پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلے ختم کئے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے

 March-2018  Comments Off on پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلے ختم کئے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے
Mar 312018
 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلے ختم کئے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے مل بیٹھ کا کوششیں کرنی چاہئیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں پارٹی کے سینئر رہنما مرحوم ارباب مجیب الرحمان کے چہلم کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،پختونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق سینیٹر رضا محمد رضا اور اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان نے بھی تقریب سے خطاب کیا ،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا ، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور مستقبل میں مسائل کے حل کیلئے کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ دونوں ملک فاصلے ختم کرنے کیلئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں اور مشترکہ طور پر بد امنی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کام کریں ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ مزید لیت و لعل کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا حکومت اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے اور فاٹا میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ قبائلی عوام کو درپیش مسائل کا نوٹس لے کر انہیں حل کیا جائے اور ان کے حقوق سے متعلق تمام جائز مطالبات کا نوٹس لیا جائے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو روایت سے ہٹ کر زیادہ حصہ ملا اور اس کے نتیجے میں وفاق کا حصہ کم ہو گیا ، یہی وجہ ہے کہ آج چند عناصر اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ صوبوں کو ملنے والے حقوق ان سے چھینے جا سکیں، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم واپس لینے کیلئے آئین میں ترمیم کے بغیر ممکن ہی نہیں اور ہم ایسے کسی اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے، انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اتحاد چھوٹے صوبوں کے حقوق کی بنیاد پر کریں گے اور بھرپور کوشش کریں گے کہ مالی وسائل چھوٹے صوبوں کے پاس ہونے چاہئیں، امیر حیدر خان ہوتی نے آئی ڈی پیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی نے ملاکنڈ اور سوات کے25لاکھ آئی ڈی پیز کو مختصر ترین وقت میں باعزت طریقے سے گھروں کو بھیجا لیکن بدقسمتی سے آج آئی ڈی پیز طویل عرصہ سے بے یارومددگار کیمپوں میں پڑے ہیں ،انہوں نے کہا کہ دوبارہ حکومت میں آکر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائیں گے کیونکہ جہالت کے اندھیرے تعلیم کے بغیر چھٹ نہیں سکتے۔

بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی،راؤانوار کے سپورٹر ز پر ہاتھ ڈالا جائے

 March-2018  Comments Off on بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی،راؤانوار کے سپورٹر ز پر ہاتھ ڈالا جائے
Mar 312018
 

بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی،راؤانوار کے سپورٹر ز پر ہاتھ ڈالا جائے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آنے والی نسلون کی بقاء اور پر امن مستقبل کیلئے حکمت کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہونگے ،پختونوں کا خون بہت بہ چکا ہے ، افغانستان میں حقیقی انقلاب لانے والوں کو پھانسی دے دی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں مرحوم ارباب مجیب الرحمان کے چہلم کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے مرحوم ارباب مجیب الرحمان کی سیاسی زندگی اور ان کی گرانقدر خدمات پر مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ 1967سے مرحوم کے ساتھ قریبی تعلق رہا اور کئی اہم موضوعات پر انہوں نے رہنمائی کی ، انہوں نے کہا کہ مرھوم ایک وطن دوست انسان تھے اور ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نور محمد ترکئی ، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب جیسے رہنماؤں کو راستے سے ہتا یا گیا، اور بعد ازاں مہاجر کی صورت میں پاکستان وآ نے والوں کو پہلے مجاہد اور پھر طالب بنا دیا گیا، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا پرامن حل نکالا جائے اور اس مقصد کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت رائیگاں نہیں جائیگی،انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کی شہادت کے بعد کراچی گیا اور وہاں بھی یہی بات کی کہ ہم پختونوں کے خون کا حساب لیں گے ،انہوں نے کہا کہ راؤ انوار صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس سازش کے پیچھے بڑی قوتیں کار فرما ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ پر گرفتاری کے بعد فرار ،عدالت کو خطوظ اور پھر پروٹوکول کے ساتھ پیشی سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ راؤ انوار کے سر پر کسی اور کا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ سرکاری پالیسی نہیں ہو سکتی لہٰذا راؤ انوار اور اس کے پیچھے چھپی قوتوں کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے،آئی ڈی پیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاکھوں آئی ڈی پیز بے گھر کیمپوں میں پرے ہیں لیکن ان کی واپسی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ، 200سے زائد ہم نے راشد شہید فاؤنڈیشن میں داخل کئے اور انہیں جدید تعلیم سے روشناس کرانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے بارودی سرنگوں کا صفایا کیا جائے اور تباہ ہونے والے گھر اور سکول دوبارہ تعمیر کر کے ان کی باعزت واپسی یقنی بنائی جائے، اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 10جنوری کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد کیبنٹ ڈویژن نے اٹھارویں ترمیم کی واپسی کیلئے تجاویز طلب کیں ، صرف چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اے این پی اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالے گی اور اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی، انہوں نے کہا کہ صوبوں کو مزید حقوق دینے کی بجائے ان سے حق چھیننے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں جس طرح ضمیر فروشی کی گئی اس سے بڑھ کر کوئی کرپشن نہیں ہو سکتی ، انہوں نے کہا کہ ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے اور ایوان کا وقار بھال کرنے کیلئے انہیں سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد واتفاق کا متقاضی ہے اور تمام مشکلات اور مسائل سے نجات پانے کیلئے اندرونی طور پر ایک دوسرے کی تانگیں کھینچنے کی بجائے اتفاق سے سنجیدہ کوششین کرنا ہونگی۔

