لندن میں شہید ہونے والے سید عظیم خان کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے

 Feb-2018  Comments Off on لندن میں شہید ہونے والے سید عظیم خان کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے
Feb 212018
 

لندن میں شہید ہونے والے سید عظیم خان کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ لندن میں قتل ہونے والے اے این پی کے سرگرم کارکن سید عظیم خان کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات کئے جائیں، باجوڑ میں سید عظیم خان شہید کی نماز جنازہ کے بعد فاتحہ خوانی اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پختونوں کو دنیا بھر میں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے ، انہوں نے کہا کہ شہید سید عظیم ایک مخلص انسان تھے اور پاکستان میں ہونے والے مظالم کے خلاف لندن میں آواز بلند کرتے رہے جبکہ انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والا خود آج ظلم کا شکار ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے ،اور اے این پی ان مظالم اور تشدد کے خلاف خاموش نہیں رہے گی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سید عظیم کی موت بلا شبہ ان کے اہل خانہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اے این پی اور خود مجھے اس سانحہ کا دلی طور پر دکھ ہے انہوں نے شہید کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور شہید کے بلندی درجات کیلئے دعا کی ، بعد ازاں میاں افتخار حسین باجوڑ میں ہی کراچی میں شہید کئے جانے والے احمد شاہ کے اہل خانہ سے تعزیت کیلئے ان کی رہائش گاہ پہنچے اور شہید کی مغفرت کیلئے دعا کی ، احمد شاہ کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ احمد شاہ کا قتل نقیب اللہ محسود کے بعد اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں پختونوں کو ٹارگٹ کر کے مارا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس سازش کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے اور نقیب اللہ کے ساتھ ساتھ احمد شاہ کے خون کا بھی حساب لے گی۔

شانگلہ میں قومی وطن پارٹی کا صفایا ، تمام تنظیمیں اے این پی میں شامل

 Feb-2018  Comments Off on شانگلہ میں قومی وطن پارٹی کا صفایا ، تمام تنظیمیں اے این پی میں شامل
Feb 202018
 

امیرحیدرخان ہوتی کی پریس کانفرنس

شانگلہ میں قومی وطن پارٹی کا صفایا ، تمام تنظیمیں اے این پی میں شامل

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ پشاور کے شہریوں کی ضرورت کے برعکس شروع کیا گیا اور جلد بازی میں شروع کئے گئے منصوبے کیلءئے کسی قسم کی پلاننگ نہیں کی گئی ، 350ڈیم صوبے میں کہاں بنائے گئے ہیں کسی کو کچھ نہیں پتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اییک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر قومی وطن پارٹی شانگلہ کی پوری تنظیم بشمول تمام یوسیز ، ویلج کونسل اور ضلع کی سطح پر تمام تنظیموں نے متوکل خان کی قیادت میں اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ، اے این پی شانگلہ کی ضلعی تنظیم حاجی سید فرین خان کی سربراہی میں تقریب میں موجود تھی، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی،ملالہ یوسفزئی کے ماموں بھی اے این پی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں شامل تھے، متوکل خان نے اے این پی کی مرکزی و صوبائی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور باضابطہ طور پراپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ،امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی ہونے والی گرینڈ شمولیت سے شانگلہ کی سیاست مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور اس فیصلے کے آئندہ الیکشن پر انتہائی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہونگے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل 100دن انتہائی اہم ہیں اور ان اہم دنوں میں مزید خوشخبریاں بھی عوام کو دیں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے عوام کی رائے کے احترام میں 70فیصد ٹکٹوں کی تقسیم مکمل کر لی ہے اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد مارچ اور اپریل تک باقی 30فیصد امیدوار بھی فائنل کر لئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ تقسیم ہونے پر جو تماشہ لگے گا وہ پوری قوم دیکھے گی،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کے خاتمے کی خواہش رکھنے والوں کا 5ماہ بعد اپنا ہی صفایا ہونے جا رہا ہے، انہوں نے رابطہ عوام مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مارچ اور اپریل کے دوران ، بنوں ، سوات، نوشہرہ ، کرک ، بٹگرام، کوہاٹ،دیر اپر و لوئر، باجوڑ ، صوابی بونیر اور شانگلہ کے دورے کئے جائیں گے جبکہ دوسرا مرحلہ رمضان المبارک کے بعد شروع کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں کچھ ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو موجودہ حکومت چھپاتی رہی ہے البتہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آنے والی حکومت کو ایک تباہ حال صوبہ ملے گا جسے سدھارنے کیلئے دو سے تین سال کا عرصہ لگے گا ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کرپشن اور ناقص منصوبہ بندیوں کی وجہ سے 5سال میں اربوں روپے کے قرضے لے لئے گئے ہیں جبکہ70سے100ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر اے ڈی پی کی بک دیکھی جائے تو اس میں بیشتر سکیمیں ہی جعلی ہیں ، دوسروں پر الزامات لگانے والے بتائیں کہ100ارب روپے کا خسارہ کیسے ہوا،انہوں نے کہا کہ اگر یہ کرپشن سے پاک حکومت ہوتی تو ڈی جی احتساب کمیشن کیوں گھیر جاتے اور احتساب کمیشن کو تالے کیوں لگتے ، ، مالم جبہ سکینڈل اور بلیں ٹری سونامی میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی غیر ضروری منصوبہ ہے اور اس سے پشاور میں ٹریفک کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے، صوبائی صدر نے کہا کہ حقائق عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں اور ملکی اداروں سے درخواست ہے وہ اس کا نوٹس لیں، انہوں نے کہا کہ حکمران جن بجلی منصوبوں کا کریڈٹ لے رہے ہیں درحقیقت وہ اے این پی دور میں بنائے گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اے این پی آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے صوبے میں حکومت بنائے گی اور عوام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

