صوبے میں بدامنی اور بد حالی کی سیاہ رات ڈھلنے والی ہے، امیر حیدر خان ہوتی

 Jan-2018  Comments Off on صوبے میں بدامنی اور بد حالی کی سیاہ رات ڈھلنے والی ہے، امیر حیدر خان ہوتی
Jan 312018
 

صوبے میں بدامنی اور بد حالی کی سیاہ رات ڈھلنے والی ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدرامیر حیدر خان ہوتی نے مارچ کے پہلے ہفتے سے تمام اضلاع اور قبائلی علاقوں میں بڑے جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو پارٹی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں بد امنی اور بدحالی کی سیاہ رات ڈھلنے والی ہے ، آئندہ الیکشن کیلئے صوبہ بھر میں عوام کو مزید متحرک اور رابطہ عوام مہم میں تیزی لانے کیلئے تمام ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے دوران کیا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں سرکردہ سیاسی شخصیات اے این پی میں شمولیت اختیار کریں گی ، انہوں نے خصوصی طور پر شعراء کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پختون شعرا پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں اور وہ اپنے وطن دوست اور پختون دوست شعاری مجموعات کے ذریعے باچا خان بابا کا پیغام عام کرنے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کریں،انہوں نے کہا کہ 2018اے این پی کی کامیابی کا سال ہو گا ،پختون اب باچاخانی چاہتے ہیں گذشتہ ساڑھے چار سال میں تبدیلی والوں نے مسائل کے حل کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ صوبے کو مالی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے ، بد انتظامی اور بد امنی اپنے عروج پر ہے ، انہوں نے کہاکہ عمران خان پنجاب کو خوش کرنے کے لئے پنجاب میں کھڑے ہوکر پنجابی کے حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ خیبرپختون خوا کے مینڈیٹ کا کوئی خیال نہیں رکھاجارہا، امیرحیدرخان نے کہاکہ حقیقی تبدیلی اے این پی لے کر آئے گی اور عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کیلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی تمام کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،انہوں نے کہا کہ عوام مایوس نہ ہوں صوبے کے وسائل اپنے چہیتوں میں تقسیم کرنے والوں کا کڑا احتساب کریں گے ،امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ صوبے کی آمدن کے مستقل اور بڑے ذخائر اقربا پروری کی نذر ہو گئے ہیں جبکہ اسمبلی میں عددی اکثریت کی بنیاد پر اپنوں کو نوازنے کیلئے قانون سازی کر کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے، حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور تاج و کاروباری طبقہ صوبے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیا،انہوں نے کہا کہ پختون عوام نام نہاد تبدیلی والوں کی اصلیت جان چکے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے دور میں دس یونیورسٹیاں بنائیں جبکہ ہمارے دورحکومت میں خزانہ بھراتھا آج صوبہ مالی ،انتظامی اور سیاسی لحاظ سے دیوالیہ ہوچکاہے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پختون قوم کے ساتھ جتنے بھی وعدے کئے گئے تھے چار سال گزرنے کے باوجود کوئی بھی وعدہ پورانہیں کیاگیا اوراب پختون قوم باچاخانی چاہتی ہے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ 2018کے انتخابات میں کامیابی اے این پی کی ہوگی۔صوبائی صدر نے تمام عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ رابطہ عوام مہم میں تیزی لائیں اور عوام کو مزید متحرک کرنے کیلئے پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔

اے این پی نے قادر خان بیٹنی کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا

 Jan-2018  Comments Off on اے این پی نے قادر خان بیٹنی کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا
Jan 312018
 

اے این پی نے قادر خان بیٹنی کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ٹانک سے پارٹی کے رہنما اور سابق ایم پی اے قادر خان بیٹنی کو صوبائی کونسل کا ممبر نامزد کر دیا ہے جبکہ پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن اے این پی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز سے جاری کر دیا ہے۔

میاں افتخارحسین کی کراچی آمد، شہید نقیب اللہ کے اظہار یکجہتی کمیپ میں شرکت، فاتحہ خوانی