صوبوں کو کمزور کرنے کی کوشش ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی ، میاں افتخار حسین

 March-2018  Comments Off on صوبوں کو کمزور کرنے کی کوشش ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی ، میاں افتخار حسین
Mar 302018
 

صوبوں کو کمزور کرنے کی کوشش ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈت کر مقابلہ کریں گے ، وزیر اعظم صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اھتیاط سے کام لیں اور کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے اٹھارویں ترمیم رول بیک کی کوشش کا فیصلہ واپس لیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو سی بالو علی بیگ کلے نوشہرہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن انتہائی منظم تنظیم ہے اور اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور یوتھ لیگ قائم کی اور این وائی او پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور سیاسی ونظریاتی تجربہ حاصل کر کے بہترین کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جن میں سے کل کے رہنما اور سیاسی قائدین نکلیں گے،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ،انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہے لہٰذا دوسروں کو قائل کرنے کیلئے دلیل اور علم کے ذریعے بات کریں، 
میاں افتخار حسین نے کہا کہ کیبنٹ ڈویژن کے جلاس میں تجاویز طلب کی گئیں اور صوبوں کو ملنے والے محکمے اب واپس لینے پر غور کیا جا رہا ہے یہ اے این پی کی فتح تھی اور اب اسے کسی صورت سبوتاژ کرنے نہیں دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ملک ایسے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وزیر اعظم یہ بات جان لیں کہ صوبوں کو مضبوط کرنے سے ہی وفاق مضبوط ہو سکتا ہے،لہٰذ ہمیں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں میٹرو کی مخالفت اور اسے جنگلہ بس کہنے والوں کو اپنی کمیشن کیلئے بی آر ٹی کا خیال آ گیا ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بد انتظامی کے بعد شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں تعلیمی شعبہ میں جو اصلاحات کیں وہ صوبے کی تاریخ کا حصہ ہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے باوجود خزانہ بھرا ہوا چھوڑا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے صرف ساڑھے چار سال میں خزانہ لوٹ کر صوبے کو 300ارب روپے سے زائد کا مقروض کر دیا ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں نے صوبے کے قیمتی وسائل اور ذرائع آمدن کو بے دردی سے لوٹا اور آنے والی حکومت کو قرضے اتارنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ بی آرٹی میں جس مقدار میں سریا اور سٹیل استعمال کی جا رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے مسافر بسوں کیلئے شیر شاہ سوری کے زمانے سے قائم سڑک موزون ترین ہے پھر میٹرو میں کیا ایسا خاص ہے جس کیلئے بے پناہ سریا استعمال کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر بیرونی اداروں سے معاہدہ ہے تو گویا زیادہ کمیشن کیلئے اتنا لوہا ڈالا گیا ، انہوں نے کہا کہ سریے کی کوالٹی کے حوالے سے ایک الگ سکینڈل بھی آنے والا ہے، انہوں نے کہا کہ کرپشن خاتمے کے دعوے کرنے والوں کے16ممبران سینیٹ میں بک گئے ،اور زرداری کو ڈاکو کہنے والے نے اپنے ممبران اس کی جھولی میں ڈال دیئے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمیر فروشی سے بڑھ کر کوئی کرپشن نہیں ہو سکتی ، سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ ایوان کا وقار مستقبل میں مجروح نہ ہو سکے،،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں کو تباہ کر دیا ہے ۔

