کہ سینیٹ الیکشن میں اے این پی نے اپنا امیدوار پارٹی کی ساکھ ،عزت و وقار بر قرار رکھنے کیلئے کھڑا کیا ،تمام دیگر جماعتوں کے ممبران نے سینیٹ الیکشن میں اپنے ضمیروں کا سودا کیا ،انہوں نے کہا کہ عوام آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا قیمتی ووٹ اے این پی کے حق میں استعمال کریں۔