 Jan-2018  Comments Off on میاں افتخارحسین کی کراچی آمد، شہید نقیب اللہ کے اظہار یکجہتی کمیپ میں شرکت، فاتحہ خوانی
Jan 302018
 

کراچی ۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے سہراب گوٹھ میں شہید نقیب اللہ محسود کے اظہار یکجہتی کیمپ میں شرکت کی ، شہید کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ، اس موقع پر صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید ،جنرل سیکریٹری یونس خان بونیری سمیت دیگر قائدین اور کارکنان کی بہت بڑی تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی ،اس موقع پر میاں افتخا ر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،نقیب اللہ محسود کو جھوٹے الزامات لگاکر شہید کیا گیا ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمیں کیوں ماراجارہا ہے ،مظلوم قبائل نے ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا،افسوس کہ دہشت گرد بھی ہمیں مار رہے ہیں اور وردی والے بھی ہمیں ماررہے ہیں،ہمیں سینے سے لگایا جائے ،پختونوں نے ملک کی آزادی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں آج حکومتوں کے مزے لینے والے ہمیں دعائیں دیں،ہمارے بچوں ،جوانوں ، بزرگوں اور خواتین نے ملک کے لیے لازوال قربانیاں دیں راؤ انوار کے پیچھے کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ مضبوط لوگوں کی بڑی تعداد ہے ،ہم راؤ انوار کو گرفتار کرکے اس کے سینے میں چھپے ایک ایک راز سے قوم کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،محافظ کی وردی میں قوم کے بچوں کو مارنے والا کسی صورت قابل معافی نہیں ہے،تحقیقات کی جائیں کہ اسلام آباد ائیر پورٹ سے راؤ انوار کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ،راؤ انوار اور اس کے تمام ساتھیوں کو عبرت ناک سزا دی جائے ،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والے ہر آواز پاکستانی کے شکر گزار ہیں،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والے ہر پنجابی، سندھی،بلوچ ،سرائیکی،اردو بولنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز نہ اٹھانے والا بے غیرت ہے ،ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کٹ مررہے ہیں،ہم امن و محبت کا پرچار کرنے والے لوگ ہیں،ہم جھکنے یا بکنے والے نہیں آخری دم تک آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے ، ہم پورے مجمع کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،محٖافظ کے لباس میں قوم کے بچوں کو مارنا کسی ریاست کی پالیسی نہیں ہوسکتی ،نقیب اللہ محسود کے والدین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ تنہاء نہیں بلکہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں، ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں،کراچی۔اگر نقیب اللہ کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتی تو مرکزی و صوباء حکومتیں مستعفی ہو جائیں،عوام کی عزت و آبرو کی حفاظت نا کرنے والوں کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں،انہوں نے مذید کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت کی بدولت ظالم بے نقاب ہوا،قبائلیوں نے اپنے گھر بار چھوڑ ریاستی اداروں کو امن قائم کرنے کا موقع فراہم کیا،راؤ کی کیا مجال کے ہمیں نشانہ بنائے سرپرستوں کو پکڑا جائے،بتایا جائے نقیب اللہ محسود کا قاتل اب تک کیوں آزاد ہے،اگر راؤ انور کو چھپ کر ٹھکانہ لگایا گیا تو ہم اس کو راؤ کا ساتھی سمجھیں گے اصل دہشت گردوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور بے گناہ پختونوں کو دہشت گرد قرار دیکر مارا جاتا ہے،ہم پختون ہیں مر سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے نقیب اللہ محسود قوم کا ہیرو ہے اس کے ساتھ کیا سلوک گیا ہم شہیدوں کے ٹکڑے جمع کرنے والے لوگ ہیں،بد قسمتی سے سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں اور بدنام بھی ہمیں کیا گیا،ہم حسینیت کے علمبردار ہیں کٹ سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے، ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے،راؤ انوار کا سرپرست کوئی بھی ہو مگر ہمیں نقیب اللہ محسود کے خون کا حساب چاہئے،نقیب اللہ محسود محبت کی علامت اور راؤ انور نفرت کی علامت بن کا ہے،نقیب اللہ محسود کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،ہم سب کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا،نقیب اللہ محسود کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی یقین دلاتے ہیں،کیپمپ میں موجود تمام لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں،مرکزی صدر اسفندیار ولی خان علالت کی وجہ سے کیمپ میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں

بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات ، اے این پی نے اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی

 Jan-2018  Comments Off on بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات ، اے این پی نے اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی
Jan 302018
 

بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات ، اے این پی نے اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات اور ان کی ہلاکتوں کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی ہے ، تحریک التوا ء پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے آج اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے طول وعرض میں آئے روز بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات اور ان کی ہلاکت جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ان واقعات میں غیرت کے نام پر قتل اور طالبات کی بے دردی سے ہلاکت لمحہ فکریہ ہیں جبکہ تمام واقعات میں قاتلوں کا فرار ہو جانا اور گرفتار نہ ہونا اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک ہے ، تحریک میں مزید کہا گیا کہ صوبے میں فرانزک لیبارٹری کا نہ ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے ،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے میں ان دردناک اور افسوسناک واقعات کا روزانہ کی بنیاد پر پیش آنا خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے جس سے حکومت کی غیر ذمہ داری اور بے حسی عیاں ہوتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے ڈی آئی خان کا واقعہ ، مردان اور نوشہرہ کے واقعات اور اب کوہاٹ میں طالبہ کا بے دردی سے قتل اور قاتل کا فرار کیا پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا عکاس نہیں ہے،؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی خود تعریفی مہم بند کرے ،اور مسئلے کی نوعیت کی سنگینی کا احساس کرے۔

امیر حیدر خان ہوتی کا کوہاٹ میں قتل ہونے والی طالبہ کے والد کو ٹیلی فون

 Jan-2018  Comments Off on امیر حیدر خان ہوتی کا کوہاٹ میں قتل ہونے والی طالبہ کے والد کو ٹیلی فون
Jan 302018
 

امیر حیدر خان ہوتی کا کوہاٹ میں قتل ہونے والی طالبہ کے والد کو ٹیلی فون

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کوہاٹ میں قتل کی جانے والی میڈیکل کی طالبہ عاصہ رانی کے والد غلام دستگیر خان کو ٹیلی فون کر کے ان سے بچی کے قتل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مقتولہ اور اس کے خاندان کو انصاف ملنے تک ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو پہلے ہی دہشت گردوں اور ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا تھا اور اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکن ملوث ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت کے دور میں بچیوں کی عصمت اور زندگیاں محفوظ نہیں ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان ، مردان اور خوشمقام نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعات کے ملزمان کوبھی گرفتارکیاجائے ،اے این پی اس حوالے سے پرامن احتجاج جاری رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور بے حس حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران ملزموں کو پکڑنے کی بجائے انہیں تحفظ دے رہے ہیں،مقتولہ کے والد نے امیر حیدر خان ہوتی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مجرموں کو کڑی سزا دینے کی ضرورت ہے۔

محافظ قاتل بن چکے ہیں ،معصوم بچیوں کی عزت و حرمت داؤ پر لگی ہے۔ بشری گوہر

 Jan-2018  Comments Off on محافظ قاتل بن چکے ہیں ،معصوم بچیوں کی عزت و حرمت داؤ پر لگی ہے۔ بشری گوہر
Jan 302018
 