Watch Video of the press conference

 

فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ،کسی صورت قابل قبول نہیں، اسفندیار ولی خان

 Feb-2018  Comments Off on فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ،کسی صورت قابل قبول نہیں، اسفندیار ولی خان
Feb 202018
 

قبائلی خواتین کی اسفندیارولی خان سے ملاقات

فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ،کسی صورت قابل قبول نہیں، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ میں ملاقات کیلئے آنے والی خواتین کی تنظیم ’’ خور آرگنائزیشن‘‘ کی بانی شاہدہ شاہ اور قبائلی خواتین نیٹ ورک ’[ قبائلی خور‘‘ کی صدر کی قیادت میں آنے والی قبائلی خواتین کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی نائب صدر عمران آفریدی، جمیلہ گیلانی اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک اور اے این پی مہمند کے صدر نثار خان مہمند بھی ملاقات میں موجود تھیں ، وفد نے اسفندیار ولی خان کو قبائلی خواتین کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور کہا کہ تمام قبائلی عوام بشمول خواتین فاٹا کا صوبے میں فوری انضمام کے حق میں ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی ابتداء سے ہی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہے اور ہمیشہ خواتین کو احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق بحیثیت انسان مردوں کے برابر ہیں اسی لئے اے این پی میں خواتین کا کوئی الگ ونگ نہیں بلکہ برانچ سے لے کے مرکزی تک خواتین کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ ملکی سیاست میں خواتین کا کردار مسلمہ ہے ،اور اے این پی ہمیشہ سے خواتین اور مردوں کی برابری پر یقین رکھتی ہے جبکہ خواتین کوعملی سیاست میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرنے کا سہرا فخر افغان باچاخانؒ کے سر ہے جنہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے خواتین کو میدان عمل میں نکلنے کی تعلیم دی، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جو اہم کارنامے انجام دیئے ہیں اُن سے خواتین کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی ملی ،اسفندیار ولی خان نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اے این پی ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے اور ان کے جائز حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے انتخابی منشور میں بھی خواتین کے حقوق کا تحفظ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فی الفور ضم کر کے ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے جبکہ انسانی حقوق کے منافی رواج ایکٹ کو ختم کیا جائے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا فاٹا کا دائرہ اختیار دینے کے اعلان کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم قبائل کے صوبے میں انضمام خصوصی پیکج کے ساتھ چاہتے ہیں اور اس میں سب کے ساتھ خواتین کو بھی جائز حقوق دیئے جانے چاہئیں۔

مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دینے کیلئے تحریک کی ضرورت ہے،میاں افتخار حسین

 Feb-2018  Comments Off on مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دینے کیلئے تحریک کی ضرورت ہے،میاں افتخار حسین
Feb 202018
 

مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دینے کیلئے تحریک کی ضرورت ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مادری زبان تہذیب و تمدن اورکلچر و ثقافت کا خزانہ ہے۔ اور مادری زبان کی بدولت ہی انسان کا اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ مادری زبانوں سے متعلق ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے تمام قدیم اور جدید دور کے ماہرین تعلیم ، دانشور ، فلاسفر اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ دُنیا بھر میں ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی اور سائنسی استعدادکا راز اسی حقیقت میں مضمر ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کے دن کے طور پر منانا ایک اچھی روایت ہے تاہم اب اس سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے اور اسے ایک تحریک کی شکل دینا ضروری ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک پشتو زبان کا تعلق ہے دُنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پختونوں اور پاکستان میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی درجنوں نشریاتی اداروں سے اس زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اُنہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر دور حکومت میں اس ہزاروں سال پرانی زبان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ البتہ اسی کی دہائی میں اُس وقت کی صوبائی حکومت نے پشتو کو پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم قرار دیااور اُن علاقوں میں جہاں پشتو مادری زبان تھی ابتدائی جماعتوں کیلئے پشتو میں نصاب تیار کیا لیکن ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل سکول منتظمین نے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ مادری زبانوں کی ترویج کیلئے ایک تحریک بنائی جائے اور اقوام متحدہ کے ذیلی امدادی ادارے مثلاً یونیسکو ، یونیسف وغیرہ متعلقہ حکومتوں کو مجبور کریں کہ مادری زبانوں کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جائے۔ اُنہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس تحریک کی سرگرمیاں تعلیمی اداروں تک پھیلائی جائیں اور ٹی وی و اخبارات کے اشتہارات میں مادری زبانوں کا مناسب کوٹہ دیا جائے۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر بنگالیوں کو ان کے حقوق دیئے جاتے تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتاکیونکہ بنگالیوں کی تحریک بنیادی طور پر بنگالی زبان کے ساتھ کی گئی زیادتی کا نتیجہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اپنے رویئے تبدیل نہیں کئے اور آج بھی پشتواور دیگر زبانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں پشتو اور دیگر زبانوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے مگر موجودہ حکمرانوں نے ایک سازش کے تحت ہمارے اقدامات کو سبوتاژ کیا اور پشتون دشمن رویہ اپنایا ، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم مادری زبان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور ہم اس حق کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے ،۔

صادق اور امین قرار دینے والوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی، حاجی غلام احمد بلور

 Feb-2018  Comments Off on صادق اور امین قرار دینے والوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی، حاجی غلام احمد بلور
Feb 192018
 

صادق اور امین قرار دینے والوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی، حاجی غلام احمد بلور

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے بڑا سیاسی دھماکہ کیا ہے تاہم انہیں صادق اور امین قرار دینے والوں کو اب اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی، عمران خان کی تیسری شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر نے یہ کام نہیں کیا ، اپنی خوشی کیلئے دوسروں کا گھر برباد کرنا قابل مذمت اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ پختون روایات کے برعکس ایک ایسا کام کیا گیا جس کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ ہی انسانیت ،اور اس کا انجام بھی بہت بھیانک ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنی خوشی کیلئے کسی اور کی زندگی تباہ اور گھر برباد کر کے انصاف کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ، تیسری شادی سے پیری مریدی کے رشتے کونہ صرف دھچکا لگا ہے بلکہ لوگوں کے اذہان پر برے نقوش پڑیں گے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ نکاح تو بلا شبہ ہو چکا ہے البتہ اب علماء کرام اس حوالے سے طبع آزمائی کریں اور کھوج لگائیں کہ کیا سنت نبوی بھی پوری ہوئی یا نہیں؟، انہوں نے کہا کہ ایسا شخص کسی صورت صادق اور امین کہلانے کے لائق نہیں جو اپنے مقاصد اور خوشی کیلئے دوسروں کا گھر برباد کرے اور اس کی خوشیاں چھین لے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کپتان کی تیسری زوجہ کے بچے اور سابق شوہر کسی سے آنکھ نہیں ملا سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صادق اور امین کا لقب دینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