صوبے کا نام تبدیل کرنے کی کوشش سے ملک میں انتشار پھیل جائے گا، اسفندیار ولی خان

 March-2018  Comments Off on صوبے کا نام تبدیل کرنے کی کوشش سے ملک میں انتشار پھیل جائے گا، اسفندیار ولی خان
Mar 302018
 

صوبے کا نام تبدیل کرنے کی کوشش سے ملک میں انتشار پھیل جائے گا، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے اور اگر صوبے کا نام پھر سے تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی تو اس سے انتشار پھیلے گا،اٹھارویں ترمیم میں ردو بدل کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی مذمت نہیں بلکہ بھرپور مزاحمت کرے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتمانزئی چارسدہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ جب اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی اس وقت کسی سیاسی جماعت نے مخالفت نہیں کی نجانے اب کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے اور اب اسے رول بیک کرنے والوں کے گریبان پر ہمارا ہاتھ ہوگا،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند عناصر کے علاوہ تمام لوگ فاٹا کے صوبے میں انضمام پر متفق ہیں آج نہیں تو کل یہ فیصلہ تو کرنا ہی پڑے گا لہٰذا فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے ، فاٹا کے عوام کو عدالتوں تک رسائی دی جائے اور قبائلی علاقوں میں تباہ ہونے والے تمام گھر ،سکول اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کی جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کے تمام مسائل کا حل خیبر پختو نخوا میں انضمام سے وابستہ ہے، فاٹا انضمام کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،انہوں نے کہا کہ آپریشن سے بے گھر ہونے والے قبائلیوں کی جلد از جلد باعزت واپسی یقینی اور نقصانات کا مناسب ازالہ کیا جائے، قبائلیوں میں بے چینی شدید تر ہوتی جارہی ہے جسے ختم کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خا ن بابا کے افکار کی روشنی میں پختونوں اور تمام مظلوم قومیتوں کی بقاء کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پہلے تو صرف گھوڑے فروخت ہوتے تھے لیکن اب کی بار پورے اصطبل فروخت ہوئے اور پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے اپنا ضمیر کا سودا کیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ نواز شریف اور زرداری کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے رہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ سینیٹ الیکشن میں انہوں نے کس سے ہاتھ ملایا اور اپنے ارکان کس کی جھولی میں ڈال دیئے ۔انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کو ایک کریڈٹ ضرور دوں گا کہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے لیے پی ٹی آئی سے ووٹ لیکر عمران خان کو بے نقاب کیا۔کرپشن کا خاتمے کے دعوے کرنے والوں کو کرپشن کے خلاف کاروائی اپنے ارکان سے شروع کرنی چاہئے، متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچ برسوں تک مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق کو اسلام کی کوئی فکر نہیں تھی، پانچ برس سے سراج الحق عمران خان کے اور مولانا فضل الرحمٰن نواز شریف کے اتحادی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کو برا بھلا کہتے رہے اورسراج الحق نواز شریف پر کرپشن کے الزمات لگاتے رہے اقتدار کے خاتمے کے ایام قریب آتے ہی دونوں کواسلام یاد آگیا۔ ایم ایم اے کی بحالی اسلام کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد کے لیے ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کو ایک بار پھر ورغلانے کیلئے ایم ایم اے بحالی کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پشاور شہر کی حالت تباہ حال ہے چار سال تک میٹو کو پنجاب میں جنگلہ بس کہنے والوں کو آخری 6ماہ میں جنگلہ میں کیا خوبیاں نظر آئیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب کمیشن اور کرپشن کا منصوبہ ہے اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھاری کمیشن وصول کر کے اسے آئندہ الیکشن میں استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے ،انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ أئندہ الیکشن میں دھوکہ دینے والوں کا ووٹ کے ذریعے احتساب کریں۔

(بجلی منصوبوں کیلئے سی پیک کے) 39ارب ڈالر پنجاب کی نذر کر کے پختونوں کو کیا پیغام دیا گیا، سردار حسین بابک

 March-2018  Comments Off on (بجلی منصوبوں کیلئے سی پیک کے) 39ارب ڈالر پنجاب کی نذر کر کے پختونوں کو کیا پیغام دیا گیا، سردار حسین بابک
Mar 302018
 