محافظ قاتل بن چکے ہیں ،معصوم بچیوں کی عزت و حرمت داؤ پر لگی ہے۔ بشری گوہر

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی نائب صدر بشری گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں عوام کی جان و مال کا کوئی تحفظ نہیں ،محافظ قاتل بن چکے ہیں اور معصوم بچیوں کی عزت و حرمت داؤ پر لگی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں درندگی کا نشانہ بننے والی کمسن آسما کے اہل خانہ سے ملاقات اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، پارٹی کی خواتین رہنما جمیلہ گیلانی اور شگفتہ ملک بھی ان کے ہمراہ تھیں، انہوں نے کہا کہ سانحے کو کئی دن گزرنے کے باوجود ملزم گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ حکومت اس واقعے پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے ڈی آئی خان ، مردان اور نوشہرہ میں بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا لیکن کسی بھی واقعے کے ملزم گرفتار نہیں ہوئے جس سے دکھائی دیتا ہے کہ حکمران قاتلوں کو تحفظ دے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد اسفندیار ولی خان نے حکومت کو سات روز کی ڈٰڈ لائن دی ہے اور اگر اس عرصہ کے دوران اآسماء کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو اے این پی سڑکوں پر ہوگی،۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور قاتلوں کی گرفتاری میں اپنی ذمہ داری پوری کرے

پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کا مستقبل پارلیمنٹ میں دکھائی نہیں دے رہا ، امیر حیدر خان ہوتی

 Jan-2018  Comments Off on پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کا مستقبل پارلیمنٹ میں دکھائی نہیں دے رہا ، امیر حیدر خان ہوتی
Jan 292018
 

پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کا مستقبل پارلیمنٹ میں دکھائی نہیں دے رہا ، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والے آئندہ الیکشن میں بھی عوام کے ہاتھوں رسوا ہوں گے اور کپتان کا وزیر اعظم بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی جگناتھ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی صوابی کے صدر و ضلع ناظم امیر الرحمن خان اور جنرل سیکرٹری محمد اسلام خان سمیت دیگر مقامی قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں صوابی میں بے شمار ترقیاتی کام کئے تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج صوابی کو بنی گالہ اور میانوالی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے جو یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے ، انہوں نے کہا کہ 20سال قبل پی ٹی آئی سے وفا کرنے والے آج کہاں کھڑے ہیں ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ پی ٹی آئی پر جاگیرداروں اور لوٹوں کا قبضہ ہے اور وفاداروں کو کھڈے لائن لگا کر سرمایہ دار طبقے کو ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں ،انہوں نے عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے اعلان کی بھی مذمت کی اور کہا جس پارلیمنٹ کا وہ خود حصہ ہیں اور جس پارلیمنٹ سے وزارت عظمی کی توقع رکھتے ہیں اسی پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اللہ انصاف کرنے والا ہے اور2018کے الیکشن میں موصوف اس پارلیمنٹ سے باہر ہو جائینگے،انہوں نے کہا کہ جس ملک میں مفادپرست اقتدار کی ہوس لئے پھر رہے ہیں وہ ملک باچا خان بابا کی کاوشوں اور قربانیوں سے آزاد ہوا ہے ، اس وقت صرف خدائی خدمت گاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کا راستہ روکنے والی واحد جماعت اے این پی ہے اورکسی مفاد پرست نے اس وقت کالاباغ ڈیم کی مخالفت نہیں کی تھی، اسی طرح ملک میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے شب خون مارا تو اے این پی نے کسی غیر جمہوری عمل کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف ڈٹی رہی،صوبائی صدر نے کہا کہ تمباکو سیس کی رقم صرف صوابی پر خرچ کرنے کی منظوری دینے کا سہرا اے این پی کے سر ہے جبکہ آج صوابی کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے اور ضلع میں ہمارے تمام منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے اور اے این پی دوبارہ اقتدار میں آکر این ایف سی ایوارڈ حاصل کرے گی اور وفاق سے صوبے کے تمام حقوق حاصل کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے اور موٹر وے قرضوں پر نہیں بنائیں گے بلکہ صوبے کو معاشی طور پر اتنا مضبوط کر دیں گے کہ بیرونی سرمایہ کار خود یہاں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے،انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کی بجائے خود روزگار سکیموں کو ترجیح دینگے اور اس مقصد کیلئے نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ عوام اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائیں اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں۔