صوبے میں پی ٹی آئی کاحکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے

 Feb-2018  Comments Off on صوبے میں پی ٹی آئی کاحکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے
Feb 182018
 

صوبے میں پی ٹی آئی کاحکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا صوبے میں حکومت ہونے کے باجود عوام کا اے این پی میں شامل ہو نا ان کا اپنے علاقے اور پختونوں کے ساتھ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے، چینی سفیر نے امن کے قیام کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، صوبائی حکومت اپنی کمیشن اور کرپشن کے لیے آر بی ٹی بنا رہی ہیں، جس کا چار دفعہ نقشہ تبدیل کرنا پڑا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوران روپوشی راو انوار کومارا جائے لہٰذا اس کی گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے ،سینیٹ الیکشن میںپیسوں پر لوگوں کے ایمانوں اور ضمیروں کا سودہ کرنے والوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں،عمران خان اے این پی پر دہشت گردی کا الزام لگا رہے ہیں تو کیاآرمی پبلک سکول اور باچا خان یونیورسٹی کا حملہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا ہے؟ نواز شریف تےن دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12 یونین کونسل اکبرپورہ میں شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں افتخار حسین نے شمولیت اختیار کرنے والوں اور پارٹی میں لوگوں کو شامل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کوششوں میں اکبرپورہ کے پارٹی کارکنان نے کلیدی کردار آدا کیا۔ میں ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان سے اسی طرح پارٹی اور پختون قوم کی فلاح کے لیے دل و جان سے محنت کرنے کی توقع رکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو پتہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کا ہے لیکن پھر بھی اے این پی میں شامل ہو رہے ہیں اور یہی لوگ نظریاتی، مخلص، اپنے علاقے اور پختونوں کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں، یہی ان کے اخلاص اور محبت کی دلیل ہے اور جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں تو اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مفادات اور اپنے مقاصد کے پیچھے بھاگنے والے لوگ ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر کے دعوت پر ان کے ساتھ ملاقات کیااور انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کے ساتھ ملاقات پر خوشی کا اظہار کیاا ور امن کے قیام کیلئے اے این پی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، چینی سفیر نے امن کے قیام کے لیے اے این پی کی کاوشوں کو سراہا اور اسے اعتدال پسند جماعت قرار دیا جبکہ پارٹی کے ساتھ مراسم بڑھانے کی بھی خواہش ظاہر کی ، انہوں نے کہا کہ چینی سفیریاﺅ جینگ نے واضح کیا کہ خطے میں امن کے قیام کی اشد ضرورت ہے اور اس میںاے این پی کا کردار کلیدی ہے جبکہ افغانستان میں بھی اے این پی کو تاریخی اعتبار سے احترام دیا جاتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چینی سفیر نے اسفندیار ولی خان کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے مرکزی صدر نے قبول کر لیا ،جبکہ انہوں نے یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اسفندیار ولی خان نے انہیں دعوت دی اور کہا کہ باچاخان مرکز یا ولی باغ جہاں بھی آپ آنا چاہتے ہو ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے اور یہ ہمارے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہوگی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسفندیار ولی خان نے چینی سفیر سے کہا کہ ہم چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم مغربی اکنامک کوریڈور میں اپنا حق بھی چاہتے ہیں کیونکہ چینی سرمایہ کاری کی افادیت مغربی اکنامک کوریڈور کے بغیر کچھ نہیں،ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ سی پیک مکمل ہو البتہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونخوا اور قبائل کو ان کا حق ملنا چاہئے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ چین کے صوبہ سیکیانگ میں بھی غربت، پسماندگی، بے روزگاری اور بدامنی ہے، وہاں دہشتگردی اور بدامنی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وہ ان کی بے روزگاری اور غربت ختم کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردی پر قابو پاسکیں۔ جس کے لیے وہ مغربی اکنامک کوریڈوربنا رہے ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے چینی سفیر سے کہا کہ سینکیانک میں جو طریقہ اپنایا گیا وہ پختون علاقوں میں بھی کرے تاکہ یہاں بھی دہشت گردی اور بدامنی کو قابوں کیا جاسکے۔ جس پر چینی سفیر نے کہا کہ ہم ایسا ہی کریں گے اور مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کو ان کا حق دیںگے۔انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چار سال تک میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والے اب خود جنگلہ بس بنا رہے ہیں، صوبائی حکومت اپنی کمیشن اور کرپشن کے لیے آر بی ٹی بنا رہی ہیں، جس کے لیے انہوں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے، ان کے پاس نہ وقت ہے، نہ نقشہ اور نہ پی سی ون بنایاتھا، صوبائی حکومت نے بغیر کسی تیاری کے آر بی ٹی شروع کیا جس کی وجہ سے اس کا چار دفعہ نقشہ تبدیل کرنا پڑا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ منصوبہ مقررہ وقت پر پورا نہیں کر سکتی اور یہی منصوبہ اے این پی مکمل کرے گا اور اس میں جتنا کرپشن ہوا ہے اس کا حساب بھی ان سے لے گا۔میاں افتخار حسین نے کہاکہ ڈی آئی خان ، کوہاٹ، خوشمقام ، اور مرادن میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات قابل مذمت ہیں تاہم اس حوالے سے حکومتی غیر سنجیدگی بھی قابل افسوس ہے ، انہوں نے کہا کہ جو حکومت تحفظ فراہم نہ کر سکے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ، انہوں نے کہا کہ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی بیٹیاں بھی ہماری اپنی بیٹیاں ہیں اور زیادتی جہاں بھی ہو گی اے این پی اس کا راستہ روکے گی۔ نقیب اللہ شہید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں پختونوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ راو انوار کو اس کے نیٹ ورک سمیت گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جا سکے، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دوران روپوشی راو انوار مارا بھی جا سکتا ہے تاکہ راز پر سے کبھی پردہ نہ اٹھ سکے لہٰذا اس کی گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے ۔سینیٹ الیکشن کے حوالے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے ایسے لوگوں نے بھی کاغذات جمع کرائی ہیں جن کا ایک ووٹ بھی نہیں، اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ پیسوں پر لوگوں کے ایمانوں اور ضمیروں کا سودہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ووٹ کی خرید و فروخت کرنے والے عوام کے دشمن ہیں، اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہیں اور ہر قیمت پر اسے روکنا چاہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان اے این پی پر دہشت گردی کا الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں دہشت گردی تھی اور اب نہیں تو انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ پی ٹی آئی ہی کی حکومت میں بھی تو آرمی پبلک سکول کا واقعہ پیش آیاجس میں سینکڑوں بچے شہید ہوئے، جبکہ کئی بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ ہوئی تو کیا پھر یہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا ہے؟باچا خان یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا تو ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ یہ عمران خان نے کیا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ دہشت گردی کے اس جنگ میں انہوں نے اپنا بیٹا بھی کھو دیا ہے جبکہ دو وزیراور ایک ایم پی بھی شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص سے ہم کس طرح حکومت کی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی سیاست ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے نئی نسل کی تباہی اور دہشت گردی کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف تےن دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کیا جس کی وجہ سے اب فیصلے پارلیمنٹ کی جگہ عدالتوں میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ آج پارلیمنٹ کی عزت کیوںختم ہو رہی ہے کیونکہ تمام سیاستدان اپنے مفادات اورکرسی کے لیے حدود کراس کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں نے جو طریقہ اپنایا ہوا ہے یہ غلط ہے، ایک دوسرے کی بے عزتی اور اےک دوسرے کے پیچھے باتیں کرنا یہ غیر سیاسی ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے مضبوط قانون سازی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور انشاءاللہ عوام کے خواہشات کے مطابق ترقیاتی کاموں کے جال بچھائیں گے، کیونکہ ہم باچا خان کے سپاہی ہیں اور خدمت ہمارے خون میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018میں عوام کی خدمت کا عزم لے کر آئیں گے۔

اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے وفد کی چینی سفیر سے ملاقات

 Feb-2018  Comments Off on اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے وفد کی چینی سفیر سے ملاقات
Feb 152018
 

اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے وفد کی چینی سفیر سے ملاقات

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی کے وفد نے اسلام آباد میں چین کے سفیر یاؤجینگ کی خصوصی دعوت پر چینی سفاتخانے میں ان سے ملاقات کی ہے، وفد میں مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین سیکرٹری اطلاعات زاہد خان اور سینیٹر شاہی سید بھی شامل تھے ، ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس کے بعد مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران چین نے امن کے قیام کیلئے اے این پی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ چینی سفیر نے اے این پی کی کاوشوں کو سراہا اور اسے اعتدال پسند جماعت قرار دیا جبکہ پارٹی کے ساتھ مراسم بڑھانے کی بھی خواہش ظاہر کی ، انہوں نے کہا کہ چینی سفیر نے اسفندیار ولی خان کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی جسے مرکزی صدر نے قبول کر لیا ، یاؤ جینگ نے واضح کیا کہ خطے میں امن کے قیام کی اشد ضرورت ہے اور اس میں اے این پی کا کردار کلیدی ہے جبکہ افغانستان میں بھی اے این پی کو تاریخی اعتبار سے احترام دیا جاتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسفندیار ولی خان نے اس موقع پر کہا کہ ہم ہمیشہ امن کے قیام کیلئے کوششیں کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں تاہم مغربی اکنامک کوریڈور کیں اپنا حق بھی چاہتے ہیں کیونکہ چینی سرمایہ کاری کی افادیت مغربی اکنامک کوریڈور کے بغیر کچھ نہیں،ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ سی پیک مکمل ہو البتہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختواں وا اور قبائل کو ان کا حق ملنا چاہئے، انہوں نے کہا کہہماری خواہش ہے کہخطے میں امن قائم ہو اور پاکستان اور افغانستان نازک دور سے نکل جائیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ امن کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے سب سے پہلے مغربی اکنامک کوریڈور کے منصوبے پر ہمارے تحفظات ہیں جو دور نہیں کئے جا رہے ، اور اسی وجہ سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے اور احساس محرومی بڑھنے سے امن کے قیام میں رکاوٹ پیش آئے گی، انہوں نے کہا کہ جس طرح سنکیانگ میں امن اور ترقی کیلئے سی پیک کی ضرورت ہے اسی طرح پختونخوا اور قبائل بیلٹ سمیت بلوچستان کی پختون بیلٹ کیلئے بھی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ وہاں روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم ہو سکیں ،چینی سفیر نے اسفندیار ولی خان کو یقین دہانی کرائی کہ مغربی اکنامک کوریڈور بھی سی پیک کا حصہ ہے اور تمام غلط فہمیاں دور کر کے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس حوالے سے ہونے والی ملاقات انتہائی مثبت رہی اور ملاقات میں رابطوں اور مراسم کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ، اسفندیار ولی خان نے ملاقات میں یہ بھی واضح کیا کہ صرف پختون بیلٹ نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں اور ایجنسیوں کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ایکسپریس وے کی ضرورت ہے اور اس ایکسپریس وے کو بھی مغربی اکنامک کوریڈور سے ملایا جائے تاکہ قبائل تک ترقی کے ثمرات پہنچ سکیں اوراسی صورت میں امن کے قیام میں بھی مدد ملے گی،انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے خطے ، ملک اور اقوام کیلئے امن کی خاطر چین کا ہمیشہ ساتھ دیتے رہیں گے، جبکہ چین سمیت دیگر ممالک سے بھی توقع ہے کہ وہ پر امن مستقبل کیلئے ہمارا ساتھ دیں گے۔