(بجلی منصوبوں کیلئے سی پیک کے) 39ارب ڈالر پنجاب کی نذر کر کے پختونوں کو کیا پیغام دیا گیا، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا کر عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرحد چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں33ہزار میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں اور اگر ان مواقع سے استفادہ کیا جائے تو اپنی ضرورت کے علاوہ بجلی برآمد بھی کی جاسکتی ہے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر کے پختونوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے ، سردار حسین بابک نے استفسار کیا کہ حکمران 80پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے نہ صرف ہمارے صوبے میں سرمایہ کاروں کا راستہ بند کیا جا رہا ہے بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہوش کے ناخن لے تو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ صوبے کے اپنے سرمایہ کار اور تاجر اپنا سرمایہ پہلے ہی باہر منتقل کر چکے ہیں جس کے انتہائی منفی اور برے اثرات صوبے کی معیشت پر پڑے ، انہوں نے کہا کہ دوسری جانب صوبائی حکومت کی بد انتظامی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے خیبر پختونخوا مسائل کی دلدل میں دھنس چکا ہے اور اسے اس دلدل سے نکالنے کیلئے آنے والی حکومت کو سخت آزمائس سے گزرنا پڑے گا،سردار بابک نے کہا کہ اے این پی صوبے کے حقوق ،اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے اور اپنے وسائل پر اختیار کیلئے اپنی آئینی جدوجہد جاری رکھے گی، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے ہمارے وسائل اور ذرائع کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا اور ہمیں محروم رکھنے کی پالیسی پختونوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے،انہوں نے پختونوں پر زور دیا کہ آئندہ عام انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کو سپورٹ کریں ،انہوں نے حالیہ دنوں میں لوڈ شیڈنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کے آتے ہی لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کا عذاب عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کے بہترین مفاد میں حکمرانوں کو امتیازی رویہ ترک کر کے صوبے اور فاٹا کے پانی کو استعمال میں لا کر ملک کو سنگین بحران سے بچانا چاہئے اور پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے 70سال نوازنے کی پالیسی چھوڑ کر ملک کیلئے سوچنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ برابری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کو یقینی بنا کر احساس محرومی اور احساس کمتری کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے،سردار حسین بابک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں سرمایہ کاری اور سرمایہ داری کے مواقع پیدا کئے جائیں تو بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے لاکھوں پختونوں کو اپنے صوبے میں خوشحال زندگی بسر کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں ہمارے صوبے میں تیل ، گیس،معدنیات،جنگلات،سیاحت اور زراعت سمیت تمام شعبوں کو تقویت ملے گی اور خوشحالی و ترقی کا نیا دور شروع ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہونگے۔

 

صوبائی حکومت بجلی پیداوار کے منصوبے نجی سیکٹر کو دے کر صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کر رہی ہے

 March-2018  Comments Off on صوبائی حکومت بجلی پیداوار کے منصوبے نجی سیکٹر کو دے کر صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کر رہی ہے
Mar 282018
 

صوبائی حکومت بجلی پیداوار کے منصوبے نجی سیکٹر کو دے کر صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کر رہی ہے، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے حکمران خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر کے کوئلے سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے لاتعداد منصوبے موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومت پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کر کے قومی خزانے اور بیرونی امداد ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے صوبے میں 80پیسے فی یونٹ کے حساب سے پیدا ہونے والی بجلی یہاں کے غریب عوام پر 19روپے فی یونٹ فروخت کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ کم وولٹیج اور ناروا لوڈ شیڈنگ کے باعث صوبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے جبکہ تمام قدرتی وسائل ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کے امتیازی سلوک سے احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ بجلی ،گیس تیل ،معدنیات اور جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کی جانب کوئی توجہ نہیں جا رہی جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ دوسری جانب تبدیلی سرکار کی حکومت غیر ضروری منصوبوں کیلئے اربوں روپے کا قرض لے کر قوم کو تاحیات قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کی مہم پر عمل پیرا ہے، انہوں نے کہا کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو نجی سیکٹر کے حوالے کر کے صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کیا جا رہا ہے اور حکومت صوبے کے مستقل ذرائع آمدن اپنے چہیتوں میں بانٹنے میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دونوں لیڈر نواز شریف اور عمران خان پنجاب کا ووٹ بنک بڑھانے کی خاطر ہمارے صوبے کے وسائل کو پنجاب کی ترقی پر صرف کرنے کے ایک ہی نکتے پر متفق ہیں، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں پرانی اور بوسیدہ ٹرانسمیشن لائینیں تبدیل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے پاس رقم نہیں تاہم پنجاب کے کونے کونے میں بوسیدہ لائیں بحال کر کے کم وولٹج اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے پر تمام توانائیاں صرف کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں بجلی منصوبوں کیلئے اربوں ڈالرز پنجاب میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر صرف کئے جارہے ہیں اور خیبر پختونخوا کو بجلی پیداوار سے ہونے والی آمدن سے محروم کیا جا رہا ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت انصاف سے کام لے تو خیبر پختونخوا میں سستی بجلی پیدا کر کے عوام کو کم قیمت پر بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔

ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے

 March-2018  Comments Off on ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے
Mar 282018
 

ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے صوبوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دولت کی چمک سے وجود میں آنے والے سینیٹرز قابل اعتماد نہیں جو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ایوان میں پہنچے وہ اپنی دولت کا تحفظ کرے گا نہ کہ صوبوں کے حقوق کا، ان خیالات کا اظہار انہوں نیخان شیر گڑھی پبی میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایوان کا وقار بری طرح مجروح ہوا ،پی ٹی آئی کے 17سے زائد ممبران بک گئے اور وہ بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ، انہوں نے کہا کہ عبیداللہ مایار کے بیان کے بعد صورتحال واضح ہو چکی ہے لہٰذا جس نے ووٹ بیچا اور جس نے خریدا دونوں کو سزا ہونی چاہئے ، رشوت لینے اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہارس ٹریڈنگ کی بجائے پورے اصطبل ہی بک گئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اے این پی انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی عظیم فتح ہے اور ہم اپنی اس کامیابی کو کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے ، انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی میدان میں ہو گی،انہوں نے صوبے میں احتساب کمیشن کا ذکر کیا اور کہا کہ جو ادارہ احتساب کیلئے بنایا گیا سب سے پہلے اس کا احتساب کیا جائے کیونکہ وزیر اعلیٰ نے اس احتساب کمیشن میں سیاسی رشوت کی غرض سے غیر قانونی طور پر بھرتیاں کیں جو صرف الیکشن تک ہی پائیدار ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان ، پرویز خٹک اور پی ٹی آئی احتساب میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب ان کا اپنا احتساب شروع ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پر ہاتھ ڈالا جائے تو سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا،انہوں نے کہا کہ پشاور کو تباہ برباد کر دیا گیا اور چار سال تک پنجاب میں میٹرو کو گالیاں دینے والوں کو آخری ایام میں بی آر ٹی کی یاد ستانے لگی ، انہوں نے کہا کہ عوام با شعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ بی آرٹی صرف وزیر اعلیٰ کی کرپشن اور کمیشن کا ذریعہ ہے اس لئے جلد بازی میں بغیر پی سی ون اور منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا جبکہ اب تک چار بار ڈیزائن تبدیل ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کا پیسہ لوٹ کر قوم کو دوبارہ ورغلانے کی کوشش کی جائے گی،بی آرٹی میگا پراجیکٹ نہیں بلکہ میگا کرپشن اینڈ کمیشن پراجیکٹ ہے اور جلد قوم کے سامنے یہ میگا سکینڈل آ جائے گا،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پہلی بار کسی بڑے منصوبے کیلئے ٹینڈر نہیں کیا جاتا اور وزیر اعلیٰ کی خواہش پر تمام ٹھیکے بغیر ٹینڈر کے جاری کئے جا رہے ہیں ، ان میں سے دو بڑی کمپنیوں کے ٹھیکیدار خود پرویز خٹک ہیں ، انہوں نے کہا کہ احتساب سب سے پہلے وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء کا ہونا چاہئے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے،نئی حلقہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پورے صوبے کا نقشہ تک تبدیل کر دیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے ، انہوں نے کہا کہ جس الیکشن کمیشن کو یہ نہیں پتہ کہ صوبے کا دالخلافہ کہاں ہے وہ حلقہ بندیاں کیسے کر سکتا ہے ، انہوں نے استفسار کیا کہ مردم شماری کا سرکاری اعلان تاحال نہیں کیا گیا این ایف سی ایوارڈ نہیں ہوا تو مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کیسے کی جاسکتی ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جلد بازی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی اور ہے جو بہت جلد ی میں ہے،انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے پشاور کی بطور دالالخلافہ تاریخی حیثیت اور عزت کا پاس رکھتے ہوئے این اے ون اور پی کے ون بحال کرے ۔